دنیا
2 منٹ پڑھنے
اسپین: ٹرمپ سے اپیلیں کرتے رہنا بالکل بے فائدہ ہے
یورپی یونین میں یہ احساس بتدریج عام ہوتا جا رہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اپیلیں کرتے رہنا بالکل بے فائدہ ہے: ارنسٹ ارٹاسون
اسپین: ٹرمپ سے اپیلیں کرتے رہنا بالکل بے فائدہ ہے
"میرا خیال ہے کہ ایک ایسا وقت آتا ہے جب جمہوری ممالک جو بین الاقوامی قانون اور کثیرالجہتی کے حامی ہیں، انہیں اپنا موقف اختیار کرنا پڑتا ہے،" ارٹاسن نے کہا۔ / AFP

اسپین کے وزیرِ ثقافت ارنسٹ ارٹاسون نے  کہا ہے کہ یورپی یونین میں یہ احساس بتدریج عام ہوتا جا رہا ہے کہ ایران پر امریکی۔اسرائیلی حملوں کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اپیلیں کرتے رہنا بالکل بے فائدہ ہے۔

ارٹاسون نے چینل 4 کے لئے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "میرے خیال میں یورپی سطح پر  اس  احساس میں مستقل اضافہ ہو رہا ہے کہ  ڈونلڈ ٹرمپ کے تکبر یا ذاتی مفادات سے اپیلیں کرتے رہنا بالکل بے فائدہ ہے۔ میرا مطلب ہے  یہ کام  ختم ہو چکا ہے"۔

انہوں نے زور دیا ہے  کہ "ہم محض ڈونلڈ ٹرمپ کو خوش کرنے کے لئے اپنی اقدار اور مفادات کو پسِ پُشت نہیں ڈال سکتے"۔

اس سوال کے جواب میں  کہ میڈرڈ، واشنگٹن کے ایران پر حملے کی مخالفت کیوں کر رہا ہے؟ ارٹاسون نے کہا ہے کہ "میرے خیال میں وہ وقت آ گیا ہے جب بین الاقوامی قانون اور کثیرالجہتی نظام پر یقین رکھنے والے جمہوری ممالک کو آگے آنا ہوگا۔ ہمارے پاس کوئی اور انتخاب نہیں ہے"۔

انہوں نے کہا ہے کہ اگر بار بار کی خلاف ورزیوں اور بین الاقوامی قانون کو نظر انداز کرنے والی حرکتوں  کو غیر اہم سمجھا جاتا رہا تو جو  سوال پیدا ہوتا ہے وہ  یہ کہ "ہم اکیسویں صدی میں کس قسم کی دنیا تعمیر کریں گے؟کسی مرحلے پر ہمیں 'نہیں' کہنا ہوگا،'رُک جاو 'کہنا ہو گا"۔

ارنسٹ ارٹاسون  نے یہ بھی کہا کہ اسپین، واشنگٹن کے تجارتی دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں ہے۔ ایسی دھمکیوں کو سنجیدگی سے لینا "بہت مشکل" ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ "اس وقت ہم بحیثیت حکومت تناؤ میں کمی کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ اس لمحے جاری مختلف عسکری کارروائیوں کو روکنے کی کوشش کی جائے اور بات چیت اور مذاکرات کو دوبارہ شروع کیا جائے۔ یہی ہمارا ہدف ہے"۔

یہ بیانات واشنگٹن کے، اسپین پر، مکمل تجارتی پابندی کی دھمکیوں  سے متعلقہ اعلانات کے بعد جاری کئے گئے ہیں۔ اسپین  حکومت کا، امریکی فوج کو ایران کے خلاف حملوں کے لیے ملکی اڈوں کے استعمال کی اجازت دینے سے، انکار دونوں ملکوں میں تناؤ میں اضافے کا سبب   بنا ہے۔

اسرائیل اور امریکہ نے ہفتے کے روز سے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔جوابی کاروائی میں  ایران نے ڈرون اور میزائل حملے کئے ہیں۔ ان حملوں  کا ہدف اسرائیل اور خلیجی ممالک تھے  کہ جہاں امریکی فوجی اثاثے موجود ہیں۔

دریافت کیجیے
روس کے وائلڈبیریز ہب پر ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی
یونیسف: غزہ میں فائر بندی کے بعد سے 300 بچوں قتل کئے جا چُکے ہیں
پاکستان: وزیرِ اعظم شہباز شریف سعودی عرب کے دورے پر
سلامتی کونسل کی طرف سے پاکستان میں ہونے والے خونریز دہشت گردانہ حملے کی مذّمت
ایرانی مذاکرات کار: امریکہ 'لوپ تھیٹر ڈپلومیسی' میں مصروف ہے
حوثی حملوں میں 58 یمنی فوجی ہلاک، سعودی عرب میں شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات
اسرائیلی آبادکاروں کا فلسطینیوں پر حملہ،متعدد زخمی
جاپان: ہیروشیما پر امریکی ایٹمی بمباری کی 81 ویں سالانہ یاد
جاپان کی وزیر اعظم کا غیر جوہری اصولوں کو برقرار رکھنے کے واضح وعدے سے گریز
سی آئی اے نے کیوبا کے لیے پوشیدہ ٹاسک فورس تشکیل  دے دی
یکاترینبرگ کے قریب کار دھماکہ، روسی ڈرون بنانے والی کمپنی کے سربراہ شدید زخمی
لبنانی مہاجرین اپنے گھروں کو واپس لوٹنا شروع ہو گئے ہیں: اقوامِ متحدہ
امریکا نے برازیل کے سفیر کے ویزے کو منسوخ کر دیا
دنیا جاپان سے ہوشیار رہے: شمالی کوریا
ترکیہ قومی خفیہ سروس کے ڈائریکٹر جنرل کی لیبیائی عہدیداروں سے انقرہ میں مذاکرات