سیاست
2 منٹ پڑھنے
اسرائیل کا جنوبی لبنان میں دریائے لیطانی تک کے علاقے پر قبضے کے منصوبے کا اعلان
اسرائیلی وزیر دفاع: اسرائیلی افواج تقریباً 30 کلومیٹر شمال تک پھیلے علاقوں کا کنٹرول سنبھالیں گی، ایک مستقل فوجی موجودگی قائم کریں گی اور جنوب کے بعض حصوں میں رہائشیوں کی واپسی کو روکیں گی۔
اسرائیل کا جنوبی لبنان میں دریائے لیطانی تک کے علاقے پر قبضے کے منصوبے کا اعلان
فائل فوٹو: شمالی اسرائیل سے لی گئی تصویر میں اسرائیلی فوجی گاڑیاں اسرائیل-لبنان سرحد پر نقل و حرکت کر رہی ہیں۔ / Reuters
13 گھنٹے قبل

اسرائیل نے صاف طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ جنوبی لبنان کے بڑے حصوں پر، دریائے لیطانی تک قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، یہ سرحد پار اپنی علاقائی امنگوں کا اب تک کا سب سے واضح بیان ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع: اسرائیلی افواج تقریباً 30 کلومیٹر شمال تک پھیلے علاقوں کا کنٹرول سنبھالیں گی، ایک مستقل فوجی موجودگی قائم کریں گی اور جنوب کے بعض حصوں میں رہائشیوں کی واپسی کو روکیں گی۔

کاتز نے کہا کہ فوجی پہلے ہی اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کارروائی کر رہے ہیں جسے انہوں نے 'آگے کا دفاعی محاذ' قرار دیا۔ وہ حزب اللہ  کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، اور متاثرہ علاقوں میں گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کی نگرانی بھی کر رہے ہیں۔

قبضے میں توسیع، قانونی خدشات میں اضافہ

ان بیانات سے محدود سرحدی حملوں سے لے کر وسیع تر قبضہ کے اسٹریٹجی کی طرف تبدیلی کا اشارہ ملتا ہے، اور اسے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں سے تشبیہ دی جا رہی ہے، جہاں سرحد کے قریب وسیع علاقے شہری آبادی سے خالی کر دیے گئے تھے۔

اسرائیلی افواج نے جنوبی لبنان میں پل تباہ کیے اور گھروں کی تباہی کو تیز کیا ہے — یہ اقدام بین الاقوامی قانون کے تحت سنگین خدشات پیدا کرتے ہیں، جو شہری بنیادی ڈھانچے پر حملوں اور جبری بے دخلی کو ممنوع قرار دیتا ہے۔

کاتز کے اس بیان کہ مقررہ علاقوں میں 'گھر یا رہائشی نہیں ہو سکتے' نے طویل المدتی علاقائی کنٹرول کے خدشات کو مزید بھڑکا دیا ہے۔

جانی نقصان اور سفارتی اثرات

لبنانی حکام کے بقول ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ایک ملین سے زیادہ بے گھر ہوئے ہیں، جنوب اور بیروت کے بعض حصوں میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلی ہوئی ہے۔

شدت پسندی علاقائی سفارتکاری پر بھی دباؤ ڈال رہی ہے۔ لبنان نے ایران کے سفیر محمد رضا شیبانی کو سفارتی اصولوں کی خلاف ورزی کا حوالہ دیتے ہوئے ملک بدر کر دیا، اور ساتھ ہی تہران سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے۔

یہ پیش رفت اسی دوران سامنے آ رہی ہیں جب امریکہ اور ایران  کی وسیع جنگ کو ختم کرنے کی کوششوں پر عدم یقینی کی صورتحال چھائی ہوئی ہے اور کشیدگی کم کرنے کا کوئی واضح راستہ دکھائی نہیں دیتا۔

 

دریافت کیجیے
شمالی کوریا: کم جونگ-اُن تیسری دفعہ صدر منتخب ہو گئے
اسرائیل نے تہران پر نئے حملے شروع کر دیے جبکہ ایران نے خلیج کے مقامات پر نشانہ بنایا
اسرائیل نے غزہ میں مزید چار فلسطینی شہریوں کو شہید کر دیا
خلیجی ممالک ترکیہ اور قطر کے بعد فوجی ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے لیے متحد
قطر میں ہیلی کاپٹر گر کر تباہ،ترک باشندوں سمیت7 افراد ہلاک
مغربی کنارےمیں اسرائیلی آباد کاروں کی دہشت گردی،ترکیہ کا سخت ردعمل
امریکہ:ایران کے ساتھ ممکنہ امن مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک کا جائزہ لیا جا رہا ہے
سوڈان میں ہسپتال پر حملہ، 13 بچوں سمیت 64 افراد ہلاک
سابق ایف بی آئی چیف روبرٹ میولر کا انتقال،ٹرمپ کا تحقیر آمیز بیان
ہمارے لیے کافی مشکل شام تھی:نیتن یاہو
ایران نے 48 گھنٹوں میں ہرمز نہ کھولا تو ایٹمی تنصیبات تباہ کردیں گے:ٹرمپ
صدر ایردوان  نے اس تمنا کا اظہار کیا ہے کہ نوروز کا تہوار خطے میں امن و امان کا پیامبر بنے
گوٹریش: اقوام متحدہ غزہ پر ٹرمپ کے امن بورڈ کے ساتھ تعاون کر رہا ہے
روسی ڈرون حملے سے یوکرین کے علاقے چرنیحیف میں بجلی کی بندش
ترکیہ: جنوبی شام میں اسرائیل کے حملے انتہائی "خطرناک کارروائی" ہے