اایرانی پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ہم عسکری اور سفارتی جنگ میں ہتھیار نہیں ڈالیں گے،’امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک قدیم تہذیب اور قومی و مذہبی مزاحمت کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ اپنی طاقت ایران کی قوم اور مسلح افواج پر مسلط نہیں کر سکتے۔'
فارس نیوز ایجنسی کے مطابق قالیباف نے تہران میں ایران-عراق جنگ (1980-1988) کے جانبازوں کے ساتھ ایک پروگرام میں ملاقات کے موقع پر موجودہ صورتحال کے بارے میں بات کی۔
انہوں نے ایران-عراق جنگ کے دوران ملک پر لگائے گئے پابندیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اُس جنگ کا موازنہ آج کے حالات سے کیا جا سکتا ہے۔
قالیباف نے کہا: 'ایران-عراق جنگ کے دوران ہمیں کانٹے دار تار بھی نہیں دیتے تھے۔ توپخانوں کی فائرنگ کی حد 14-15 کلومیٹر دور تک بھی نہیں پہنچتی تھی۔ آج ہم اپنے میزائلوں کے ساتھ بغیر کسی پابندی کے کسی بھی مقام کو نشانہ بنانے کی صلاحیت تک پہنچ چکے ہیں۔'
انہوں نے کہا کہ ہائبرِڈ معاشی، عسکری اور سفارتی جنگ میں بھی وہ سر تسلیم خم نہیں کریں گے اور سخت جواب دیں گے۔ ٹرمپ ایک دیرینہ تہذیب اور قومی و مذہبی مزاحمت کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ اپنی طاقت ایران کی عوام اور مسلح افواج پر نافذ نہیں کر سکتے۔
انہوں نے ملک میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے خلاف موقف رکھنے والوں سے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سفارت کاری تسلیم کرنے کے مترادف نہیں ہے؛ مذاکرات بھی ایک طرح کی جدوجہد ہے اور میدان میں حاصل کی گئی طاقت کو سیاسی کامیابی میں تبدیل کرنے کا عمل ہے۔






















