امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ وہ سوچ رہے تھے کہ نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کرنے والی ایرانی وفد کس طرح وطن واپس لوٹے گا کیونکہ امریکی پابندیوں نے ملک کی بین الاقوامی فضائی سرگرمیوں کو محدود کر رکھا ہے۔
انہوں نے بدھ کو کہا کہ "آپریشن اکنامک آؤٹکاسٹ کے حوالے سے، ہم نے ایرانیوں پر اس طرح دبا رکھا ہے جیسا انہوں نے آج تک نہیں دیکھا۔"
انہوں نے کہا کہ یہ مہم ایران کے بین الاقوامی ہوائی رابطوں کو متاثر کر رہی ہے اور دعویٰ کیا کہ ایران سے بیرونی پروازوں کا 80 سے 90 فیصد سے زائد بند ہو چکا ہے۔
بیسنٹ نے ایران کی حمایت کرنے والے مالی اداروں، کمپنیوں اور دیگر کاروباروں کو بھی خبردار کیا کہ واشنگٹن ان کی سرگرمیوں اور بینک اکاؤنٹس کو نشانہ بنائے گا۔
انہوں نے کہا کہ"ہم نے دنیا بھر میں یہ بات واضح کر دی ہے، چاہے وہ سرمایہ کار ہوں، کاروبار کرنے والے ہوں یا ایرانیوں کو سپلائی کرنے والے، ہم جانتے ہیں کہ آپ کون ہیں، آپ بھی جانتے ہیں کہ آپ کون ہیں۔"
مالی شعبے کا گلا گھونٹنا
انہوں نے امریکی حکمتِ عملی کو فوجی کارروائی، بحری محاصرہ اور مالی دباؤ کے امتزاج کے طور پر بیان کیا۔
انہوں نے کہا"ہم نےچھ ہفتوں تک متحرک عسکری کارروائی کی۔ ہم نے محاصرہ کیا۔ اور اب ایک ایسی کوشش ہے جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی، جس کا مقصد ان کے لیے مالی شعبوں کو محدود اور منقطع کرنا ہے۔"
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کی دباؤ مہم ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے، اور کہا کہ امریکہ تین ممکنہ نتائج میں سے کسی ایک کی کوشش کر رہا ہے: ایرانی قیادت کے اندر انتشار، ایرانی عوام کی طرف سے بغاوت، یا ایسا معاہدہ جس کے تحت تہران اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرے۔
بیسنٹ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ نے سال کے آغاز میں ایران کے ساتھ ایک معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کی تھی لیکن بعد ازاں تہران پر آبنائے ہرمز میں حملوں کو بڑھانے کا الزام لگایا۔
انہوں نے کہا"اگر کوئی معاہدہ ہوا تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں وہ اس پر قائم رہیں گے۔"
امریکہ نے اگست میں 'آپریشن اکنامک آؤٹکاسٹ' شروع کیا، جو ایران کو معاشی طور پر الگ کرنے اور ان کمپنیوں، مالی اداروں اور دیگر اداروں کو نشانہ بنانے کی ایک وسیع مہم ہے جو تہران کو امریکی پابندیوں سے بچنے میں مدد دے رہے ہیں۔
محکمۂ خزانہ نے تب سے اس مہم کو ایران کی فضائی نیٹ ورکس، مالی اداروں اور کرپٹو کرنسی سے متعلق انفراسٹرکچر کو بھی ہدف بنانے کے لیے وسعت دی ہے۔



















