ایران نے تین ایرانی خام تیل کے ٹینکرز پر امریکی حملوں کو "غیر قانونی اور جارحانہ" قرار دے کر ان کی شدید مذمت کی ہے اور عزم ظاہر کیا ہے کہ اگر واشنگٹن نے ایرانی جہازوں پر اپنے حملے جاری رکھے تو اس کے نتیجے میں "مزید شدید" جوابی حملے کیے جائیں گے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا، "یہ غیر قانونی اور جارحانہ اقدامات، جو ایران کے خلاف امریکی فوجی جارحیت کے تسلسل اور ہمارے وطن کے خلاف بحری ناکہ بندی اور معاشی جنگ کے حصے کے طور پر کیے گئے ہیں، یو این چارٹر کے آرٹیکل 2، پیراگراف 4 کی کھلی خلاف ورزی، ایک جنگی جرم، اور بین الاقوامی امن اور تجارتی جہاز رانی کی سلامتی کے لیے ایک واضح خطرہ ہیں۔"
وزارت نے امریکی "سرکاری دہشت گردی اور جارحانہ اقدامات" کے خلاف اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کا "مستقل مزاجی سے دفاع" کرنے کے ایرانی عزم پر زور دیا۔
بیان میں کہا گیا کہ ایسے اقدامات میں "مسلسل بحری ناکہ بندی اور معاشی جنگ کے ساتھ ساتھ تجارتی جہازوں پر حملے" شامل ہیں۔
وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ خطے میں امریکہ کے مسلسل "جارحانہ اور مداخلت پسندانہ اقدامات" کے نتائج کی ذمہ داری واشنگٹن اور اس کے "سہولت کاروں اور شراکت داروں" پر ہوگی۔
دریں اثنا، ایرانی فوج نے یہ عزم ظاہر کیا ہے کہ اگر واشنگٹن نے ایرانی جہازوں پر حملے جاری رکھے تو امریکی بحری جہازوں پر "مزید شدید" جوابی حملے کیے جائیں گے۔
خاتم الانبیاء سینٹرل کمانڈ نے کہا، "امریکی فوج کو انتباہ دیا جاتا ہے کہ اگر ایرانی جہازوں کے خلاف شرپسندانہ اقدامات، عدم تحفظ، ہراسانی اور ایران کی بحری ناکہ بندی کا سلسلہ جاری رہا، تو خطے میں امریکی فوجی جہازوں کے خلاف ایران کی مسلح افواج کے حملے پہلے سے کہیں زیادہ شدید ہوں گے۔"
کمانڈ نے مزید کہا کہ جوابی آپریشنز کے دائرہ کار کو وسیع بھی کیا جا سکتا ہے۔
یہ انتباہات امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے اس بیان کے چند گھنٹے بعد سامنے آئے ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ خطے کے پانیوں میں دو امریکی بحریہ کے جنگی جہازوں پر ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے بیلسٹک میزائل داغے جانے کے بعد امریکی افواج نے ایران کے تین خام تیل کے ٹینکرز کو نشانہ بنا کر ناکارہ کر دیا ہے۔
28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے آغاز کے بعد سے علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جس کے جواب میں تہران نے خطے بھر میں اسرائیل اور امریکی مفادات کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔
واشنگٹن اور تہران نے جون میں آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کی آزادی سے متعلق ایک مفاہمت کی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے تھے، لیکن آبنائے میں سیکیورٹی انتظامات پر اختلافات کے باعث اس کے نفاذ کا عمل تعطل کا شکار ہو چکا ہے۔






















