غزہ میں فلسطینی کسانوں کو اس سال زیتون کی کٹائی کے ایک مشکل مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ زیتون کی پیداوار میں کمی آ رہی ہے، زرعی اراضی کے وسیع رقبے تباہ ہو چکے ہیں اور اسرائیلی فوج کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں یا نام نہاد ’’یلو لائن‘‘ کے دوسری جانب واقع ہونے کی وجہ سے فلسطینیوں کی اپنے زیتون کے باغات تک رسائی ممکن نہیں رہی۔
جہاں تک رسائل ممکن ہے فلسطینی کسان زیتون کی چُنائی اور اِسے پتوں اور شاخوں سے الگ کرنے کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم، انہیں کھاد، آب پاشی کے پانی اور زرعی سامان کی قلت کے ساتھ ساتھ مزدوری، نقل و حمل اور زیتون سے تیل نکالنے کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا بھی سامنا ہے۔
ان رکاوٹوں کے باعث بہت سے خاندان اب زیتون اور زیتون کے تیل کی اتنی مقدار ذخیرہ کرنے کے قابل نہیں رہے جتنی وہ ہر سال اپنے استعمال کے لیے جمع کیا کرتے تھے۔
غزہ وزارتِ زراعت نے 13 جولائی کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے 8 اکتوبر 2023 سے جاری نسل کشی جنگ سے زرعی شعبے کو تین ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان پہنچا ہے۔ اس میں ایک ارب 49 کروڑ ڈالر کا بلاواسطہ نقصان اور ایک ارب 59 کروڑ ڈالر کے بالواسطہ نقصان شامل ہے۔
وسطی غزہ کے علاقے دیر البلح سے تعلق رکھنے والے کسان کامل برقہ نے بتایا ہےکہ زیتون کے درختوں کی پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
انادولو ایجنسی کے لئے انٹرویو میں برقہ نے کہا ہے کہ ’’جنگ سے پہلے ایک درخت سے تقریباً 100 کلوگرام زیتون حاصل ہوتا تھا لیکن اب اس سے زیادہ سے زیادہ 20 سے 30 کلوگرام پیداوار ملتی ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا ہےکہ اس کا مطلب پیداوار میں تقریباً 70 سے 80 فیصد کمی ہے۔
برقہ نے کہا ہے کہ ’’یہ موسم کبھی کسانوں، تاجروں اور مزدوروں کے لیے آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہوا کرتا تھا، لیکن موجودہ حالات اور بنیادی زرعی سامان کی قلت کے باعث اب بعض خاندانوں کی ضروریات پوری کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ زیتون کی کاشت کے لیے مسلسل دیکھ بھال، کھاد، آب پاشی اور دیگر زرعی وسائل درکار ہوتے ہیں، جن کا حصول دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔‘‘
بڑے پیمانے پر تباہی
زرعی زمینوں کو پہنچنے والے نقصان اور وہاں تک رسائی پر پابندیوں نے بھی براہِ راست فصل کی پیداوار کم کر دی ہے۔ برقہ نے کہا ہے کہ ’’غزہ کے وسطی حصے کے مشرق میں زیتون کے وسیع باغات ایسے علاقوں میں واقع ہیں جہاں کسان نہیں پہنچ سکتے خصوصاً صلاح الدین روڈ کے مشرقی علاقے اور نام نہاد 'پیلی لیکر' کے آس پاس کے مقامات تک پہنچنا ناممکن ہے۔‘‘
’’پیلی لکیر‘‘ غزہ کے اندر ایک فرضی سرحد ہے، جہاں سے اسرائیلی فوج، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ کے خاتمے کے منصوبے کے پہلے مرحلے کے تحت، پیچھے ہٹی تھی۔ اس منصوبے کے تحت 10 اکتوبر 2025 کو جنگ بندی کا معاہدہ نافذ ہوا تھا۔ یہ لائن غزہ کے مشرقی علاقوں کو، جو اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہیں، مغربی علاقوں سے الگ کرتی ہے، جہاں فلسطینیوں کو نقل و حرکت کی اجازت ہے۔
برقہ نے کہا ہے کہ ’’دیر البلح، البریج اور المغازی کی زمینیں زیتون کی پیداوار کا ایک اہم ذریعہ ہیں لیکن یہاں کے کسانوں کو اپنی زرعی زمینوں تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے ۔‘‘
انہوں نے بتایا ہے کہ صلاح الدین روڈ کے مغرب میں واقع زرعی زمینیں مقامی آبادی کی زیتون اور زیتون کے تیل کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔
جنگ سے پہلے زیتون کی کٹائی کی تیاریاں تقریباً ایک ماہ قبل شروع ہو جاتی تھیں۔ کسان مزدوروں کا انتظام کرتے اور زیتون کی چُنائی اور اس کی نقل و حمل کے لیے ضروری آلات تیار رکھتے تھے۔ فلسطینی خاندان اگلے سال کے استعمال کے لیے زیتون اور زیتون کا تیل ذخیرہ کر لیتے تھے۔
پیداوار میں کمی اور اخراجات میں اضافے کے باعث اب یہ تیاریاں محدود ہو گئی ہیں۔ بعض کسان اب صرف اپنے گھریلو استعمال جتنی ہی زیتون چُنتے ہیں جبکہ فروخت کے لیے انہیں بہت کم مقدار میں پیداوار حاصل ہوتی ہے۔
اخراجات تین گنا بڑھ گئے
کسانوں کو نقل و حمل اور زیتون سے تیل نکالنے کے اخراجات میں شدید اضافے کے علاوہ زیتون کا تیل ذخیرہ کرنے کے لیے درکار برتنوں کی قلت کا بھی سامنا ہے۔
برکہ نے کہا، ’’جنگ سے پہلے کے مقابلے میں زیتون سے تیل نکالنے کی لاگت تقریباً تین گنا بڑھ گئی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ پیداوار میں کمی کے باعث کسانوں کی آمدنی پہلے ہی گھٹ چکی ہے، اور اخراجات میں اضافے نے ان پر مزید دباؤ ڈال دیا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا، ’’جنگ سے پہلے عموماً زیتون کے تیل کی چکیاں چلانے والے مالکان خود زیتون کو کھیتوں سے اپنی ملوں تک پہنچاتے تھے۔ لیکن اب کسانوں کو تھوڑی سی مقدار کی نقل و حمل کے لیے بھی گاڑی تلاش کرنے میں دشواری ہوتی ہے۔‘‘
پانی پمپ کرنے اور درختوں کو سیراب کرنے کے اخراجات میں اضافے کے ساتھ کھاد، مزدوروں اور ذخیرہ کرنے کے برتنوں کی قلت نے فصل کو محفوظ رکھنے اور زیتون کا تیل ذخیرہ کرنے کے عمل کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ یہ صورتِ حال بالخصوص ان خاندانوں کے لیے زیادہ سنگین ہے جو اپنی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے زراعت پر انحصار کرتے ہیں۔
برکہ نے کہا، ’’زیتون کی کٹائی کا موسم کبھی کسانوں کے لیے اپنی معاشی حالت بہتر بنانے اور پورے سال کی غذائی ضروریات محفوظ کرنے کا ایک موقع ہوا کرتا تھا، لیکن اب یہ ایک تھکا دینے والا عمل بن چکا ہے، جو بہت سے لوگوں کو ان کی ضروریات کا صرف ایک معمولی حصہ ہی فراہم کر پاتا ہے۔‘‘
وزارتِ زراعت کے اعداد و شمار کے مطابق، 8 اکتوبر 2023 کو شروع ہونے والی اسرائیل کی نسل کشی پر مبنی جنگ کے نتیجے میں غزہ کے زرعی شعبے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
وزارت نے بتایا کہ مجموعی طور پر ایک لاکھ 82 ہزار 247 دونم زرعی اراضی میں سے ایک لاکھ 58 ہزار 909 دونم، یعنی تقریباً 87 فیصد رقبہ، متاثر ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں فصلوں کی پیداوار اور غذائی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت میں نمایاں کمی آئی ہے۔
فلسطینی حکام کے اعداد و شمار کے مطابق، نسل کشی پر مبنی اس جنگ میں 74 ہزار سے زیادہ فلسطینی ہلاک اور ایک لاکھ 75 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ محاصرے میں گھرے علاقے کے تقریباً 90 فیصد بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا گیا ہے۔

















