ایلون مسک نے اسپیس ایکس اور ٹیسلا کو یکجا کرنے کی حمایت کی ہے۔
راکٹ اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنی 'اسپیس ایکس' کی عوامی سطح پر حصص کی پہلی فروخت کے بعد اپنی سہ ماہی آمدنی میں منافع ظاہر کرنے کے بعد بروز منگل ایلن مسک نے ایک بیان جاری کیا ہے۔ بیان میں انہوں نے اسپیس ایکس اور ٹیسلا کو ایک ہی کمپنی بنانے کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔
مسک نے کہا ہے کہ حصص مالکان کے مطالبے پر دونوں کمپنیوں میں آزاد ڈائریکٹروں پر مشتمل خصوصی کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں، جو انضمام کی تجویز کا جائزہ لے رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ مفادات کے ٹکراؤ کے باعث وہ ان مذاکرات میں حصہ نہیں لے سکتے کیونکہ وہ دونوں کمپنیوں کے منتظمِ اعلیٰ ہیں۔
واضح رہے کہ 30 جون تک مسک کے پاس اسپیس ایکس کے 48.4 فیصد حصص تھے لیکن خصوصی ’’ حقِّ رائے دہی‘‘ کے حامل حصص کے ذریعے کمپنی میں ان کی ووٹنگ طاقت 82 فیصد سے زیادہ ہے۔ دوسری طرف ٹیسلا میں ان کے حصص کا تناسب تقریباً 20 فیصد ہے۔
خصوصی کمیٹیاں تاحال کسی معاہدے کی شرائط پر متفق نہیں ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ، ممکنہ انضمام کے لیے ٹیسلا کے حصص کی اکثریت کی حمایت درکار ہوگی۔ مسک نے اس شرط کو ’’ایک بہت بڑی رکاوٹ‘‘ قرار دیا ہے۔
اسپیس ایکس کا مصنوعی ذہانت کا شعبہ، جسے اب کمپنی ’’سپر انٹیلی جنس‘‘ (Super Intelligence) کا نام دیتی ہے، اس تبدیلی کا بنیادی محرک بن کر سامنے آیا ہے۔ اس شعبے کی آمدنی نو گنا سے زیادہ بڑھ کر 7.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جس کے نتیجے میں یہ اسٹارلنک کو پیچھے چھوڑ کر کمپنی کا سب سے بڑا ذریعۂ آمدنی بن گیا۔
























