امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر واشنگٹن کو معلوم بھی ہوتا کہ ایران خلیجی ممالک پر جوابی حملے کرے گا تو بھی امریکہ تہران کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھتا۔
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران کہا"یہ اس طرح کا سوال نہیں ہے کہ ’ارے، کیا تمہیں معلوم ہونا چاہیے تھا؟ اور اگر ہمیں معلوم بھی تھا تو کیا ہوا۔ میرا مطلب ہے، ہمیں وہ کرنا ہوگا جو ہمیں کرنا ہے۔"
انہوں نے کہا کہ متعدد خلیجی ممالک ایرانی گولہ باری کی زد میں ہیں۔ سعودی عرب، کویت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بحرین کو بھی… یہ تمام ممالک نشانہ بن رہے ہیں۔ کسی ماہر نے نہیں کہا تھا کہ ایسا ہو سکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ اس ہفتے ختم نہیں ہوگی لیکن جلد اختتام پذیر ہوگی ، یعنی زیادہ دیر نہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر ہچکچا رہے تھے مگر اس پر عمل پیرا ہونا لازمی تھا، جب جنگ ختم ہو جائے گی تو دنیا زیادہ محفوظ ہوگی۔
ان کا دعویٰ تھا کہ اگر ایران پر امریکی حملے نہ کیے گئے ہوتے تو جوہری جنگ پھوٹ پڑتی اور یہ تیسری عالمی جنگ تک پھیل سکتی تھی، انہوں نے اس مہم کو انتخابی جنگ کی بجائے ایک تقاضے کے طور پر پیش کیا۔
یہ بیانات انتظامیہ کے جنگ کے دورانیے کے بارے میں متغیر اور اکثر متضاد پیغام رسانی کی عکاسی کرتے ہیں۔
ٹرمپ نے ابتدا میں کہا تھا کہ یہ مہم چار سے پانچ ہفتوں تک جاری رہے گی اور بار بار کہا کہ یہ شیڈول سے زیادہ طول پکڑ رہی ہے۔
سیکرٹری امورِتوانائی کرس رائٹ نے اتوار کو کہا کہ یہ بلاشبہ چند ہفتوں میں ختم ہو جائے گی۔
تاہم دفاعی سیکرٹری پیٹ ہیگسیٹ نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ یہ تو ابھی آغاز ہے، جبکہ نیوز سائٹ Axios نے رپورٹ کیا کہ واشنگٹن اور اتحادی دارالحکومتوں کے اہلکار ستمبر تک امریکی مداخلت کے پھیلاؤ کی تیاری کر رہے تھے۔
امریکی-اسرائیلی جنگ برائے ایران 28 فروری کو شروع ہوئی اور مبینہ طور پر اس میں 1,200 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں تب کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای بھی شامل ہیں۔
جنگ چھڑنے سے اب تک 14 امریکی فوجی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔








