سیاست
2 منٹ پڑھنے
امریکہ اسرائیل میں اضافی فوجی اور جنگی طیاروں کی تعیناتی کی تیاری میں ہے، رپورٹ
خبروں کے مطابق سینٹ کوم اضافی فوج اسرائیل بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے، جہاں تقریباً 3,000 فوجی پہلے ہی سے دفاعی نظاموں میں خدمات ادا کر رہے ہیں۔
امریکہ اسرائیل میں اضافی فوجی اور  جنگی طیاروں کی تعیناتی کی تیاری میں ہے، رپورٹ
میڈیا رپورٹس کے مطابق، واشنگٹن اضافی افواج اور طیاروں کے ذریعے اسرائیل میں اپنی فوجی موجودگی کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔ (تصویر: فائل) / Reuters

اسرئیلی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے  کہ امریکہ آئندہ چند ہفتوں میں اسرائیل میں اضافی فوجی اور طیارے تعینات کرنے کی تیاری  میں ہے۔

اسرائیلی نیوز آؤٹ لیٹ والّا نے سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ تقریباً 3,000 امریکی اہلکار اس وقت  اسرائیل بھر میں  تعینات ہیں۔

ان کی خدمات میں  فضائی دفاعی میزائل بیٹریاں چلانا، پرواز آپریشنز انجام دینا، لاجسٹک معاونت فراہم کرنا اور فوجی ہیڈ کوارٹرز میں براہِ راست رابطہ کار کے فرائض انجام دینا شامل ہے۔

دفاعی حکام نے تصدیق کی ہے کہ نئی ٹیمیں اور لڑاکا طیارے جلد پہنچیں گے تاکہ موجودہ صلاحیت کو مضبوط کیا جا سکے۔

ایک سینئر اسرائیلی سیکیورٹی اہلکار نے والّا کو بتایا کہ علاقائی حریف، اسرائیل اور امریکہ میں انتخابات کا غور سے جائزہ لےرہے ہیں اور تصادم کو بھڑکائے بغیر علاقائی توازن کو غیر مستحکم کرنے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔

سینٹ کوم کے ساتھ ہم آہنگی

اسرائیلی دفاعی افواج اور امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے درمیان آپریشنل منصوبہ بندی اس بات پر مرکوز ہے کہ اگر بالِسٹک میزائل دوبارہ داغے گئے تو ایران کے اندر ممکنہ جوابی حملے اور اہداف پر کارروائی کی جائے۔

یہ فوجی توسیع ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے سفارتی اشاروں کے بعد ہوئی ہے، جنہوں نے تہران میں  اخباری نمائندوں  سے اعادہ کیا  کہ ایران سفارتی سمجھوتوں کے لیے کھلا ہے۔

ستمبر کے آخر میں، تہران نے قطری ثالثی کے ذریعےآبنائے  ہرمز کو  دوبارہ کھولنے کے لیے سات شرائط پہنچائی تھیں، جنہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسترد کر دیا تھا۔

اسی دوران، اسرائیلی سیکیورٹی حکام کا اندازہ ہے کہ یمن میں حوثی تحریک کے خلاف جاری لڑائی خلیجی سیکیورٹی شراکت داریوں کے ڈھانچے کو  بدل سکتی ہے، اور سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعاون میں اضافہ کا حوالہ دیا جاتا ہے۔

ایک سینئر اہلکار نے خبردار کیا کہ فوری طور پر حوثی فورسز کا مقابلہ نہ کرنےوالے علاقائی عناصر ، بعد میں واحدانہ حملوں کا سامنا کرنے کے خطرے  سے دو چار ہو سکتے ہیں۔

یمن میں جنگ اس کے بعد شدت اختیار کر گئی جب حوثیوں نے الحدیدہ اور طائعز صوبوں میں پیش قدمی کی، جس میں باب المندب کی نگرانی  کر سکنے والے علاقے موخہ پر  قبضہ اور جزیرہ مایون پر اسٹریٹجک مقامات کا حصول شامل ہے۔

 

دریافت کیجیے
سرحدی بارودی سرنگ سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے تو شمالی کوریا نے ایک بیلسٹک میزائل داغا
امریکی عہدیدار ایران کے خلاف اقدامات پر بات چیت کے لیے کیمپ ڈیوڈ میں یکجا ہوئے، ایکسیوس
ٹرمپ کا ترکیہ پر عائد CAATSA پابندیوں کو ہٹانے پر مثبت موقف کا مظاہرہ
بھارت نے پنجاب کی سرحدوں کے قریب دو پاکستانی شہریوں کو  مار ڈالا
حکومتِ یمن: "طائز میں حوثیوں کے ساتھ گھمسان کی جنگ ہو رہی ہے"
ترکیہ وزیر برائے قومی دفاع یاشار گولیر کی آذربائیجان اور جارجیا کے ہم منصبوں سے ملاقات
متحدہ امریکہ نے شام کو دفاعی تجارتی پابندیوں کی فہرست سے  خارج کر دیا
جنوبی کوریا امریکہ میں 200 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا
ریحانلی قتل عام کا ملزم گرفتار کرتےہوئے ترکیہ لایا گیا
ٹینیسی: زہریلے انجیکشنز کے باوجود  سزائے موت پانے والی خاتون بچ گئی: وکلا
اسرائیل کا حملہ، صحافی النجار ہلاک
امریکہ:200 سال بعد خاتون کو سزائے موت دینے کا فیصلہ
فلائی دبئی : پائلٹوں کی لڑائی کی وجہ سے پرواز سعودی عرب میں اتر گئی
میانمار : شمالی راکھائن میں کم از کم 50 افراد ہلاک
ٹوکیو میں بارشوں کا 34 واں مسلسل دن