اسرئیلی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکہ آئندہ چند ہفتوں میں اسرائیل میں اضافی فوجی اور طیارے تعینات کرنے کی تیاری میں ہے۔
اسرائیلی نیوز آؤٹ لیٹ والّا نے سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ تقریباً 3,000 امریکی اہلکار اس وقت اسرائیل بھر میں تعینات ہیں۔
ان کی خدمات میں فضائی دفاعی میزائل بیٹریاں چلانا، پرواز آپریشنز انجام دینا، لاجسٹک معاونت فراہم کرنا اور فوجی ہیڈ کوارٹرز میں براہِ راست رابطہ کار کے فرائض انجام دینا شامل ہے۔
دفاعی حکام نے تصدیق کی ہے کہ نئی ٹیمیں اور لڑاکا طیارے جلد پہنچیں گے تاکہ موجودہ صلاحیت کو مضبوط کیا جا سکے۔
ایک سینئر اسرائیلی سیکیورٹی اہلکار نے والّا کو بتایا کہ علاقائی حریف، اسرائیل اور امریکہ میں انتخابات کا غور سے جائزہ لےرہے ہیں اور تصادم کو بھڑکائے بغیر علاقائی توازن کو غیر مستحکم کرنے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔
سینٹ کوم کے ساتھ ہم آہنگی
اسرائیلی دفاعی افواج اور امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے درمیان آپریشنل منصوبہ بندی اس بات پر مرکوز ہے کہ اگر بالِسٹک میزائل دوبارہ داغے گئے تو ایران کے اندر ممکنہ جوابی حملے اور اہداف پر کارروائی کی جائے۔
یہ فوجی توسیع ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے سفارتی اشاروں کے بعد ہوئی ہے، جنہوں نے تہران میں اخباری نمائندوں سے اعادہ کیا کہ ایران سفارتی سمجھوتوں کے لیے کھلا ہے۔
ستمبر کے آخر میں، تہران نے قطری ثالثی کے ذریعےآبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے سات شرائط پہنچائی تھیں، جنہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسترد کر دیا تھا۔
اسی دوران، اسرائیلی سیکیورٹی حکام کا اندازہ ہے کہ یمن میں حوثی تحریک کے خلاف جاری لڑائی خلیجی سیکیورٹی شراکت داریوں کے ڈھانچے کو بدل سکتی ہے، اور سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعاون میں اضافہ کا حوالہ دیا جاتا ہے۔
ایک سینئر اہلکار نے خبردار کیا کہ فوری طور پر حوثی فورسز کا مقابلہ نہ کرنےوالے علاقائی عناصر ، بعد میں واحدانہ حملوں کا سامنا کرنے کے خطرے سے دو چار ہو سکتے ہیں۔
یمن میں جنگ اس کے بعد شدت اختیار کر گئی جب حوثیوں نے الحدیدہ اور طائعز صوبوں میں پیش قدمی کی، جس میں باب المندب کی نگرانی کر سکنے والے علاقے موخہ پر قبضہ اور جزیرہ مایون پر اسٹریٹجک مقامات کا حصول شامل ہے۔


















