دنیا
4 منٹ پڑھنے
چین: شی۔مائیکل ملاقات
مذاکرات میں دونوں رہنماوں نے اقتصادی تعلقات کو گہرا کرنے کے ساتھ ساتھ چین اور یورپی یونین کے باہمی روابط پر بات چیت کی ہے
چین: شی۔مائیکل ملاقات
آئرش وزیر اعظم مائیکل مارٹن، چینی صدر شی جن پنگ سے بیجنگ میں عوامی ہالِ عظیم میں 5 جنوری 2026 کو دوطرفہ ملاقات کے دوران گفتگو کر رہے ہیں۔ / Reuters
6 جنوری 2026

چین کے صدر شی جن پنگ نے کل بروز سوموار سرکاری دورے پر دارالحکومت بیجنگ میں موجود  آئرلینڈ کے وزیرِ اعظم مائیکل مارٹن کے ساتھ ملاقات کی۔ مذاکرات میں دونوں رہنماوں نے اقتصادی تعلقات کو گہرا کرنے کے ساتھ ساتھ چین اور یورپی یونین کے باہمی روابط پر بات چیت کی ہے۔

مارٹن اتوار کو چین کے پانچ روزہ سرکاری دورے پر دارالحکومت بیجنگ پہنچے۔ یہ دورہ حالیہ چودہ سالوں میں آئرش وزیرِ اعظم کا پہلا دورہ چین ہے۔

دو طرفہ مذاکرات میں شی نے کہا ہے کہ  "دو طرفہ احترام، مساوات اور دو طرفہ  منفعت چین۔آئرلینڈ تعلقات کی طویل مدتی اور  مستحکم ترقی سے حاصل ہونے والے قیمتی تجربات ہیں"۔

جمعرات تک جاری رہنے والے اس دورے کے دوران 'مارٹن ' شنگھائی میں بھی اعلیٰ چینی عہدیداروں اور کاروباری رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے۔

چین وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ نِنگ  کے مطابق شی نے کہا ہے کہ "دونوں فریقوں کو حاصل کردہ ان تجربات کو آئندہ نسلوں تک منتقل کرنا اور انہیں فروغ دینا چاہیے۔ چین،  دونوں  ملکوں کے عوام کو   مزید فوائد پہنچانے کی خاطر  اسٹریٹجک روابط کو مضبوط کرنے، سیاسی باہمی اعتماد کو گہرا کرنے اور عملی تعاون کو وسعت دینے کے لیے آئرلینڈ کے ساتھ مل کر کام کرنے پر تیار ہے اس سے  چین۔یورپ تعلقات کو بھی مزید تحریک ملے گی"۔

شی نے چین وزارتِ خارجہ  کی ویب سائٹ سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ کثیر الطرفی کے حامی ہونے کی وجہ سے چین اور آئرلینڈ  دونوں کو بین الاقوامی امور میں ہم آہنگی اور تعاون مضبوط کرنا چاہیے، مل کر اقوام متحدہ کے اختیار کا تحفظ کرنا چاہیے اور عالمی حکمرانی کے ایک زیادہ منصفانہ اور مساوی نظام کے لیے کام کرنا چاہیے"۔

ایشیا میں آئرلینڈ کا سب سے بڑا اقتصادی شراکت دار

شی نے کہا ہے کہ چین اور یورپی یونین کو 'طویل مدتی نقطۂ نظر برقرار رکھنا چاہیے۔ بحیثیت شراکت دار  باہم مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم رہنا چاہیے۔ دونوں ممالک کو باہمی اختلافات کو مقصدی اور منطقی  انداز میں لینا اور اسی شکل میں ان پر غور کرنا چاہیے  اور باہمی مفاد پر مبنی تعاون کو فروغ دینا چاہیے"۔

آئرش حکومت کے موضوع سے متعلق  جاری کردہ  بیان کے مطابق مارٹن نے، آئرلینڈ اور چین کے درمیان، تجارت میں 'زیادہ کھلے پن' کی حوصلہ افزائی کی اور دونوں ممالک کے درمیان مضبوط اقتصادی تعلقات کی اہمیت پر زور دیا ہے۔

انہوں   نے کھلے بازاروں کے ساتھ آئرلینڈ کی   حمایت کو اجاگر کیا اور کہا  ہےکہ عالمی تجارت میں باہمی تعاون سے دونوں ملک مستفید ہوتے ہیں۔

چین سالانہ 42 ارب ڈالر  کے تجارتی حجم کے ساتھ آئرلینڈ کا سب سے بڑا اور عالمی اعتبار سے پانچواں سب سے بڑا  ایشیائی  اقتصادی ساجھے دار  ہے۔

شی نے مہمان وزیر اعظم کی آراء کو دوہرایا اور کہا ہے کہ بیجنگ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل اقتصادیات، صحت اور تعلیم سمیت متعدد سیکٹروں میں عملی تعاون میں اضافے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

آئر لینڈ نے جاری کردہ بیان میں  بین الاقوامی معاملات پر کثیرالطرفہ تعاون پر زور دیا  اور کہا  ہےکہ چین آئرلینڈ کے ساتھ اسٹریٹجک روابط اور سیاسی اعتماد کو گہرا کرنا چاہتا ہے ۔

دونوں رہنماؤں نے کثیرالطرفی اور اقوام متحدہ کے اختیار کے احترام کے عزم کی دوبارہ تصدیق کی اور چین اور یورپی یونین کے درمیان تعلقات کی مزید ترقی پر بات چیت کی ہے۔

چینی  فریق  نے، آئرلینڈ کے رواں  سال کے اواخر میں یورپی کونسل کی دائروی صدارت  سنبھالنے کا ذکر کیا اور امید ظاہر کی ہے کہ ڈبلن چین۔یورپ تعلقات میں تعمیری انداز میں حصہ ڈالے گا۔

واضح رہے کہ مارٹن کا دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے کہ  جب یورپی یونین اور چین کے درمیان درآمدادی محصولات   کے معاملے پر وسیع تر کشیدگیاں دیکھی جا رہی  ہیں۔ بعض یورپی ڈیری مصنوعات اور برقی گاڑیوں پر عائد کیے گئے حالیہ چینی محصولات  تجارتی تعلقات پر دباؤ میں اضافہ کر رہے ہیں۔