صدر رجب طیب ایردوان نے اپنے ایرانی ہم منصب مسعود پزشکیان سے ایک ٹیلی فون پر حالیہ علاقائی پیش رفت، ترکیہ کی طرف داغے گئے میزائلوں کے حوالے سے بات چیت کی۔
ترکیہ محکمہ اطلاعات نے ایک بیان میں کہا کہ ایردوان نے پیر کو پزشکیان سے کہا کہ ترکیہ کے فضائی حدود کی خلاف ورزی کا 'کوئی بھی جواز نہیں ہو سکتا'، ترکیہ اس کے خلاف تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔'
یہ بات چیت، ترک وزارتِ دفاع کی جانب سے یہ اعلان کہ ایران سے داغا گیا ایک بالسٹک میزائل جو ترکیہ کے فضائی حدود میں داخل ہوا تھا، مشرقی بحیرہ روم میں تعینات نیٹو کے فضائی اور میزائل دفاعی نظاموں کے ذریعے بے اثر کر دیا گیا۔
ایردوان نے اپنے ایرانی ہم منصب کو یہ بھی بتایا کہ وہ تنازعات جن میں ترکیہ فریق نہیں ہے، 'ترکیہ کو منفی طور پر متاثر کر رہے ہیں'۔
ایردوان نے زور دے کر کہا کہ انقرہ ایران کے خلاف 'غیرقانونی مداخلتوں' اور ایران کی خطے کے ممالک کو نشانہ بنانے کی پالیسی کی تائید نہیں کرتا، اور مزید کہا کہ بھائی ملکوں کو نشانہ بنانا 'کسی کے مفاد میں نہیں' ہے اور 'ان کارروائیوں کا خاتمہ ہونا چاہیے'۔
ایردوان نے سفارتکاری کے دروازے دوبارہ کھولنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ترکیہ خطے میں سفارتی رابطوں کے فروغ میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔
بات چیت کے دوران انہوں نے ایران کے جنوبی شہر میناب میں 28 فروری کو ایک لڑکیوں کے اسکول پر ہونے والے مہلک حملے پر 'دلی افسوس' کا بھی اظہار کیا۔
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ امریکہ اس حملے کی 'تحقیق' کر رہا ہے، جب کہ اسرائیل نے ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔
امریکی-اسرائیلی حملے ایران کے خلاف 28 فروری کو شروع ہوئے، جن میں رہنماِ اعلیٰ علی خامنہ ای اور اعلیٰ سکیورٹی حکام ہلاک ہو گئے۔
ایردواان نے خامنہ ای کی وفات پر دوبارہ تعزیت کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مجتبیٰ خامنہ ای کے بطور ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ منتخب ہونے سے خطے میں امن و استحکام میں مدد ملے گی۔
اپنی طرف سے پزشکیان نے کہا کہ جو میزائل ترکیہ کے فضائی حدود میں داخل ہوئے وہ ایرانی ماخذ کے نہیں تھے اور ایرانی حکام اس واقعے کی جامع تحقیقات کریں گے۔














