ایشیا
3 منٹ پڑھنے
بھارت نے مونتھا طوفان کے لیے تیاریاں شروع کر دیں
طوفان کی آمد سے قبل اسکول بند کر دیئے گئے اور نشیبی ساحلی علاقوں سے ہزاروں رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے
بھارت  نے مونتھا طوفان کے لیے تیاریاں شروع کر دیں
The storm is expected to intensify, bringing winds of 90 kmph to 110 kph as it pushes toward the country’s eastern coastline. / AP

بھارت کے مشرقی ساحل پر مونتھا سمندری طوفان کی متوقع آمد کے مقابل حکام نے اسکول بند کر دیئے اور نشیبی ساحلی علاقوں سے ہزاروں رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔

انڈیا محکمہ موسمیات کے مطابق فی الحال خلیج بنگال میں موجود  مونتھا طوفان نے  ایک شدید بحری طوفان کی شکل اختیار کر لی  ہے اور توقع ہے کہ  منگل کی شام   جنوبی ریاست آندھرا پردیش کے بندرگاہی شہر کاکیناڈا کے ساحلوں سے ٹکرائے گا۔

  طوفان اس وقت آندھرا پردیش کے مشرقی ساحلی علاقے مچھلی پٹنم سے تقریباً 160 کلومیٹر جنوب مشرق میں ہے۔

توقع ظاہر کی جا رہی ہے    انڈیا کے مشرقی ساحل پر پہنچنے کے وقت طوفان کی شدت میں مزید اضافہ ہو جائے گا اور طوفانی ہواوں کی رفتار 90 کلومیٹر فی گھنٹہ سے 110 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ہو جائے گی ۔

محکمہ موسمیات نے آندھرا پردیش کے 19 اضلاع کے لیے ریڈ الرٹ جاری کر دیا  اور انتہائی شدید بارشوں کی پیشین گوئی کی ہے۔ پڑوسی ریاستوں تمل ناڈو، تلنگانہ، کیرالہ اور کرناٹک میں بھی درمیانے سے لے کر شدید درجے کی بارشیں متوقع ہیں۔

محکمہ آفات کے ایک صوبائی اہلکار کے مطابق آندھرا پردیش میں آفات سے نمٹنے والی ٹیموں نے اب تک 38,000 افراد کو  نشیبی  علاقوں سے امدادی کیمپوں میں منتقل کر دیا ہے ۔ آندھراپردیش انتظامیہ کے مطابق تقریباً 40 لاکھ افراد خطرناک علاقوں میں ہیں اور طوفان سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

ریاست کے وزیر مواصلات نارا لوکیش نے ایک سوشل میڈیا  بیان میں کہا ہے کہ متاثرین کی پناہ کے لئے  1,906 امدادی کیمپ اور 364 اسکول تیار کر لئے گئے  ہیں۔ 1,238 نشیبی  دیہاتوں سے انخلاء جاری ہے ۔

اسکولوں اور کالجوں کو بدھ تک بند رکھنے کا حکم دیا گیا ہے اور ماہی گیروں کو سمندر سے دُور رہنے کی تنبیہ  کی گئی ہے۔ منگل کو ٹرین کے سفر اور پروازیں جزوی طور پر متاثر ہوئی ہیں۔

ایک ریاستی آفتی اہلکار کے مطابق اوڈیشہ  انتظامیہ نے تقریباً 32,000 افراد کو خطرناک علاقوں سے امدادی کیمپوں میں منتقل کرنا شروع کر دیا ہے ۔

ماحولیاتی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا میں شدید طوفان زیادہ عام ہو رہے ہیں۔ عالمی درجہ حرارت میں اضافےنے ان طوفانوں کو زیادہ شدید اور غیر متوقع بنا دیا ہے۔

بھارت کے مشرقی ساحل پر ایک  طویل عرصے سے طوفانوں  کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے  لیکن ان طوفانوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔سال 2023 طوفانوں کے حوالے سے  بھارت کے لیے مہلک ترین سال تھا۔ اس سال  523 افراد ہلاک ہوگئے اور تقریباً 2.5 بلین ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔

دریافت کیجیے
وزیر فیدان: "ہم نے یوکرین کا ایک بہت ہی سود مند دورہ کیا ہے"
اسرائیل:فلسطینی قیدیوں کی حامل جیلوں کے گرد مگر مچھ چھوڑنے پر غور
امریکہ۔ ایران کشیدگی اور بحرِ احمر میں آمدورفت کے بند ہونے کے خطرات سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ
یوگنڈا میں اسکول بس حادثے میں کم از کم 21 افراد لقمہ اجل
15 جولائی اقدام بغاوت کے 10 سال اور توانائی کی بدلتی پالیسیاں
فرانس میں شدید طوفان، 13,000 گھر بجلی سے محروم
یوکرین: روسی حملوں میں دو افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے ہیں
میانمار: روہینگیا مہاجرین کی کشتیاں الٹ گئیں، 500 سے زیادہ افراد ہلاک
امریکی فوج کیوبا کے خلاف ممکنہ کارروائی کے لیے اختیارات پر غور کر رہی ہے: رپورٹ
امریکہ نے سعودی عرب کے ہاتھ تقریباً 2 بلین ڈالر کی اسلحہ فروخت کی منظوری دے دی
سیمی فائنل میں ارجنٹائن کی کامیابی،فائنل اسپین کے ساتھ کھیلے گا
آسٹریلیا نےڈیٹا سینٹروں اور کاپی رائٹ سے متعلقہ اے آئی قوانین کا اعلان کر دیا
ملائیشیا میں کسی بھی اسرائیلی کو پایا گیا تو فوراً ملک بدر کر دیا جائے گا: انور ابراہیم
فیتو کی دفاعی صنعت میں تخریب کاری، اہم منصوبے اور حالیہ 10 برسوں میں مقامی دفاعی صنعت کی پیش رفتیں
کیوبا میں ملک گیر لوڈ شیڈنگ