سیاست
3 منٹ پڑھنے
ترک صدر رجب طیب ایردوان کی نیو یارک میں دو طرفہ ملاقاتیں
امریکہ میں قیام کے دوران، ایردوان نے دنیا کے اہم رہنماؤں اور سینئر سفارت کاروں کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کی، جس سے ترکیہ کی عالمی سفارتی موجودگی اور اس کی اسٹریٹجک اہمیت کو تقویت ملی۔
ترک صدر رجب طیب ایردوان کی نیو یارک میں دو طرفہ ملاقاتیں
Trump and Erdogan signal a new approach to US-Türkiye. / AA

ترک صدر رجب طیب اردوان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ بات چیت کے بعد وائٹ ہاؤس سے روانہ ہو گئے۔

نیٹو کے اتحادیوں کی اوول آفس میں  ملاقات اور کابینہ روم میں اموری ظہرانہ  ایک حساس وقت میں سر انجام پایا۔

ٹرمپ نے کہا کہ وہ اور صدر ایردوان دفاعی فروخت پر وسیع پیمانے پر بات چیت کریں گے، جس میں ترکیہ  کے امریکی ساختہ ایف-16 اور ایف-35 لڑاکا طیارے خریدنے کے امکانات شامل ہیں۔

صدر ایردوان کا  دورہ امریکہ ترکیہ  کے لیے ایک سفارتی مظاہرہ بن گیا، کیونکہ انہوں نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر اعلیٰ سطحی ملاقاتیں سر انجام دیں۔

امریکہ میں قیام کے دوران، ایردوان نے دنیا کے اہم رہنماؤں اور سینئر سفارت کاروں کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کی، جس سے ترکیہ کی عالمی سفارتی موجودگی اور اس کی اسٹریٹجک اہمیت کو تقویت ملی۔

ان ملاقاتوں میں فلسطین، علاقائی سلامتی، اقتصادی تعاون اور عالمی امور میں ترکیہ کے بڑھتے ہوئے کردار پر توجہ مرکوز کی گئی۔

صدر رجب طیب ایردوان اور ان کے ویتنامی ہم منصب لیونگ کوانگ نے بدھ کو نیویارک میں  ٹرکش  ہاؤس میں دو طرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

ایردوان نے کہا کہ انقرہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید فروغ دے سکتا ہے اور موجودہ تجارتی حجم کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک بین الاقوامی اور علاقائی پلیٹ فارمز پر اپنے تعاون کو بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں، اور فلسطین کے مسئلے پر ویتنام کے مؤقف کو سراہا۔

اردوان نے اقوام متحدہ کے ماحولیاتی سربراہی اجلاس میں کہا کہ ترکیہ نے امسال اپنی کل نصب شدہ توانائی کی  پیداوار میں  قابل تجدید توانائی کا حصہ 60 فیصد سے زیادہ کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترکیہ کا2035 تک  ہدف کاربن  اخراج کو 466 ملین ٹن تک کم کرنا ہے، جس سے ملک کے مجموعی اخراج کو 643 ملین ٹن تک لایا جائے گا۔

فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون  سے بات چیت میں ایردوان نے ترکیہ-فرانس تعلقات اور علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

انہوں نے کہا کہ فرانس کے ساتھ بات چیت ترکیہ کے لیے اہم ہے اور تجارت، توانائی اور دفاعی صنعت سمیت کئی شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔

ایردوان نے نیویارک میں شامی صدر احمد الشراع سے بھی  ملاقات کی۔

انہوں نے کہا کہ ترکیہ شام پر  عائد تمام پابندیاں جلد از جلد ختم کیے جانے  کی توقع رکھتا ہے اور شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنے والے کسی بھی اقدام کی حمایت کرتا ہے۔

ایردوان نیویارک میں امریکی کمپنیوں کے سینئر حکام  کے ساتھ بھی یکجا ہوئے، جس میں ترکیہ-امریکہ بزنس کونسل کے صدر حمیدی اولوقایا بھی موجود تھے۔

انہوں نے کہا کہ ترکیہ اور امریکہ کے درمیان 100 بلین ڈالر کے تجارتی حجم کا ہدف دونوں ممالک کا مشترکہ مقصد ہے۔

دریافت کیجیے
ٹرمپ کا زیلینسکی کے خلاف رد عمل: "پوتن کے ساتھ کام کرنا زیادہ آسان ہے"
ٹرمپ اور نتن یاہو کی اسرائیل اور امریکہ میں انتخابات سے قبل ایران پر حملے کے امکان پر بات چیت
پاشنیان: آذربائیجان کے ساتھ امن کا قیام ارمینیا کے دوام کی بنیاد تشکیل دے گا
ٹرمپ کی طرف سے توانائی جنگ بندی کے اعلان پر ماسکو کیونکر خاموش ہے؟
امریکی جج کا عوامی وسائل کی فنڈنگ سے ٹرمپ کی حمایت میں اشتہارات کو روکنے کا فیصلہ
کریملن: پوتن نے ایران تنازعہ حل ٹرمپ کے سامنے رکھ دیا
مغربی کنارے میں قتل ہونے والے امریکیوں کے بارے میں معلومات کو خفیہ رکھنے کا دعوی
ہزیشکیان نے پوتن کو ایران اور امریکہ کے مابین نئی مذاکراتی تجاویز سے آگاہی کرائی
ٹرمپ انتظامیہ امریکہ سے مہاجرین کو جہازوں کے ذریعے ملک بدر کرے گی
فرانسیسی ممبرِ پارلیمنٹ ریما حسن نے یورپی پارلیمنٹ میں اسرائیلی جھنڈا ہٹا دیا
امریکی نائب صدر؛ جنگ کے خاتمے کے لئے ایران کو یورینیم افزودگی کی سطح کو کم کرنا ہو گا
امریکہ اسرائیل میں اضافی فوجی اور  جنگی طیاروں کی تعیناتی کی تیاری میں ہے، رپورٹ
ٹرمپ: ایران کا مسئلہ حل ہو جائے تو پٹرول کی قیمتیں گر جائیں گی
پوتن: روس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا
پولینڈ: نیٹو پر 'بڑے حملے' کے لیے روس کے پاس مطلوبہ حد تک طاقت موجود نہیں
ٹرمپ نے ایرانی ہرمز امن معاہدے کو مسترد کردیا، تیل کے بھاو 105 ڈالر سے تجاوز کر گئے
شی-ٹرمپ مذاکرات میں 30 بلین ڈالر  کے مال و اسباب پر دوطرفہ کسٹم ڈیوٹی کم کرنے کا فیصلہ
ایران: رُوٹے نے یورپ کے ایران جنگ میں کردار کا اعتراف کیا ہے
یونانی وزیر اعظم میچوتاکیس: "ہم جغرافیہ تبدیل نہیں کر سکتے، ساتھ ساتھ زہنا ہمارا مقدر ہے"
امریکی سیکرٹری خزانہ: ایرانی اقوام متحدہ وفد کیسے اپنے ملک کو لوٹے گا