ترکیہ کے شمالی صوبے ریزے کے گونِی سو ضلع میں مرکزی مسجد میں نماز کے بعد، ایردوان نے کہا کہ رمضان کے ختم ہونے اور عید کے آنے کو مسلم دنیا کے لیے تجدید کا موقع سمجھنا چاہیے۔
ایردوان نے مزید کہا اللہ کرے کہ عید الفطر پورے عالم اسلام کے لیے نجات اور تجدید کا ذریعہ بنے۔” ۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ تہوار ترکیہ کے اندر اتحاد اور بھائی چارے کو مضبوط کرے گا۔
انہوں مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والی پیش رفت کا بھی ذکر کیا اور اسے وقت ابلنے سے تعبیر قرار دیا ۔
اسرائیل کی طرف اشارہ کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ یہ صیہونی اسرائیل سینکڑوں اور ہزاروں افراد کو ہلاک کر چکا ہے،مجھے کوئی شک نہیں کہ اسے اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔
صدر نے اپنی گفتگو کا اختتام خیرخواہی کے پیغام کے ساتھ کیا۔ “اللہ ہمارا مددگار اور حامی ہو،”
انہوں نے کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ عید الفطر ہمارے ملک اور قوم کے لیے خیر لے کر آئے گی۔














