صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر امریکہ کے حلیف ممالک آبنائے ہرمز کھولنے میں مدد نہیں کرتے تو نیٹو کا مستقبل "بہت برا" ہوگا۔
یاد رہے کہ یہ تیل کی نقل و حمل کا اہم راستہ ہے جسے ایران نے عملاً بند کر دیا ہے۔
اتوار کو فائننشل ٹائمز کے ساتھ ایک مختصر گفتگو میں ٹرمپ نے کہا کہ جس طرح امریکہ نے روس کے ساتھ جنگ میں یوکرین کی مدد کی ہے، ویسے ہی وہ توقع کرتے ہیں کہ یورپ آبنائے ہرمز کے معاملے میں مدد کرے گاجس کے بند ہونے سے دنیا بھر میں توانائی کی قیمتیں کافی حد تک بڑھ گئی ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ اگر کوئی ردعمل نہ آیا یا اگر ردعمل منفی ہوا تو میرے خیال میں یہ نیٹو کے مستقبل کے لیے بہت برا ہوگا۔
ٹرمپ نے کہا کہ یہ مناسب ہے کہ جو لوگ ہرمز گزرگاہ سے فائدہ اٹھانے والے ہیں وہ اس بات کو یقینی بنانے میں مدد کریں کہ وہاں کچھ برا نہ ہو۔
جب مخصوص مدد کے بارے میں پوچھا گیا تو ٹرمپ نے بتایا کہ وہ بارودی آلات ہٹانے والے جہازچاہتے ہیں ۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے سلسلے میں سات ممالک کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ واشنگٹن ایران سے رابطے میں ہے لیکن انہوں نے شبہ ظاہر کیا کہ تہران تنازعہ ختم کرنے کے لیے سنجیدہ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
ٹرمپ نے ایئر فورس ون پر صحافیوں سے کہا کہ اُن کی انتظامیہ ایران سے بات کر رہی ہے، "لیکن میں نہیں سوچتا کہ وہ تیار ہیں۔"
ایران کے خلاف جنگ کی ممکنہ طوالت نے تیل کی منڈیوں میں ہلچل پیدا کر دی ہے، جہاں گزشتہ دو ہفتوں میں خام تیل کی قیمتیں رسد کے خطرات کی وجہ سے تیزی سے بڑھ گئی ہیں۔
گزشتہ روز بین الاقوامی بینچ مارک برانٹ کی قیمت 2.9 فیصد بڑھ کر106.11 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔











