دنیا
3 منٹ پڑھنے
مصر اور سوڈان: ایتھوپیا بیراج ایک 'خطرہ' ہے
مصر اور سوڈان نے ایتھوپیا کے دریائے نیل پر تعمیر کردہ بیراج کو دونوں ممالک کے لیے "خطرہ" قرار دے دیا
مصر اور سوڈان: ایتھوپیا بیراج ایک 'خطرہ' ہے
ایتھوپیا کا کہنا ہے کہ اسے توانائی کی خود کفالت اور اقتصادی ترقی کے لیے اس ڈیم کی ضرورت ہے۔ / AP Archive

مصر اور سوڈان نے ایتھوپیا کے دریائے نیل پر تعمیر کردہ بیراج کو دونوں ممالک کے لیے "خطرہ" قرار دیا ہے۔

یہ بیان بدھ کے روز قاہرہ میں مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی، وزیر آبپاشی ہانی سویلام اور سوڈان کے نائب وزیر خارجہ عمر صدیق کی زیرِ قیادت وفد  کے درمیان مذاکرات کے بعد جاری کئے گئے اعلامیے کا حصّہ ہے۔

بیان کے مطابق "مذاکرات میں ایتھوپیا  بیراج سے متعلق پیش رفتوں پر بات چیت کی گئی ہے ۔ مذاکراتی فریقین نے اتفاق کیا  ہےکہ ایتھوپیا کا بیراج، بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ یہ بیراج زیریں ممالک کے لیے سنگین نتائج کا سبب بنا ہے اور مشرقی نیل طاس کے استحکام کے لیے مسلسل خطرہ  بنا ہوا ہے۔"

سوڈان ذرائع ابلاغ  کے مطابق  دونوں ممالک نے ایتھوپیا سے اپنی پالیسی تبدیل کرنے اور علاقائی تعاون بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بیان ، ایتھوپیا کے وزیر اعظم ابی احمد کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے  جس میں  انہوں نے کہا تھا کہ ان کا ملک ڈیم کے معاملے میں مصر اور سوڈان کے ساتھ تعاون  کا خواہش مند ہے۔ انہوں نے کہا  ہےکہ ڈیم مکمل ہونے پر  دونوں زیریں ممالک کے لئے  سال بھر پانی کے مستقل بہاؤ کو یقینی بنائے گا، سیلاب کو روکے گا اور کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچائے گا۔

یہ بیان ایک ایسے وقت پر جاری کیا گیا  ہے کہ جب بیراج کو بھرنے اور چلانے کے موضوع پر مصر ، سوڈان اور ایتھوپیا  کے درمیان سخت عدم اختلاف جاری ہے۔ اس ڈیم کی تعمیر 2011 میں شروع ہوئی تھی اور قاہرہ اور خرطوم اسے بھرنے اور اس کا نظام چلانے کے موضوع پر  ایک سہ فریقی قانونی معاہدے کا تقاضا کر رہے ہیں۔

تاہم ایتھوپیا کا کہنا ہے کہ ایسے کسی  معاہدے کی  ضرورت نہیں ہے اور وہ کسی بھی ملک کے مفادات کو نقصان پہنچانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ یہ تنازعہ تین سال تک مذاکرات کی معطلی کا باعث بنا رہا۔  2023 میں بات چیت دوبارہ شروع ہوئی  لیکن 2024 میں دوبارہ تعطل کا شکار ہو گئی۔

ماحولیاتی بحران اور سیاسی عدم استحکام

دریائے نیل 6 ہزار 650  کلومیٹر طویل ہے اور برونڈی، روانڈا، جمہوریہ کانگو، کینیا، یوگنڈا، تنزانیہ، ایتھوپیا، اریٹیریا، جنوبی سوڈان، سوڈان اور مصر پر مشتمل 11 ممالک سے گزرتا ہے ۔

مصر  کی آبی ضروریات کے 90 فیصد کا انحصار دریائے نیل  پر ہے اور ملک کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے  ۔اس قلّت کی متعدد وجوہات میں سے  اہم  ترین وجہ ماحولیاتی بحران ہے۔

سوڈان کو بھی نسبتاً کم درجے میں پانی کے بحران کا سامنا ہے جو زیادہ تر سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ہے۔

مصر اور سوڈان دونوں زیریں ممالک ہیں اورزیریں نیل طاس کے علاقے میں واقع ہیں جہاں بالائی نیل طاس  کے مقابلے میں بارانی سطح کم ہے۔

ایتھوپیا کا موقف ہے کہ اسے توانائی کی خود کفالت اور اقتصادی ترقی کے لیے اس ڈیم کی ضرورت ہے۔

دریافت کیجیے
فلپائن میں 6.3 کی شدّت کا زلزلہ
چین کے شاانشی صوبے میں شدید بارشوں کے باعث ایک لاکھ 15 ہزار لوگوں کی نقل مکانی
ایران اور عمان آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر معاہدے کے قریب ہیں: رپورٹ
گوئٹے مالا: فیوگو آتش فشاں میں دھماکے
روسی علاقوں پر یوکرینی ڈراونز کی بارش، ماسکو پر حملے میں پانچ افراد ہلاک
نتن یاہو غزہ میں جنگ بندی یا ٹرمپ کے منصوبے کے تحت انخلاء کو مسترد کرتے ہیں: رپورٹ
امریکہ: 65,000 سے زیادہ شہری اپنے گھروں سے نکال گئے
شمالی کوریا: امریکہ اور اس کے اتحادی ایشیا-پیسیفک میں 'نئے سیکیورٹی بحران' کو ہوا دے رہے ہیں
ترکیہ خفیہ سروس کے چیف کی غزہ امن منصوبے پر بحث کرنے کے لیے حماس کے رہنما سے ملاقات
اسرائیلی فوج اور غیر قانونی آباد کاروں نے مغربی کنارے میں جولائی میں 2,256 حملے کیے
آسٹریلیا: ایچ فائیو برڈ فلو کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر پرندے ہلاک
ایران: عمان کے ساتھ مذاکرات آبنائے ہرمز  سے بحری آمدروفت کے موضوع پر مرکوز ہیں
اسد اقتدار کا خاتمہ شام سمیت خطے کےلیے ناگزیر تھا: احمد الشراع
یوکرین اور روس کے مابین حملوں میں شدت آگئی،متعدد ہلاکتیں
مصر میں  5.3 شدت کا زلزلہ،عوام میں خوف و ہراس