مشرق وسطی
3 منٹ پڑھنے
بیلجیئم: جنگ بندی میں لبنان کو بھی شامل کیا جائے
اسرائیل اور ایران کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کا دائرہ لبنان تک پھیلایا جائے: وزیر خارجہ میکسم پریوو
بیلجیئم: جنگ بندی میں لبنان کو بھی شامل کیا جائے
9 اپریل 2026 کو بیروت، لبنان کے علاقے المزراع میں بدھ کو کیے گئے اسرائیلی حملے کے مقام پر لوگ جلی ہوئی گاڑیوں کے درمیان چل رہے ہیں۔ / Reuters
10 گھنٹے قبل

اسرائیلی افواج نے بدھ کے روز جنوبی بیروت میں بیلجیئم کے سفارت خانے سے محض چند سو میٹر کے فاصلے پر حملے کیے۔ یہ حملے اس وقت ہوئے جب بیلجیئم کے وزیر خارجہ میکسم پریوو شہر کے دورے پر تھے اور سفارت خانے کی عمارت میں موجود تھے۔

پریوو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' سے جاری کردہ بیان میں اسرائیل اور ایران کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کے دائرہ کار کو لبنان تک پھیلانے کا مطالبہ کیا اوران حملوں کو فوری طور پر بند کرنے پر زور دیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ "میں اپنے وفد کے ساتھ سفارت خانے میں موجود تھا، ہم اس جگہ سے محض چند سو میٹر دور تھے جہاں میزائل گرے ہیں۔ یہ حملے بند ہونے چاہئیں۔ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں لبنان کو بھی شامل کیا جانا چاہیے!"

پریوو نے لبنان کے صدر جوزف عون کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے لیے باضابطہ مذاکرات شروع کرنے کی تجویز کی تعریف کی اور کہا  ہےکہ حملوں سے قبل کوئی انتباہ جاری نہ کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ بندی کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ، وزیر خارجہ نے اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں بڑھتی ہوئی شہری ہلاکتوں اور تباہی کے پیش نظر لبنانی حکام کے لیے بیلجیئم کی حمایت کا اعادہ کیا۔

جنگ بندی کی صورتحال

پاکستان کی ثالثی کے بعد، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا اور ایک "قابل عمل" 10 نکاتی مذاکراتی تجویز کا تذکرہ کیاتھا۔ یہ اعلان ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی گئی اس مہلت کے ختم ہونے سے دو گھنٹے سے بھی کم وقت پہلے سامنے آیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ "ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے اور معاہدے کو قبول کرے، ورنہ اسے بڑی تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔"

خطے میں کشیدگی اس وقت بڑھی جب 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا، جس کے جواب میں ایران نے ان ممالک کو نشانہ بنایا جہاں اسرائیل اور امریکہ کے فوجی اڈے موجود تھے۔ لبنان اس مشرق وسطیٰ کی جنگ میں 2 مارچ کو اس وقت شامل ہوا جب امریکہ اور اسرائیل کے حملے میں ایران کے اس وقت کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای جاں بحق ہو گئے، جس کے بعد تہران کے اتحادی گروپ حزب اللہ نے اسرائیلی ٹھکانوں پر میزائل داغنے شروع کر دیے۔

اس کے بعد سے اسرائیل نے لبنان پر اپنے حملوں میں شدت پیدا کر دی ہے اور ملک کے جنوبی حصوں میں اپنی زمینی کارروائیوں کو وسعت دی ہے، جس کے نتیجے میں اب تک 1,530 سے زائد افراد ہلاک اور 10 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

دریافت کیجیے
ترکیہ: مسلح جھڑپ کے بعد تین مشتبہ افراد غیر فعال کر دیئے گئے
اسرائیل: ہم نے شیراز میں ایران کی پیٹروکیمیکل فیکڑی کو نشانہ بنایا ہے
مشرق وسطی امن مذاکرات میں پاکستان کا کردار " کلیدی سطح" تک پہنچ گیا ہے
اسرائیل کا پیٹرو کیمیکل کمپلیکس نشانہ بن گیا
عالمی ادارۂ صحت: غزہ سے طبی انخلاء عارضی طور پر روک دیا گیا ہے
عرب ممالک کی انتہائی مذہب پرست اسرائیلی وزیر کی مسجدِ الاقصیٰ کا معائنہ کرنے پر شدید مذمت
ترکیہ-سعودی عرب معاہدہ۔ٹرانزٹ تجارت کا آغاز
لوہانسک میں یوکریینی حملے سے درجنوں کان کن زیر زمین محصور ہو گئے
غزّہ میں ایسٹر: تصاویر کے آئینے میں
اسرائیلی فائرنگ سے ایک فلسطینی ہلاک جبکہ پانچ زخمی ہوگئے، فائر بندی کے باوجود اسرائیلی حملے جاری
جنوبی کوریا کے صدر کا اظہارِ پشیمانی
تہران پر امریکی اور اسرائیلی حملے، 17 افراد ہلاک
ایران پر تازہ حملے، 25 سے زیادہ افراد ہلاک
اسرائیل نے نسلی صفائی نہ روکی تو مقدر "دی ہیگ" ہوگا:اہود اولمرت
اسرائیل کےجنوبی لبنان پر حملے،20 افراد ہلاک