امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ فی الحال ایران میں امریکی برّی فوج بھیجنے پر غور کرنا "وقت کا زیاں" ہوگا۔
این بی سی نیوز کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ فی الحال امریکی برّی فوج کو ایران بھیجنے کا خیال وقت ضائع کرنے کے مترادف ہو گا اور ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے متنبہ کیا ہے کہ ایسی کوئی بھی کارروائی حملہ آوروں کے لیے آفت ثابت ہوگی۔
این بی سی کے لئے ٹیلی انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا ہے کہ "ان کا سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔ بحری بیڑہ ختم ہو گیا ہے لہٰذا برّی کاروائی کا سوچنا وقت کا اسراف ہو گا"۔
ٹرمپ نے اس سے قبل وزیر خارجہ عباس عراقچی کے اس بیان کو کہ ایران امریکی یا اسرائیلی برّی حملے کے لیے تیار ہے ایک "کھوکھلا بیان" قرار دیا ہے۔
ٹرمپ نے ایرانی انتظامی ساخت کو ختم کرنےکا ایما دیتے ہوئے کہا ہے کہ "ہم تیزی سے اندر داخل ہو کر سب کچھ صاف کرنا چاہتے ہیں۔ہم کوئی ایسا شخص نہیں چاہتے جو ملک کو دس سال کے عرصے میں دوبارہ تعمیر کر دے"۔
انہوں نے کسی نئے لیڈر کے بارے میں سوچ کا اظہار ضرور کیا ہےلیکن کوئی خاص نام نہیں بتایا۔
ہفتے کے روز اسرائیل کی امریکہ کے ہمراہ ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ کے نتیجے میں ایران کے دینی لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہیں ایران کی اگلی قیادت کے انتخاب میں مداخلت کرنا پڑے گی۔
اسرائیل کے ایران کے خلاف جنگ کے اگلے مرحلے میں انتظامی ساخت کو نشانہ بنانے کا اعلان کرنے کے بعد جمعہ کے روز تہران پر بھاری حملوں کی اطلاع ملی ہے۔
ٹرمپ بمقابلہ مجتبیٰ خامنہ ای
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو جاری کردہ بیان میں وینزویلا میں مادورو کے بعد قیادت کے انتخاب میں اپنی شمولیت کا حوالہ دیا اور کہا تھا کہ انہیں ایران کے اگلے رہنما کے انتخاب میں بھی ذاتی مداخلت کرنا ہوگی ۔
ایکسئوس کے لئے جاری کردہ بیان میں ٹرمپ نے ہلاک شدہ سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے بیٹے اور جانشینی کے امیدوار 'مجتبیٰ خامنہ ای' کو 'غیر اہم شخص' قرار دیا ہے۔
ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ وہ ایسا جانشین قبول نہیں کریں گے جو خامنہ ای کی پالیسیوں کو جاری رکھے کیونکہ ایسا ہونے کی صورت میں پانچ سال بعد امریکہ دوبارہ جنگ میں پھنس جائے گا۔
واضح رہے کہ ایران نے ابھی تک ایک نیا سپریم لیڈر نامزد نہیں کیا۔ مجتبیٰ خامنہ ای کو خامنہ ای کے بچوں میں سب سے زیادہ بااثر سمجھا جاتا ہے اور 2019 میں امریکہ وزارتِ خزانہ نے ان پر پابندیاں بھی عائد کی تھیں۔کہا جاتا ہے کہ مجتبی خامنہ ای 2009 کے متنازع ایرانی انتخابات کے بعد مظاہروں کو دبانے کے لیے استعمال ہونے والی بسیج فورس سے بھی منسلک ہیں۔
ایران کے آئین کی رُو سے 88 رکنی مجلس خبرگان جانشین کے انتخاب کی ذمہ دار ہے۔ جانشین کے انتخاب تک عارضی کونسل عبوری طور پر قیادت کے فرائض سرانجام دیتی ہے۔







