غّزہ جنگ
2 منٹ پڑھنے
صحافیوں کو غزہ میں داخلے کی اجازت دی جانی چاہیے: ٹرمپ
میں چاہتا ہوں کی صحافیوں کو غزّہ میں داخلے کی اجازت دی جائے گا تاکہ وہ حالات کا مشاہدہ کر سکیں اور علاقے سے خبریں فراہم کر سکیں: ڈونلڈ ٹرمپ
صحافیوں کو غزہ میں داخلے کی اجازت دی جانی چاہیے: ٹرمپ
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ صحافیوں کو غزہ میں جانے کی اجازت ہونی چاہیے۔ / AP

امریکہ کے  صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ "غزّہ میں انسانی حالات کے مشاہدے اور خبروں  کی فراہمی کے لئے صحافیوں کو محصور غزہ میں جانے کی اجازت دی جائے "۔

جمعرات کو اوول آفس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا ہے کہ "میں چاہتا ہوں کی صحافیوں کو غزّہ میں داخلے کی اجازت دی جائے  گا  تاکہ وہ حالات کا مشاہدہ کر سکیں  اور علاقے سے خبریں فراہم کر سکیں"۔

انہوں نے کہا ہے کہ "میں صحافیوں کے غزّہ میں داخلے  کے حق میں ہوں۔ اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں صحافت ایک بہت خطرناک  ذمہ داری ہے لیکن میں چاہوں گا کہ ایسا ہو"۔

یہ بیان ایسے وقت میں دیا گیا  ہے جب دنیا بھر سے 100 سے زائد صحافیوں، فوٹوگرافروں اور جنگی نامہ نگاروں نے غزّہ میں جاری  قتل و غارت گری کی  آزادانہ کوریج کے لیے غیر ملکی صحافیوں  کو علاقے میں  "فوری اور بلا رکاوٹ" داخلے کی اجازت دیئے جانے  کے مطالبے پر مبنی ایک  درخواست پر دستخط کیے ہیں ۔

مذکورہ  درخواست "رائٹ ٹُو رپورٹ" نامی مہم کا حصہ ہے، جسے ایوارڈ یافتہ جنگی فوٹوگرافر آندرے لیون نے شروع کیا تھا۔ اس پر دنیا کے مشہور صحافتی اداروں سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات جیسے الیکس کرافورڈ (اسکائی نیوز)، مہدی حسن، کرسٹیان امان پور (سی این این)، کلاریسا وارڈ، اور معروف جنگی فوٹوگرافر ڈان مککلن نے دستخط کیے ہیں۔

درخواست گزاروں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غیر ملکی صحافیوں کو غزہ میں آزادانہ اور شفاف رپورٹنگ کی اجازت دے اور کہا ہے کہ جنگ کے آغاز سے بین الاقوامی میڈیا پر عائد کی گئی پابندی "عوام کے جاننے کے حق کی کھلی خلاف ورزی" ہے۔

آزادی  صحافت کے گروپوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بارہا اسرائیل سے پابندیاں ہٹانے کی اپیل کی  اور خبردار کیا ہے کہ غزہ سے آزادانہ رپورٹنگ کی غیر موجودگی نے عالمی عوام کو محدود اور  فوجی ذرائع کے منظور شدہ بیانیوں اور مقامی صحافیوں کے کام پر انحصار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ان مقامی صحافیوں کی اکثریت بھی جنگ میں قتل کی جا چُکی ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے اکتوبر 2023 سے جاری  قتل عام  اور نسل کُشی کے بعد سے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ  کو غزہ میں داخل ہونے سے روک رکھا ہے۔

دریافت کیجیے
قالیباف: ہمیں ہمسایہ ممالک سے سیکیورٹی اور اقتصادی تعاون کے پیغامات موصول ہوئے ہیں
امریکی سفیر: شام میں اسرائیلی حملے کے پیچھے غلط معلومات کا ہاتھ تھا
کولمبیا میں زلزلے سے اموات کی تعداد میں اضافہ؛ ترکیہ کی انسانی امداد کی فراہمی میں تیزی
یوکرینی ڈراونز نے روسی علاقے ثمارا میں ایک صنعتی تنصیب اور اوزون گودام کو نشانہ بنایا
ترکیہ کی صدر ایردوان کے خلاف تبصروں پر اسرائیل کی مذمت
ایرانی فوج دفاعی نظریے سے حملہ آور نظریے کی طرف مڑ رہی ہے: فوجی ترجمان
امریکہ: چارٹر طیارے کے حادثے میں تمام 8 افراد ہلاک
روس: ماسکو ایران پر کوئی دباؤ نہیں ڈال رہا
امریکہ: ٹریژری بانڈوں کی پیداوار ایک بار پھر بڑھ گئی
فلسطین: عالمی کمپنیاں اسرائیل کے 'ای 1' منصوبے میں شرکت سے گریز کریں
پاکستان: ڈار۔شیبانی ملاقات، دوطرفہ تعاون و علاقائی صورتحال پر بات چیت
ترکیہ کی زیرِ آب گاڑی نمائش کے لئے پیش کر دی گئی
اسرائیل کی جنوبی لبنان پرگولہ باری
شامی وزیر  خارجہ پاکستان میں، دو طرفہ مذاکرات کریں گے
شمالی چین میں آتشزدگی، 8 افراد ہلاک، 3 زخمی