مشرق وسطی
3 منٹ پڑھنے
ایران:امریکی حملوں کی مذمت،جوابی کاروائی کی دھمکی
ایران نے تین ایرانی خام تیل کے ٹینکرز پر امریکی حملوں کو "غیر قانونی اور جارحانہ" قرار دے کر ان کی شدید مذمت کی ہے اور عزم ظاہر کیا ہے کہ اگر واشنگٹن نے ایرانی جہازوں پر اپنے حملے جاری رکھے تو اس کے نتیجے میں "مزید شدید" جوابی حملے کیے جائیں گے۔
ایران:امریکی حملوں کی مذمت،جوابی کاروائی کی دھمکی
ایران۔امریکہ / AFP

ایران نے تین ایرانی خام تیل کے ٹینکرز پر امریکی حملوں کو "غیر قانونی اور جارحانہ" قرار دے کر ان کی شدید مذمت کی ہے اور عزم ظاہر کیا ہے کہ اگر واشنگٹن نے ایرانی جہازوں پر اپنے حملے جاری رکھے تو اس کے نتیجے میں "مزید شدید" جوابی حملے کیے جائیں گے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا، "یہ غیر قانونی اور جارحانہ اقدامات، جو ایران کے خلاف امریکی فوجی جارحیت کے تسلسل اور ہمارے وطن کے خلاف بحری ناکہ بندی اور معاشی جنگ کے حصے کے طور پر کیے گئے ہیں، یو این چارٹر کے آرٹیکل 2، پیراگراف 4 کی کھلی خلاف ورزی، ایک جنگی جرم، اور بین الاقوامی امن اور تجارتی جہاز رانی کی سلامتی کے لیے ایک واضح خطرہ ہیں۔"

وزارت نے امریکی "سرکاری دہشت گردی اور جارحانہ اقدامات" کے خلاف اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کا "مستقل مزاجی سے دفاع" کرنے کے ایرانی عزم پر زور دیا۔

بیان میں کہا گیا کہ ایسے اقدامات میں "مسلسل بحری ناکہ بندی اور معاشی جنگ کے ساتھ ساتھ تجارتی جہازوں پر حملے" شامل ہیں۔

وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ خطے میں امریکہ کے مسلسل "جارحانہ اور مداخلت پسندانہ اقدامات" کے نتائج کی ذمہ داری واشنگٹن اور اس کے "سہولت کاروں اور شراکت داروں" پر ہوگی۔

دریں اثنا، ایرانی فوج نے یہ عزم ظاہر کیا ہے کہ اگر واشنگٹن نے ایرانی جہازوں پر حملے جاری رکھے تو امریکی بحری جہازوں پر "مزید شدید" جوابی حملے کیے جائیں گے۔

خاتم الانبیاء سینٹرل کمانڈ نے کہا، "امریکی فوج کو انتباہ دیا جاتا ہے کہ اگر ایرانی جہازوں کے خلاف شرپسندانہ اقدامات، عدم تحفظ، ہراسانی اور ایران کی بحری ناکہ بندی کا سلسلہ جاری رہا، تو خطے میں امریکی فوجی جہازوں کے خلاف ایران کی مسلح افواج کے حملے پہلے سے کہیں زیادہ شدید ہوں گے۔"

کمانڈ نے مزید کہا کہ جوابی آپریشنز کے دائرہ کار کو وسیع بھی کیا جا سکتا ہے۔

یہ انتباہات امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے اس بیان کے چند گھنٹے بعد سامنے آئے ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ خطے کے پانیوں میں دو امریکی بحریہ کے جنگی جہازوں پر ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے بیلسٹک میزائل داغے جانے کے بعد امریکی افواج نے ایران کے تین خام تیل کے ٹینکرز کو نشانہ بنا کر ناکارہ کر دیا ہے۔

28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے آغاز کے بعد سے علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جس کے جواب میں تہران نے خطے بھر میں اسرائیل اور امریکی مفادات کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔

واشنگٹن اور تہران نے جون میں آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کی آزادی سے متعلق ایک مفاہمت کی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے تھے، لیکن آبنائے میں سیکیورٹی انتظامات پر اختلافات کے باعث اس کے نفاذ کا عمل تعطل کا شکار ہو چکا ہے۔



 

دریافت کیجیے
اتحادی افواج کا یمن میں  آپریشن، حوثیوں کے ٹھکانوں پر حملے
"مکہ معاہدہ" سیکریٹری جنرل نعمان محمود ہونگے
حماس کے رہنما کے قتل کی ناکام کوشش  عیسائی ماں اور بیٹی ہلاک
یمنی فوج کے حوثیوں کے اہم مراکز پر حملے
حکومتِ یمن: "طائز میں حوثیوں کے ساتھ گھمسان کی جنگ ہو رہی ہے"
اسرائیل کا حملہ، صحافی النجار ہلاک
فلائی دبئی : پائلٹوں کی لڑائی کی وجہ سے پرواز سعودی عرب میں اتر گئی
اسرائیل کا فضائی حملہ، تین فلسطینی ہلاک
ایرانی میڈیا: "ایران کے پاس امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی کوئی منصوبہ بندی نہیں"
ایران کی امریکہ کو آبنائے ہرمز کو 7 دنوں کے اندر دوبارہ کھولنے کے لیے ایک نئی تجویز
ایران: "اگر امریکی حملے جاری رہیے تو ہم تنازع کو بحر ہند تک پھیلا دیں گے"
وزیر فیدان نے ترکیہ-شام-سعودی عرب وزرائے خارجہ اجلاس کی میزبانی کی
ایرانی اسپیکر "ٹرمپ کو ایک بنیادی تہذیب، قومی اور مذہبی مزاحمت کا سامنا ہے"
ایران نےمذاکرات میں دوبارہ شامل ہونے کا شرط نامہ پیش کردیا
اسرائیل کا غزہ پر حملہ، چار فلسطینی ہلاک
ایران: تہران اور واشنگٹن کے درمیان بین الاقوامی سطح پر سفارتی   اور ثالثی کی کوششیں تا حال جاری
ایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی،  لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
امریکہ نے محمود عباس کو ویزہ دینے سے انکار کر دیا
امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی حملوں کے بعد بھاری نقصانات کی اطلاع
ایران: ہم نے جزیرہ قشم  کے اوپر ایک امریکی ڈراون کو گرا دیا ہے