منگل کو ایرانی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کی دھمکی سے پیچھے ہٹنے کا اشارہ دینے کے چند گھنٹے بعد اسرائیل، امریکہ حملوں نے قدرتی گیس کی 2 تنصیبات اور ایک پائپ لائن کو نشانہ بنایا ہے۔
فارس نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ 'صہیونی اور امریکی دشمن کے جاری حملوں کے دوران، اصفہان کے محکمہ گیس کے دفتر اور گیس پریشر ریگولیشن اسٹیشن کو نشانہ بنایا گیا۔'
فارس نے مزید کہا کہ وسطی ایران میں واقع یہ تنصیبات 'جزوی طور پر متاثر' ہوئیں، جس نے کوئی ماخذ فراہم نہیں کیا اور یہ رپورٹ ایران کے واحد خبررساں ادارے نے جاری کی ہے۔
اطلاع کے مطابق ایک حملے میں ملک کے جنوب مغرب میں واقع خرم شہر کے پاور پلانٹ کی گیس پائپ لائن کو بھی نشانہ بنایا۔
علاقے کے گورنر کاق کہنا ہے کہ ان انفراسٹرکچرز کا معمول کے مطابق کام جاری ہے اور گیس کی فراہمی میں کوئی خلل نہیں آیا۔
ٹرمپ نے پیر کو اے ایف پی کو بتایا کہ ایران کے ساتھ 'صورتِ حال بہت اچھی جا رہی ہے'، یہ بیان اس کے فوراً بعد آیا جب انہوں نے تہران کے ساتھ مذاکرات اور اسلامی جمہوریہ کے بجلی گھروں کو ہدف بنانے پر پانچ روزہ وقفے کا اعلان کیا تھا۔
ٹرمپ کے موقف میں اچانک تبدیلی دو روزہ الٹی میٹم کے ختم ہونے سے گھنٹوں پہلے ہوئی ہے۔
تاہم ایرانی میڈیا نے پیر کو کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی مذاکرات نہیں ہوئے۔




















