اسرائیلی فوج نے پورے مقبوضہ مغربی کنارے میں متعدد چھاپہ کاروائیوں کے دوران 15 فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا ہے۔
القدس گورنر دفتر کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق اسرائیلی فوج نے بروز اتوار، شہر کے شمال میں واقع اتاروت صنعتی علاقے کے قریب مقبوضہ مشرقی القدس میں داخل ہوتے، 12 فلسطینی مزدوروں کو حراست میں لے لیا ہے۔
فلسطین کی سرکاری خبر ایجنسی WAFA کے مطابق اسرائیلی فوج نے مزدوروں کو گھات لگا کر گرفتار کیا ہے اور مزدوروں کی صحت کی حالت اور موجودگی کے مقام سے متعلق تاحال کچھ معلوم نہیں ہے۔
WAFA کے مطابق، مقبوضہ مغربی کنارے کے وسطی حصے میں اسرائیلی افواج نے رام اللہ کے مشرق میں کئی دیہاتوں پر چھاپے مارے، اصلی گولیاں چلائیں اور فلسطینیوں کے مکانات کو فوجی چوکیوں میں تبدیل کر دیا ہے۔
چھاپوں کا نشانہ بننے والے دیہاتوں میں کفر مالک، دیر جرِّیر اور المغیّر شامل ہیں۔ اسرائیلی فوجیوں نے مقامی رہائشی حمزہ اسعد ابو علیہ اور نسیم ابو علیہ کے گھروں پر چھاپہ مار کے انہیں ان کے اہلِ خانہ سمیت گھروں سے بے دخل کر دیا ہے۔
مزید جنوب میں، اسرائیلی افواج نے بیت لحم کے دیہی علاقے کے مغربی علاقے کے داخلی مقام پر ایک فوجی چوکی قائم کر کے گاڑیوں کو روکا اور رہائشیوں کی شناختی دستاویزات کی جانچ پڑتال کی۔
ایجنسی نے مزید کہا ہےکہ فوج نے بیت لحم کے جنوب میں واقع الخضر گاؤں پر بھی چھاپہ مارا، تین فلسطینیوں کو حراست میں لیا اور اسٹَن گرینیڈ فائر کیے۔
واضح رہے کہ غزہ جنگ کے آغاز یعنی 8 اکتوبر 2023 سے، مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج اور غیرقانونی آباد کاروں کے حملوں میں 1,133 فلسطینی قتل اور تقریباً 11,700 زخمی کئے جا چُکے ہیں۔حملوں کے دوران گرفتار کئے گئے فلسطینیوں کی تعداد تقریباً 22,000 ہے۔
جولائی 2024 میں بین الاقوامی عدالتِ انصاف نےایک فیصلہ سُنا کر فلسطینی زمین پر اسرائیلی قبضے کو غیر قانونی اعلان کیا اور مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی القدس میں موجود تمام غیر قانونی رہائشی بستیوں کو خالی کرنے کا حکم سُنایا تھا۔





















