فرانسیسی رکن یورپی پارلیمنٹ ریما حسن نے اسٹرازبرگ میں یورپی پارلیمنٹ کے اندر ایک اسرائیلی جھنڈا ہٹا دیا، اور تصدیق کی کہ ان کا یہ عمل غزہ میں جاری نسل کشی، بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں، اور ادارہ جاتی "دوہرا معیار" کے خلاف براہِ راست احتجاج تھا۔
یہ واقعہ سوموار کو اس وقت پیش آیا جب ایک غیر سرکاری تقریب، جس کا اہتمام اسرائیل کے سفارتی نمائندے اور امریکن جیوِش کمیٹی (AJC) کے تعاون سے کیا گیا تھا ، کے دوران پیش آیا۔
حسن نے نوٹ کیا کہ تقریب میں پیش کردہ زیورات پر اسرائیل کو پورے غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے پر محیط دکھانے والے نقشے کندہ تھے ، جو کہ یورپی یونین کے قائم کردہ سفارتی ڈھانچے کی خلاف ورزی ہے۔
حسن نے وضاحت کی کہ انہوں نے یہ کارروائی اسوقت کی جب اسرائیلی فنکار یارون باب نے بات چیت کے دوران فلسطینی قوم کے وجود کو مسترد کرتےہوئے کہا: "فلسطین کا کوئی وجود نہیں۔ یہ محض ایک وہم ہے، جیسا کہ سینگوںوالا گھوڑا... نہ کوئی فلسطینی پناہ گزین ہیں، نہ ہی فلسطینی۔"
پارلیمانی تنازع
ریما حسن نے ایکس پر لکھا: "جب میں جا رہی تھی تو میں نے اسرائیلی جھنڈا اس کے اسٹینڈ سے ہٹا دیا۔"
"میرا اشارہ جاری نسل کشی، بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں، اور اس مسلسل اور ناقابلِ برداشت دوہرا معیار کی مذمت کا حصہ ہے۔"
حسن نے کہا کہ جب یورپی پارلیمنٹ کی عمارت کے اندر کسی روسی جھنڈے کی اجازت کبھی نہیں دی جاتی، تو اس کے برعکس اسرائیل کو سائٹ پر سفارتی نمائندگی ہونے کے باوجود "مکمل بلا جوابیت" حاصل ہے۔
یورپی پارلیمنٹ کی صدر رابرٹا میتسولا نے منگل کو فل اسپیک اجلاس کے دوران قانون سازوں سے خطاب میں حسن پر نمائش کو نقصان پہنچانے کا الزام لگایا اور کہا کہ اس معاملے کو سرکاری تادیبی کارروائیوں کے تحت "انتہائی سنجیدگی" سے لیا جا رہا ہے۔
حسن نے توڑ پھوڑ یا حملے کے الزامات مسترد کیے، اور وضاحت کی کہ اسرائیلی جھنڈا جب ہٹایا گیا تو ساتھ کھڑا یورپی یونین کا جھنڈا محض اسٹینڈ کے عدم توازن کی وجہ سے گر گیا۔
انہوں نے کہا: "کوئی جھنڈا روندھ کر نہیں پھینکا گیا اور نہ ہی اسے نقصان پہنچایا گیا ۔"
حسن نے مزید کہا کہ انہوں نے براہِ راست میتسولا کو خط لکھا ہے، اور رپورٹرز کے سامنے غلط معلومات کا ازالہ کرنے کے لیے سکیورٹی کی ویڈیو ریکارڈنگز جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔



















