دنیا
2 منٹ پڑھنے
ٹرمپ ڈنمارک کی خودمختاری کا احترام کریں:امریکی قانون ساز
ریپبلکن اور ڈیموکریٹک سینیٹرز نے ٹرمپ انتظامیہ پر زور دیا  ہے کہ وہ ڈنمارک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرے  کیونکہ نیٹو اتحادی پر دباؤ ڈالنے کی کوئی بھی کوشش اتحاد کے خود ارادیت کے اصولوں کو کمزور کرے گی
ٹرمپ ڈنمارک کی خودمختاری کا احترام کریں:امریکی قانون ساز
ڈنمارک / Reuters
7 جنوری 2026

ریپبلکن اور ڈیموکریٹک سینیٹرز نے ٹرمپ انتظامیہ پر زور دیا  ہے کہ وہ ڈنمارک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرے  کیونکہ نیٹو اتحادی پر دباؤ ڈالنے کی کوئی بھی کوشش اتحاد کے خود ارادیت کے اصولوں کو کمزور کرے گی۔

ڈیموکریٹ جین شاہین اور ریپبلکن تھام ٹلس، جو دو جماعتی سینیٹ نیٹو آبزرور گروپ کے شریک  ارکان  ہیں انہوں  نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ ڈنمارک ایک قابل اعتماد اتحادی رہا ہے  جبکہ  انہوں نے 11 ستمبر کے حملوں کے بعد اپنی فوجی حمایت اور دفاعی اخراجات میں حالیہ اضافے کا حوالہ دیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ جب ڈنمارک اور گرین لینڈ واضح کریں گے کہ گرین لینڈ برائے فروخت  نہیں ہے تو امریکہ کو اپنے معاہدے کی ذمہ داریوں کا اور ڈنمارک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنا ہوگا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یوکرین میں فعال جنگ اور روس و چین کی طرف سے آرکٹک اور انڈو-پیسیفک میں بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر  ہم نیٹو کے اندر خلفشار یا تقسیم برداشت نہیں کر سکتے۔

 وائٹ ہاؤس کے ایک بیان کے مطابق ،سینیٹرز کا ردعمل اس وقت  سامنے آیا جب ٹرمپ انتظامیہ  کا کہنا تھا  کہ وہ گرین لینڈ حاصل کرنے کے اپنے اختیارات پر غور کر رہی ہے جن میں ممکنہ فوجی اقدامات بھی شامل ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولینا لیویٹ نے کہا کہ صدر اور ان کی ٹیم اس اہم خارجہ پالیسی مقصد کے حصول کے لیے مختلف اختیارات پر بات کر رہی  ہے  اور ظاہر ہے کہ امریکی فوج کا استعمال ہمیشہ کمانڈر ان چیف کے اختیار میں  ہوتا ہے۔

وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کے ایک دن بعدامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو "قومی سلامتی" کے مفادات کے لیے گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کی دوبارہ اپیل کی تھی ۔

جب ان سے گرین لینڈ کے خلاف کسی ممکنہ امریکی کارروائی کے بارے میں پوچھا گیا  تو انہوں نے کہا کہ ہمیں قومی سلامتی کے نقطہ نظر سے گرین لینڈ کی ضرورت ہے اور ڈنمارک یہ نہیں کر پائے گا۔

گرین لینڈ  تاجِ  ڈنمارک کا  ایک خود مختار علاقہ ہے اور اس نے بار بار اس  کی منتقلی کی  امریکی تجاویز کو مسترد کیا ہے۔

ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن نے بھی  ٹرمپ سے کہا ہے کہ وہ  اپنی دھمکیوں کو روکیں۔