جمہوریہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان، 7 اکتوبر 2023 سے قبل اور اس کے بعد بھی فلسطین کے مقدمے کی گونجدار آواز رہے۔ اردوان نے برسوں سے ہر فورم پر فلسطین کے مقدمے اور غزہ کی حمایت کو قوتِ بھرپور کے ساتھ بیان کیا۔
گاہے بگاہے سنسنی خیز تصویروں کے ساتھ فلسطین میں ہونے والی نسل کشی کی حقیقت ان کے سامنے رکھ دینے والے ایردوان کی جانب سے 2019 میں اقوامِ متحدہ میں دریافت کردہ سوال"اسرائیلی ریاست کی حدود کہاں تک ہیں؟" آج بھی ہمارے ذہنوں میں نقش ہے۔
ترک صدر کا کہنا تھا کہ"وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم چپ رہیں تو مسئلہ ختم ہو جائے گا۔ حالانکہ اگر ہم خاموشی اختیار کر بھی لیں تو تاریخ خاموش نہیں رہے گی۔ اگر تاریخ چپ ہو جائے تو حقیقت خاموش نہیں رہے گی۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ ہم سے چھٹکارا پا لیں تو کوئی مسئلہ باقی نہیں رہے گا۔ حالانکہ اگر وہ ہم سے چھٹکارا پا لیں تو ضمیر کے عذاب سے نجات نہیں پاسکیں گے۔ اگر ضمیر کے عذاب سے بھی چھٹکارا پا لیں تو تاریخ کے عذاب سے بچ نہیں پائیں گے۔ اگر تاریخ کے عذاب سے بھی بچ گئے تو اللہ کے غضب سے نجات نہیں پائیں گے۔"
مظلوم علاقوں کے معصوم بچوں کی کہانیاں مؤثر الفاظ میں بیان کرنے والے ایردوان نے دنیا سے مخاطب ہوتے ہوئے اور دوطرفہ ملاقاتوں میں بھی غزہ کو ہمیشہ اپنے ایجنڈے کی بالائی صف میں رکھا۔
صدر رجب طیب اردوان:"یہ انسانیت کی نچلی ترین سطح ہے، پچھلے ایک صدی میں انسانیت نے اس قدر وحشت نہیں دیکھی۔"
صدر ایردوان نے حقائق کو کبھی پیچھے نہیں ہٹنے دیا اور نسل کشی کرنے والوں کے منہ پر مارا ۔ جتنا وہ بولتے گئے اتنا ہی اسرائیل ناخوش ہوا اور اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہال سے اسرائیلی وفد ہال چھوڑ کر چلا گیا۔
صدر رجب طیب اردوان:"میں اپنے دل اور الفاظ کے درمیان پردہ ڈالے بغیر یہاں کچھ حقائق کھل کر بیان کروں گا۔ کوئی برا مت مانے، کوئی ناراض نہ ہو — یہ رجب طیب ایردوان کا ذاتی معاملہ نہیں ہے؛ یہ ایک انسانی معاملہ ہے۔ یہ ہم سب کے لیے ضمیر کا معاملہ ہے۔"
ترکیہ نے بین الاقوامی رائے عامہ کو متحرک کرنے کے لیے ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر کوششیں جاری رکھیں۔
ایردوان نے فلسطینی کاز کو ہمیشہ ایک قومی مسئلہ سمجھا۔ ترکیہ کی حمایت کو ہر فورم پر بھرپور انداز میں اجاگر کیا۔



















