ترکیہ
3 منٹ پڑھنے
اسرائیل کی مشرق وسطی میں اشتعال انگیز کارروائیاں ختم ہونی چاہئیں، صدر ایردوآن
صدر رجب طیب ایردوآن: اگر خطے میں دیرپا استحکام چاہیے تو ہر ایک کو مختصر مدتی  مفادات ایک طرف چھوڑ دینے چاہئیں۔ ممالک کو بیرونِ خطے کے فریقین کے مفادات کا نہیں،' اپنے شہریوں کے حقوق کا دفاع کرنا چاہیے۔
اسرائیل کی مشرق وسطی میں اشتعال انگیز کارروائیاں ختم ہونی چاہئیں، صدر ایردوآن
"اگر خطے میں پائیدار استحکام مطلوب ہے تو سب کو قلیل مدتی حساب کتاب بالائے طاق رکھنا ہوگا،" اردوان کا کہنا ہے۔ / AA

صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ ترکیہ علاقے میں مضبوط تعاون، دفاعی صلاحیتوں کی گہرائی اور نیٹو اتحادیوں اور یورپی یونین دونوں کے ساتھ تجدید شدہ سفارتی روابط کے لیے کوششیں جاری رکھے گا، انہوں نے  مشرقِ وسطیٰ میں استحکام کا مطالبہ بھی کیا۔

قازقستان سے واپسی کی پرواز پر جمعہ کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ایردوآن نے کہا: 'سب سے پہلے، اسرائیل کی اشتعال انگیز  کارروائیوں کو کیا جانا چاہیے، اور پھر حقیقی امن قائم کیا جانا چاہیے۔'  انہوں نے یہ بات ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی حملوں کے حوالے سے کہی ۔

ایردوآن نے مزید کہا کہ 'اگر خطے میں دیرپا استحکام چاہیے تو ہر ایک کو مختصر مدتی  مفادات ایک طرف چھوڑ دینے چاہئیں۔ ممالک کو بیرونِ خطے کے فریقین کے مفادات کا نہیں،' اپنے شہریوں کے حقوق کا دفاع کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے مثبت کارروائیوں اور مختصر المدتی سیاسی مفادات  کا خاتمہ ضروری ہوگا۔

ایردوآن نے اس بات پر بھی زور دیا  کہ ترکیہ،  ترک ریاستوں کی تنظی میں،   شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کی شرکت کو بڑی اہمیت دیتا ہے۔

ایردوآن نے کہا کہ 'ہم تنظیم کی سرگرمیوں میں اس کی شراکت کو  انتہائی اہم تصور کرتے  ہیں، ترک برادری اپنی ذمہ داریاں پورا کرتے ہوئے قبرصی ترک قبرصی عوام سے بغلگیر ہو رہی ہے ۔

صدر نے یہ بھی کہا کہ ترکیہ آئندہ  کی صدارت کے دوران تنظیم کومزیدمضبوط بنانے کی کوشش کرے گا۔

'ہم اپنی صدارت کے دوران، جو ہم اگلے موسمِ خزاں میں 13 ویں سربراہی اجلاس کے ساتھ سنبھالیں گے، تنظیم کو بلند سطح تک لے جائیں گے،'

ملک دفاع میں ایک نئے باب کا آغاز

ترک صدر نے آنے والے نیٹو سمٹ کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ انقرہ اتحاد کے مستقبل اور عالمی سلامتی کے ڈھانچے کے بارے میں اہم فیصلوں کی توقع رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا  کہ' 'ہم توقع کرتے ہیں کہ انقرہ  میں اتحاد کے مستقبل اور عالمی سلامتی کے ڈھانچے کی آئندہ شکل کے بارے میں اہم فیصلے لیے جائیں گے۔"

ایردوآن نے مزید کہا کہ ترکیہ،  یورپی یونین کے لیے 'ایک بڑا موقع' ہے اور بلاک کے سامنے یہ 'تاریخی فیصلہ' ہے کہ آیا وہ اس موقع سے پوری طرح فائدہ اٹھائے گا یا نہیں۔

واشنگٹن کے ساتھ دفاعی تعاون کے حوالے سے ایردوآن نے کہا کہ F-35 لڑاکا طیارہ پروگرام پر بات چیت جاری ہے۔

F-35 کے بارے میں ہماری مطالبات  واضح ہیں۔ ہمارے حکام اپنے امریکی ہم منصبوں کے ساتھ بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہمیں مثبت نتیجے کی امید ہے۔

انہوں نے ترکیہ  کے مقامی  طور پر تیار کردہ پانچویں نسل کے لڑاکا طیارے کے منصوبے قاٰن کو بھی اجاگر کیا اور اسے ملک کی دفاعی صنعت میں ایک وسیع تر تبدیلی کی ابتدا قرار دیا۔

ایردوآن نے کہا"جب یہ عمل مکمل ہو جائے گا تو اس میدان میں ایک نیا باب شروع ہوگا۔ قاٰن ہمارا پہلا قدم ہے۔ ہم  اس سے بھی  بہتر اور مضبوط چیزیں بنا سکتے ہیں اور بنائیں گے۔"

 

دریافت کیجیے
ترکیہ: صدارتی سرپرستی میں منعقدہ 7 ویں بین الاقوامی یاٹ ریس اختتام پذیر ہو گئی
استنبول میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کمیٹی کا پہلا اجلاس
ترکیہ: اسرائیلی وزارتِ خارجہ کی ہرزہ سرائی اسرائیلی حکومت کی فرسودہ ذہنیت کی عکاس ہے
ترکیہ نے یوکرین کے سفیر کو طلب کر لیا
وزارت خارجہ کے ترجمان کیچیلی کا یونان کے حوالے سے بیان
ترکیہ، شام اور عراق کی ترقی میں ایک کلیدی ملک
صدر ایردوان کی معرکہ عظیم کی سالانہ یاد کے موقع پر خصوصی پوسٹ
ترکیہ: اناطولیہ میں طاعون کے قدیم ترین شواہد
ترکیہ: جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کی 25 ویں سالگرہ
صدر ایردوان : "ہم نے اپنے دوستوں اور دشمنوں کو خطے میں عدم استحکامی برداشت نہ کرنے کا پیغام دیا ہے
امریکی سفیر: شام میں اسرائیلی حملے کے پیچھے غلط معلومات کا ہاتھ تھا
ترکیہ کی صدر ایردوان کے خلاف تبصروں پر اسرائیل کی مذمت
ترکیہ کی زیرِ آب گاڑی نمائش کے لئے پیش کر دی گئی
کانگریس F-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
مصر بھی 'مکہ معاہدے' میں شامل ہو سکتا ہے: اردوعان
ترکیہ کا "دہشت گردی سے پاک ترکیہ" اقدام مزید مضبوط اتحاد کی راہ ہموار کرے گا: قورطلمش
میزائل پیداوار کے لیے ترکیہ کے دروازے پر دستک ہو سکتی ہے
ترکیہ۔پاکستان۔سعودی عرب دفاعی معاہدے کا مقصد مشترکہ صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے: انقرہ
ترکیہ: ،علی خان کوریش نیٹ ورک کے خلاف آپریشن کا آغاز
گولان شام کا اٹوٹ حصہ ہے:ترکیہ