ترکیہ
3 منٹ پڑھنے
ترکیہ کو علاقائی 'آگ کی کھائی' سے باہر رکھنا ہماری اولین ترجیح ہے: ایردوان
ترک صدر ایردوان نے کہا ہے کہ ہم "اشتعال انگیزی" کا آلہ کار نہیں بنیں گے، صدر کا یہ بیان ایران سے فائر کیے گئے تیسرے میزائل کونیٹو کی طرف سے تباہ کیے جانے کے بعد آیا ہے۔
ترکیہ کو علاقائی 'آگ کی کھائی' سے باہر رکھنا ہماری اولین ترجیح ہے: ایردوان
"ترکی اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے تمام خطرات کے خلاف ضروری اقدامات کر رہا ہے، جیسا کہ اس نے گزشتہ رات کیا،" انہوں نے کہا۔ / AA
3 گھنٹے قبل

 صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ  علاقائی تنازعات کے تیزی سے پھیلنے سے ترکیہ کو دور رکھنا حکومت کی اولین ترجیح ہے،  انہوں نے ملک کو جنگ میں گھسیٹنے کی کوشش کرنے والوں کے حوالے سے محتاط رہنے کی تلقین کی۔

ایردوان نے جمعہ کو کہا کہ "ہمارے ملک کو اس آگ کے کنویں سے دور رکھنا ہماری اولین ترجیح ہے اور زور دیا کہ انقرہ ایسی سازشوں، جالوں اور اکساؤں کے سامنے بہت احتیاط کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے جو ملک کو جنگ میں کھینچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ بیانات ایران پر حملوں اور ایران کے جوابی حملوں کے بعد علاقائی کشیدگی میں اضافے کے دوران سامنے آئے، جس میں نیٹو نے ایران کی طرف سے ترکی کی جانب داغا گیا تیسرا میزائل مار گرایا۔

ترک صدر نے کہا کہ ترکیہ نے پہلے ہی اپنی سرزمین کو نشانہ بنائے جانے والے خطرات کے خلاف کارروائی کی ہے اورہم  اپنی فضائی حدود کا دفاع جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا"گزشتہ دن کی طرح ترکیہ نے اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے تمام خطرات کے خلاف ضروری اقدامات کیے ہیں۔"

فرقہ وارانہ کشیدگی کے بارے میں انتباہ

ایردوان نے شہریوں سے کہا کہ وہ اس بحران کے دوران فرقہ وارانہ اور نسلی تقسیم کو ہوا دینے کی کوششوں کے خلاف چوکنے رہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ایران پر جاری حملوں اور وسیع تر علاقائی عدم استحکام کے درمیان ایسے تناؤ  دانستہ طور  پر بھڑکائے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا"مارے شہریوں کو ممکنہ طور پر بھڑکائے جانے والے فرقہ وارانہ اور نسلی کشیدگی کے پیشِ نظر محتاط رہنا چاہیے۔"

صدر نے مزید کہا کہ بدلتا ہوا جغرافیائی سیاسی منظرنامہ ترکیہ کے لیے تیز تر اور زیادہ حکمتِ عملی کے ساتھ کام کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔

"ہم ایک ایسے نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں جس میں ہمیں رفتار تیز کرنی ہوگی، زیادہ چالاک اور پیش قدم ہونا ہوگا۔"

انسانیت کا ضمیر

ایردوان نے خاص طور پر غزہ میں انسانی بحرانوں پر بین الاقوامی ردِعمل میں اختیارات پر بھی تنقید کی۔

انہوں نے کہا کہ بعض ممالک ظلم اور نسل کشی کو نظر انداز کر رہے ہیں، جبکہ کچھ کھلے طور پر ایسے عناصر کی حمایت کرتے ہیں جو تشدد کے ذمہ دار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ"ورچوئل دنیا کے جعلی ضمیر کی وجہ سے یتیم فلسطینی اور شامی بچوں کی تکلیف ایک اکیلے پینگوئن سے کم توجہ حاصل کر سکی۔"

اردوان نے مزید کہا کہ"ضمیر کے بحران سے دوچار ایک دنیا میں، ہم سب اس جدوجہد میں متحد ہیں کہ ترکیہ انسانیت کا ضمیر بنے۔"