سیاست
2 منٹ پڑھنے
اسرائیل کا جنوبی لبنان میں دریائے لیطانی تک کے علاقے پر قبضے کے منصوبے کا اعلان
اسرائیلی وزیر دفاع: اسرائیلی افواج تقریباً 30 کلومیٹر شمال تک پھیلے علاقوں کا کنٹرول سنبھالیں گی، ایک مستقل فوجی موجودگی قائم کریں گی اور جنوب کے بعض حصوں میں رہائشیوں کی واپسی کو روکیں گی۔
اسرائیل کا جنوبی لبنان میں دریائے لیطانی تک کے علاقے پر قبضے کے منصوبے کا اعلان
فائل فوٹو: شمالی اسرائیل سے لی گئی تصویر میں اسرائیلی فوجی گاڑیاں اسرائیل-لبنان سرحد پر نقل و حرکت کر رہی ہیں۔ / Reuters
25 مارچ 2026

اسرائیل نے صاف طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ جنوبی لبنان کے بڑے حصوں پر، دریائے لیطانی تک قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، یہ سرحد پار اپنی علاقائی امنگوں کا اب تک کا سب سے واضح بیان ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع: اسرائیلی افواج تقریباً 30 کلومیٹر شمال تک پھیلے علاقوں کا کنٹرول سنبھالیں گی، ایک مستقل فوجی موجودگی قائم کریں گی اور جنوب کے بعض حصوں میں رہائشیوں کی واپسی کو روکیں گی۔

کاتز نے کہا کہ فوجی پہلے ہی اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کارروائی کر رہے ہیں جسے انہوں نے 'آگے کا دفاعی محاذ' قرار دیا۔ وہ حزب اللہ  کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، اور متاثرہ علاقوں میں گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کی نگرانی بھی کر رہے ہیں۔

قبضے میں توسیع، قانونی خدشات میں اضافہ

ان بیانات سے محدود سرحدی حملوں سے لے کر وسیع تر قبضہ کے اسٹریٹجی کی طرف تبدیلی کا اشارہ ملتا ہے، اور اسے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں سے تشبیہ دی جا رہی ہے، جہاں سرحد کے قریب وسیع علاقے شہری آبادی سے خالی کر دیے گئے تھے۔

اسرائیلی افواج نے جنوبی لبنان میں پل تباہ کیے اور گھروں کی تباہی کو تیز کیا ہے — یہ اقدام بین الاقوامی قانون کے تحت سنگین خدشات پیدا کرتے ہیں، جو شہری بنیادی ڈھانچے پر حملوں اور جبری بے دخلی کو ممنوع قرار دیتا ہے۔

کاتز کے اس بیان کہ مقررہ علاقوں میں 'گھر یا رہائشی نہیں ہو سکتے' نے طویل المدتی علاقائی کنٹرول کے خدشات کو مزید بھڑکا دیا ہے۔

جانی نقصان اور سفارتی اثرات

لبنانی حکام کے بقول ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ایک ملین سے زیادہ بے گھر ہوئے ہیں، جنوب اور بیروت کے بعض حصوں میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلی ہوئی ہے۔

شدت پسندی علاقائی سفارتکاری پر بھی دباؤ ڈال رہی ہے۔ لبنان نے ایران کے سفیر محمد رضا شیبانی کو سفارتی اصولوں کی خلاف ورزی کا حوالہ دیتے ہوئے ملک بدر کر دیا، اور ساتھ ہی تہران سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے۔

یہ پیش رفت اسی دوران سامنے آ رہی ہیں جب امریکہ اور ایران  کی وسیع جنگ کو ختم کرنے کی کوششوں پر عدم یقینی کی صورتحال چھائی ہوئی ہے اور کشیدگی کم کرنے کا کوئی واضح راستہ دکھائی نہیں دیتا۔

 

دریافت کیجیے
پاکستان کے مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے :جے ڈی وینس
آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی معیشت غیر مستحکم ہوجائے گی:آسیان
بن گویر کا مسجدِ اقصیٰ پر دھاوا: میں اس جگہ کا مالک ہوں
جنگ بندی کے بعد روس-یوکرین جھڑپوں کی اطلاع
ہنگری:اوربان کا 16 سالہ اقتدار ختم ،ماگیار کو واضح برتری
روس۔یوکرین ایسٹر فائربندی ختم ہو گئی
سوڈان: لاکھوں انسان صرف ایک وقت کھانا کھا رہے ہیں
اسلام آباد میں امن مذاکرات کے غیر نتیجہ خیز ہونے پر ٹرمپ ایران پر نئے فوجی حملوں پر غور کر رہے ہیں
ایران اور امریک اسلام آباد میں مذاکرات کے ختم ہونے سے قبل معاہدے کے بہت قریب تھے: عراقچی
ٹرمپ نے پوپ لیو پر بھی چڑھائی کر دی: مجھے ایسا پوپ نہیں چاہیئے
امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر دی، تیل کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں
ترکیہ: پانچواں انطالیہ ڈپلومیسی فورم عالمی رہنماوں کی میزبانی کے لئے تیار
ترک پراسیکیوٹروں نے نیتن یاہو کے خلاف فردِ جرم تیار کر لی
اسرائیل حزبِ اختلاف: نیتن یاہو ناکام رہے ہیں
عالمی صمود بحری بیڑہ دوبارہ غزہ کے لئے عازمِ سفر