کئی بھارتی ریاستوں نے جنوبی ایشیائی ملک کے کئی حصوں میں شدید گرمی کے باعث ریلیف اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
بھارتی محکمہ موسمیات نے بدھ کو ایک اعلامیہ میں کہا ہے کہ سوائے ہمالیائی خطے، شمال مشرقی بہار اور شمال مشرقی بھارت کے بیشتر حصوں میں یومیہ درجہ حرارت 40-46°C کے درمیان رہا ہے۔ محکمے نے کہا کہ سب سے زیادہ درجہ حرارت 47.6°C پیر کو شمالی اتر پردیش کے علاقے بندا میں ریکارڈ کیا گیا۔
محکمے نے کہا" بھارت کے مرکزی علاقوں میں گرمی کی لہر کے برقرار رہنے کا امکان ہے اور اس کے بعد کمی متوقع ہے۔"
موسمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سال بھارت میں گرمی کی لہر بہت جلد آ گئی ہے۔
اسکائے میٹ محکمہ موسمیات کے نائب صدر مہیش پلوات نےانادولو کو بتایا، "اس کی متعدد وجوہات ہیں، جن میں خشک موسم شامل ہے۔"
انہوں نے کہا کہ موسم میں تبدیلی کی توقع کے باعث بدھ سے ریلیف متوقع ہے۔
شدید گرمی نے معمول کی زندگی متاثر کیا ہے، توکئی بھارتی ریاستوں نے تدابیر کا اعلان کیا ہے۔
رواں ماہ کےاوائل میں، بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے حکام نے اسکولوں کے لیے کئی اقدامات کا اعلان کیا، جن میں گرمی کے دوران طلبہ کو باقاعدگی سے پانی پینے کی ترغیب دینے کے لیے گھنٹی بجانے کا طریقہ بھی شامل ہے۔
ملازمین کے لیے لازمی آرام کا وقت
دہلی کی وزیرِ اعلیٰ ریخا گپتا نے کہا کہ عوامی حفاظت یقینی بنانے کے لیے تمام محکموں کو تفصیلی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
گپتا کے اعلان کردہ اقدامات میں دوپہر 1 تا 4 بجے ملازمین کے لیے لازمی آرام کا وقت، ساتھ ہی پانی اور سایہ کے انتظامات شامل ہیں۔
گپتا نے کہا کہ اسکولوں میں بچوں کے لیے ٹھنڈا پانی فراہم کرنا اولین ترجیح ہوگی، اور ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ بس اسٹاپس پر پانی کے کاؤنٹر نصب کرے گا۔
دیگر ریاستوں نے بھی اقدامات شروع کیے ہیں، جن میں اسکول کے اوقات میں تبدیلی شامل ہے، جبکہ مشرقی بھارتی ریاست اوڑیسا کے حکام نے گرمی کے پیشِ نظر اسکولوں میں پیر سے موسم گرما کی تعطیلات کا اعلان کیا ہے۔
اس ریاست میں جاری مردم شماری کے عمل میں شامل دو اسکول اساتذہ کی ُلو لگنے سے موت بھی واقع ہوئی ہے۔
ملک کےبیشتر حصوں میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے پیشِ نظر ڈاکٹروں نے عوام سے احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔
شمالی بھارت کے سانس کی بیماریوں کے ماہر ڈی بہیرا نے آنادولو کو بتایا، “درجہ حرارت کے پیشِ نظر لوگوں کو احتیاط کرنی چاہیے۔ کمزور طبقے مثلاً بزرگ افراد اور دیگر افراد کو زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔”
چند ہسپتالوں نے مریضوں کو زیادہ دیکھ بھال فراہم کرنے کی کوششیں بڑھا دی ہیں۔ نئی دہلی میں رام منوہر لوہیا ہسپتال نے مریضوں سے نمٹنے کے لیے مخصوص ہیٹ اسٹروک یونٹ قائم کیا ہے۔












