امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے بڑھتے ہوئے اثرات کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور وال اسٹریٹ میں حصص کی قیمتیں گر گئی ہیں۔
ایران کی حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرۂ احمر میں تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانے کے بعد جمعرات کو بین الاقوامی معیار کے برینٹ خام تیل کی قیمت جمعرات کو 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس حملے نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کو ایک نئے محاذ تک پھیلا دیا ہے۔
جدید ٹیکنالوجیوں پر بھاری سرمایہ کاری اخراجات کے باعث سرمایہ کاروں میں بڑھتی ہوئی تشویش کے نتیجے میں الفابیٹ کے حصص تقریباً 6 فیصد گر گئے، جبکہ ٹیسلا کے حصص میں 10 فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
دن کے آغاز سےتقریباً 15 منٹ بعد ڈاؤ جونز صنعتی انڈیکس 0.8 فیصد کمی کے ساتھ 51 ہزار 783.21 پوائنٹس پر آ گیا۔
اسی طرح، ایس اینڈ پی 500 انڈیکس 0.8 فیصد گر کر 7 ہزار 441.90 پوائنٹس پر پہنچ گیا، جبکہ ٹیکنالوجی کمپنیوں پر مشتمل نیسڈیک کمپوزٹ انڈیکس 1.5 فیصد کمی کے ساتھ 25 ہزار 310 پوائنٹس تک نیچے آ گیا۔
کریسٹ کیپیٹلکے جیک ایبلن نے تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو بڑھتی ہوئی تشویش قرار دیتے ہوئے کہا: ہے کہ"سرمایہ کار اس بات پر فکر مند ہیں کہ فی الحال تنازعہ ختم ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے اور تیل کی بلند قیمتیں کئی مہینوں تک عالمی معیشت پر دباؤ ڈال سکتی ہیں۔"
ٹیکنالوجی کمپنیوں کے مالی نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے ایبلن نے کہا ہے کہ"اس وقت سرمایہ کاروں میں امید اور شکوک کے درمیان توازن تھا لیکن اب یہ توازن کچھ زیادہ شکوک کی جانب جھکتا دکھائی دے رہا ہے۔"















