مشرق وسطی
3 منٹ پڑھنے
یہودی بستیوں کی توسیع کا منصوبہ فلسطینی تشخص کا خاتمہ ہوگا:حماس
مشرقی  القدس میں نئی غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے منصوبوں پر حماس نے متنبہ کیا ہے کہ یہ اقدامات فلسطینی شناخت کو مٹانے کے مقصد سے " عظیم یروشلم " منصوبے کا حصہ ہیں
یہودی بستیوں کی توسیع کا منصوبہ فلسطینی تشخص کا خاتمہ ہوگا:حماس
حماس / Reuters
6 نومبر 2025

حماس  نے مقبوضہ مشرقی  القدس  میں نئی غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے منصوبوں پر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے  اور متنبہ کیا ہے کہ وہ شہر کی فلسطینی شناخت کو مٹانے کے مقصد سے " عظیم یروشلم " منصوبے کا حصہ ہیں۔

فلسطینی مزاحمتی گروپ کے آفیشل ٹیلیگرام چینل پر جاری ہونے والے ایک بیان میں حماس کے پولیٹیکل بیورو کے رکن اور  القدس   امور کے  سربراہ ہارون ناصر الدین نے اسرائیلی حکام کی جانب سے شہر کے شمال مشرق میں سینکڑوں نئی غیر قانونی بستیوں کی تعمیر کے لیے جاری کیے گئے دو نئے ٹینڈرز کی مذمت کی۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدام زمینی سطح پر نئے آبادیاتی اور علاقائی حقائق کو مسلط کرنے، اسرائیلی کنٹرول کو وسعت دینے اور مقبوضہ شہر کے ارد گرد آبادکاری اور الحاق کے دائرے کو مضبوط کرنے کے لیے ایک "اندھی دوڑ" کی عکاسی کرتا ہے۔

ناصر الدین نے کہا کہ یہ منصوبے  القدس کے شمال مشرقی گیٹ وے کو نشانہ بناتے ہیں اور نام نہاد " عظیم یروشلم" منصوبے کے سب سے خطرناک مرحلے کے تحت آتے ہیں۔

 ان کے بقول اس پالیسی کا مقصد شہر کو اس کے فلسطینی  تشخص سے   مٹانا اور "منظم یہودیت" کے لیے مزید زمین پر قبضہ کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ غیر قانونی بستیوں کا یہ اقدام مسجد اقصیٰ کے احاطے پر اسرائیلی چھاپوں میں اضافے اور مقبوضہ مشرقی القدس  میں فلسطینیوں پر پابندیوں میں اضافے کے درمیان سامنے آیا ہے، ان میں گرفتاریاں ، بے دخلی اور گھروں کو مسمار کرنا شامل ہے  جس کا مقصد رہائشیوں کو ہراساں کرنا اور انہیں  نقل مکانی پر مجبور کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ قبضہ  القدس کی شناخت کو تبدیل کرنے میں کامیاب نہیں ہو گا، فلسطینی ثابت قدم رہیں گے اور ہر دستیاب ذرائع سے اپنی سرزمین اور شہر کا دفاع کریں گے۔

ناصر الدین نے عرب اور مسلم ممالک ، حکومتوں اور عوام دونوں پر زور دیا کہ وہ مقدس شہر کی حفاظت کے لئے اپنی "مذہبی اور تاریخی ذمہ داری" نبھائیں اور فلسطینی باشندوں کی استقامت کی حمایت کریں۔

 واضح رہے کہ اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی برادری اسرائیلی بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی سمجھتی ہے۔

اقوام متحدہ نے بارہا متنبہ کیا ہے کہ بستیوں میں مسلسل توسیع دو ریاستی حل کی عملداری کے لیے خطرہ ہے، یہ ایک ایسا فریم ورک ہے جسے کئی دہائیوں سے جاری فلسطین- اسرائیل تنازعہ کو حل کرنے کی  کنجی  کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

گزشتہ سال جولائی میں ایک مشاورتی رائے میں عالمی عدالت انصاف نے فلسطینی علاقے پر اسرائیل کے قبضے کو غیر قانونی قرار دیا تھا اور مقبوضہ مغربی کنارے اور مقبوضہ مشرقی  القدس میں تمام بستیوں کو خالی کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

 

دریافت کیجیے
روس بھارت سے تجارت جاری رکھنا چاہتاہے:پوٹن
بھارتی ایئر لائن انڈیگو نے500 پروازیں منسوخ کر دیں
اسرائیلی افواج نے مغربی کنارے میں پانچ تاریخی آثار کو ضبط کر لیا
امریکی فوج نے مشرقی پیسیفک میں  منشیات کے جہاز پر حملہ کردیا،4 افراد ہلاک
بین الاقوامی برادری اسرائیل کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کرے:ترکیہ
ٹی آر ٹی کا اسرائیل کی یورو ویژن میں شراکت پر بحث پر یورپی براڈ کاسٹنگ یونین کے اجلاس سے واک آؤٹ
ترکیہ کی دفاعی و ہوائی صنعت کی برآمدات 11 ماہ میں 7.4 بلین ڈالر تک پہنچ گئیں
پوتن کا دورہ بھارت: دفاع اور توانائی سمیت متعدد موضوعات مذاکراتی ایجنڈے پر
نیو اورلینز میں نیشنل گارڈز بھیجوں گا:ٹرمپ
ماسکو تاحال جنگ ختم کرنے کا خواہاں ہے:ٹرمپ
چین فرانس کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے:شی جن پنگ
اسرائیل  نے حماس سے وصول کردہ لاش کی تصدیق کر دی
اسرائیل جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے ہے
ٹرمپ کے ساتھ ٹیلی فونک باتچیت دوستانہ ماحول میں ہوئی:مادورو
روس-یوکرین مذاکرات کےلیے ترکیہ موزوں ترین ملک ہے:فدان