عالمی ادارہ صحت 'ڈبلیو ایچ او' نے روس سے ،سائیبیریا کی لیبارٹری اہلکار کی موت سے متعلق، شفافیت کا مطالبہ کیا ہے۔
ایسے میں کہ جب واشنگٹن ماسکو پر سفارتی دباؤ بڑھا رہا ہے عالمی ادارۂ صحت نے بھی، سائبیریا کی 'طاعون تحقیقی تنصیب' کی ایک لیبارٹری ٹیکنیشن کی ہلاکت کے بعد، روس سے مکمل شفافیت کا مطالبہ کر دیا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم گیبریئسس نے کہا ہے کہ ’’متضاد اطلاعات کی وضاحت کرنے اور عوامی صحت سے متعلقہ ممکنہ خطرات کا درست اندازہ لگانے کے لیے، بین الاقوامی صحت ضوابط کے تحت بروقت، مکمل اور شفاف معلومات کا تبادلہ انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔‘‘
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی وائٹ ہاؤس سے جاری کردہ بیان میں تصدیق کی ہے کہ وہ اس معاملے پر روس کے صدر ولادیمیر پوتن سے براہِ راست بات کریں گے۔
ٹرمپ نے صحافیوں کے سوال کے جواب میں کہا ہے کہ "ہاں، میری ایک ملاقات طے ہے جو بہت جلد ہوگی"۔
امریکہ کے وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے دورہ آئس لینڈ کے دوران تصدیق شدہ معلومات کی فراہمی کے معاملے میں ماسکو پر زور دینے کے بعد سفارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے ۔ اس کے علاوہ امریکہ وزارتِ خارجہ نے بھی روس کو باضابطہ سفارتی اقدام کے ذریعے خبردار کیا ہے کہ وہ عالمی سطح پر صحت سے متعلقہ اطلاعات کی فراہمی کے قواعد کی خلاف ورزی نہ کرے۔
متضاد اطلاعات
روس کے آزاد خبر رساں ادارے ’’پیپل آف بائیکال‘‘ نے کہا ہے کہ سائبیریا اور مشرق بعید کے' ارکوتسک انسٹی ٹیوٹ برائے انسدادِ وباء 'کی 28 سالہ ملازمہ داریا شیپیلووا کو جراثیم کی تجرباتی ٹیوب گِر کر ٹوٹنے کے بعد نمونیا وباء لاحق ہو گئی ہے۔ مریضہ کے ساتھ رابطے میں آنے والے تقریباً 200 افراد کو قرنطینہ میں لے لیاگیا ہے۔
روسی حکام نے ان اطلاعات کو سختی سے مسترد کیا اور اصرار سے کہا ہے کہ موت کے بعد کیے گئے تجزیوں میں شیپیلووا کے جسم سے کسی بھی لیبارٹری جرثومے کے شواہد نہیں ملے۔
نمونیا وباء بیکٹیریا سے ہونے والے انفیکشن کی ایک انتہائی خطرناک اور متعدی قسم ہے جس کا علاج نہ کیا جائے تو یہ سانس میں دِقّت اور بعد ازاں موت کا سبب بن سکتی ہے۔
ٹرمپ کی جانب سے مدد کی پیشکش کے جواب میں روس کے وفاقی ادارہ برائے عوامی صحت 'روسپوتریب نادزور' نے جوابی بیان میں کہا ہےکہ ماسکوبھی، متعدی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے بحرانوں سے نبرد آزما، امریکہ کی مدد کے لیے تیار ہے ۔




















