ایک ڈرون حملے نے آج جنوبی روس میں ایک تیل ڈپو میں آگ لگا دی ۔
علاقائی حکام نے کہا کہ کراسنودار کے لابنسک علاقے میں واقع ڈپو کو حملے کے بعد آگ لگ گئی۔
حملے میں حکام نے ابھی تک نقصان کی پوری حد کی تصدیق نہیں کی ہے۔
باور رہے کہ اس خطے کو بار بار یوکرینی ڈرونز نے نشانہ بنایا ہے، جو روسی توانائی اور فوجی بنیادی ڈھانچے کے خلاف ایک وسیع فضائی مہم کا حصہ ہیں۔
گزشتہ ہفتے حملوں نے تکھوریٹسک کے قریب ایک تیل کی تنصیب ، اَفِپسکی ریفائنری، اور پورٹ کاواکاز کے قریب تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔
اسی دوران، روس نے کہا کہ یوکرین نے ہفتہ کے آخر میں ماسکو کے خلاف اپنی بڑی ڈرون مہمات میں سے ایک شروع کی۔
ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانین نے بتایا کہ دو دن کے دوران سو سے زیادہ ڈرونز کو روکا گیا، جب کہ فضائی دفاع نے کئی کاماکازی ڈرونز کا بھی مقابلہ کیا ہے ۔
خبر رساں ایجنسی تاس کے مطابق ،روسی دفاعی وزارت نے کہا کہ رات بھر کم از کم 145 ڈرونز مار گرائے گئے، جن میں سے 53 ماسکو کے اوپر تھے۔
حکام نے حملوں کے دوران شہر کے بڑے ہوائی اڈوں پر پروازوں کو عارضی طور پر محدود کر دیا۔
رپورٹ شدہ حملوں پر یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی یا کسی بھی یوکرینی عہدیدار کی جانب سے فوری تبصرہ موصول نہیں ہوا۔
اس سے پہلے صدر زیلنسکی نے کہا کہ امریکہ نے جنگ ختم کرنے پر بات چیت کے لیے روس کے ساتھ امریکہ کی سرزمین پر ایک تین فریقی ملاقات کی پیشکش کی تھی۔
کیف میں بات کرتے ہوئے انہوں نے اتوار کو کہا کہ ملاقات اگلے ہفتے تک مؤخر کر دی گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر واشنگٹن یا ماسکو کسی متبادل مقام کی پیشکش کریں تو کیف دوسرے ملک میں مذاکرات کے لیے بھی تیار ہے۔











