دنیا
2 منٹ پڑھنے
حماس کی ایران سے اپیل: ہمسایہ ممالک کو نشانہ بنانے سے گریز کریں
فلسطین تحریکِ مزاحمت 'حماس' نے تہران کے حقِ دفاع کو تسلیم کیا لیکن پڑوسی ممالک کو ہدف نہ بنانے کی اپیل کی ہے
حماس کی ایران سے اپیل: ہمسایہ ممالک کو نشانہ بنانے سے گریز کریں
دھوئیں کے بادل اٹھتے ہوئے جب ایک روکے گئے ایرانی ڈرون کا ملبہ فجیرہ، متحدہ عرب امارات میں ایک تیل کی تنصیب سے ٹکرایا۔ ہفتہ، 14 مارچ 2026۔ / AP
4 گھنٹے قبل

فلسطین تحریکِ  مزاحمت 'حماس' نے اسرائیل اور امریکہ کے خلاف تہران کے حقِ دفاع کو تسلیم کیا اور اس کے ساتھ ساتھ ایران سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ وہ پڑوسی ممالک کو ہدف نہ بنائے۔

حماس نے 28 فروری سے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لینے والی  اس جنگ کو ختم کرنے کے لئے  بین الاقوامی برادری سے بھی  اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے۔  

جاری کردہ  بیان میں حماس نے کہا ہے کہ بین الاقوامی حقوق اور اصول و قواعد کی رُو سے اسلامی جمہوریہ ایران کو اپنے تمام وسائل کے ساتھ اس جارحیت کا جواب دینے کا حق حاصل ہے تاہم ہم اپنے ایرانی بھائیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ ہمسایہ ممالک کو نشانہ بنانے سے پرہیز کیا جائے۔

حماس نے، جو  غزہ میں اسرائیل کے خلاف دو سالہ تباہ کن  جنگ لڑ چُکا ہے، بین الاقوامی برادری سے بھی جاری جنگ کے 'فوری سدّباب' کی  خاطر کوششیں کرنے کی اپیل کی ہے۔

گروپ نے جنگ کے پہلے دن بھی  ایران کے سابق دینی لیڈر  علی خامنہ ای کے قتل کی  مذمت کی،  اسے 'گھناؤنا جرم' قرار دیا  اور  خامنہ ای کے فلسطین تحریک کے ساتھ سالوں پر محیط تعاون کا کھُل کر اعتراف کیا تھا۔

حماس نے خامنہ ای کے قتل سے فوراً بعد جاری کردہ بیان میں کہا تھا کہ" انہوں نے ہمارے لوگوں، ہمارے مقصد، اور ہماری مزاحمت کو ہر قسم کی سیاسی، سفارتی اور عسکری حمایت فراہم کی"۔

نام کو پوشیدہ رکھتے ہوئے حماس کے ایک عہدیدار نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ تحریک اس معاملے پر ایرانی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے۔اسرائیلی قبضہ ایران اور اس کے عرب و اسلامی پڑوسیوں کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔

واضح رہے کہ اپنے سے برتر امریکی۔ اسرائیلی فوجی طاقت کا سامنا ہونے کے باوجود ایران  کم از کم 10 ممالک  پر میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے جوابی کارروائی کر چُکا ہے۔