امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں طیارہ بردار محارب بحری جہازوں سمیت اضافی فوجی تعیناتی کے بعد ایران، واشنگٹن کے ساتھ معاہدہ کرنے کی کوششوں میں ہے۔
پیر کو Axios کے لئے انٹرویو میں ٹرمپ نے ایران کے ساتھ صورتحال کی "غیر یقینی" کا ذکر کیا اور کہا ہے ایک بڑا بحری بیڑا ایران کے قریب پہنچ گیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ "وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ میں جانتا ہوں۔ انہوں نے متعدد دفعہ کال کی ہے۔ وہ بات کرنا چاہتے ہیں"۔
امریکہ مرکزی کمانڈ دفتر نے بھی جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ امریکہ نے، علاقائی سلامتی و استحکام کے ساتھ تعاون کی خاطر، 'یو ایس ایس ابراہیم لنکن طیارہ بردار محارب بحری بیڑے کو مشرقِ وسطیٰ بھیج دیا ہے ۔
گذشتہ ماہ ایران میں احتجاجی مظاہرے پھوٹ نکلے تھے۔ یہ مظاہرے 28 دسمبر کو تہران کے گرینڈ بازار سے شروع ہوئے۔ مظاہرین کے احتجاجی موضوعات ایرانی ریال کی قدر میں تیزی سے کمی اور بد تر ہوتے اقتصادی حالات تھے۔ مظاہرے مختصر وقت میں ملک کے کئی شہروں تک پھیل گئے۔
ٹرمپ نے بارہا دھمکی دی ہے کہ اگر مظاہرین کو پھانسی دی گئی تو وہ "سخت کارروائی" کریں گے۔ تاہم بعدازاں اپنے لہجے میں نرمی لاتے ہوئے اشارہ دیا ہےکہ تہران نے سینکڑوں طے شدہ سزاؤں کو منسوخ کر دیا ہے۔
ایرانی حکام نے مظاہرین کو "مسلح باغی" قرار دیا، امریکہ اور اسرائیل کو ان افراد کی حمایت کا قصوروار ٹھہرایا اور خبردار کیا ہے کہ کسی بھی امریکی حملے کا جواب "فوری اور وسیع پیمانے کا " ہوگا۔
یاد رہے کہ گذشتہ ماہِ جون میں، امریکہ کے زیرِ سرپرستی، اسرائیل نے ایران کے خلاف 12 روزہ جنگ شروع کی تھی۔ جنگ میں تہران کی جانب سے بھی جوابی ڈرون اور میزائل حملے کیے گئے تھے۔ جنگ، واشنگٹن کی طرف سے اعلانِ جنگ بندی کے ساتھ ختم ہوئی تھی۔













