سیاست
2 منٹ پڑھنے
اسرائیل کا جنوبی لبنان میں دریائے لیطانی تک کے علاقے پر قبضے کے منصوبے کا اعلان
اسرائیلی وزیر دفاع: اسرائیلی افواج تقریباً 30 کلومیٹر شمال تک پھیلے علاقوں کا کنٹرول سنبھالیں گی، ایک مستقل فوجی موجودگی قائم کریں گی اور جنوب کے بعض حصوں میں رہائشیوں کی واپسی کو روکیں گی۔
اسرائیل کا جنوبی لبنان میں دریائے لیطانی تک کے علاقے پر قبضے کے منصوبے کا اعلان
فائل فوٹو: شمالی اسرائیل سے لی گئی تصویر میں اسرائیلی فوجی گاڑیاں اسرائیل-لبنان سرحد پر نقل و حرکت کر رہی ہیں۔ / Reuters

اسرائیل نے صاف طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ جنوبی لبنان کے بڑے حصوں پر، دریائے لیطانی تک قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، یہ سرحد پار اپنی علاقائی امنگوں کا اب تک کا سب سے واضح بیان ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع: اسرائیلی افواج تقریباً 30 کلومیٹر شمال تک پھیلے علاقوں کا کنٹرول سنبھالیں گی، ایک مستقل فوجی موجودگی قائم کریں گی اور جنوب کے بعض حصوں میں رہائشیوں کی واپسی کو روکیں گی۔

کاتز نے کہا کہ فوجی پہلے ہی اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کارروائی کر رہے ہیں جسے انہوں نے 'آگے کا دفاعی محاذ' قرار دیا۔ وہ حزب اللہ  کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، اور متاثرہ علاقوں میں گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کی نگرانی بھی کر رہے ہیں۔

قبضے میں توسیع، قانونی خدشات میں اضافہ

ان بیانات سے محدود سرحدی حملوں سے لے کر وسیع تر قبضہ کے اسٹریٹجی کی طرف تبدیلی کا اشارہ ملتا ہے، اور اسے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں سے تشبیہ دی جا رہی ہے، جہاں سرحد کے قریب وسیع علاقے شہری آبادی سے خالی کر دیے گئے تھے۔

اسرائیلی افواج نے جنوبی لبنان میں پل تباہ کیے اور گھروں کی تباہی کو تیز کیا ہے — یہ اقدام بین الاقوامی قانون کے تحت سنگین خدشات پیدا کرتے ہیں، جو شہری بنیادی ڈھانچے پر حملوں اور جبری بے دخلی کو ممنوع قرار دیتا ہے۔

کاتز کے اس بیان کہ مقررہ علاقوں میں 'گھر یا رہائشی نہیں ہو سکتے' نے طویل المدتی علاقائی کنٹرول کے خدشات کو مزید بھڑکا دیا ہے۔

جانی نقصان اور سفارتی اثرات

لبنانی حکام کے بقول ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ایک ملین سے زیادہ بے گھر ہوئے ہیں، جنوب اور بیروت کے بعض حصوں میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلی ہوئی ہے۔

شدت پسندی علاقائی سفارتکاری پر بھی دباؤ ڈال رہی ہے۔ لبنان نے ایران کے سفیر محمد رضا شیبانی کو سفارتی اصولوں کی خلاف ورزی کا حوالہ دیتے ہوئے ملک بدر کر دیا، اور ساتھ ہی تہران سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے۔

یہ پیش رفت اسی دوران سامنے آ رہی ہیں جب امریکہ اور ایران  کی وسیع جنگ کو ختم کرنے کی کوششوں پر عدم یقینی کی صورتحال چھائی ہوئی ہے اور کشیدگی کم کرنے کا کوئی واضح راستہ دکھائی نہیں دیتا۔

 

دریافت کیجیے
اسرائیلی فوجی حکام نیتن یاہو انتخابات میں تاخیر کرنے کے لیے تشدد میں اضافے کی کوشش کر سکتے ہیں: رپورٹ
قالیباف: ہمیں ہمسایہ ممالک سے سیکیورٹی اور اقتصادی تعاون کے پیغامات موصول ہوئے ہیں
امریکی سفیر: شام میں اسرائیلی حملے کے پیچھے غلط معلومات کا ہاتھ تھا
کولمبیا میں زلزلے سے اموات کی تعداد میں اضافہ؛ ترکیہ کی انسانی امداد کی فراہمی میں تیزی
یوکرینی ڈراونز نے روسی علاقے ثمارا میں ایک صنعتی تنصیب اور اوزون گودام کو نشانہ بنایا
ترکیہ کی صدر ایردوان کے خلاف تبصروں پر اسرائیل کی مذمت
ایرانی فوج دفاعی نظریے سے حملہ آور نظریے کی طرف مڑ رہی ہے: فوجی ترجمان
امریکہ: چارٹر طیارے کے حادثے میں تمام 8 افراد ہلاک
روس: ماسکو ایران پر کوئی دباؤ نہیں ڈال رہا
امریکہ: ٹریژری بانڈوں کی پیداوار ایک بار پھر بڑھ گئی
فلسطین: عالمی کمپنیاں اسرائیل کے 'ای 1' منصوبے میں شرکت سے گریز کریں
پاکستان: ڈار۔شیبانی ملاقات، دوطرفہ تعاون و علاقائی صورتحال پر بات چیت
ترکیہ کی زیرِ آب گاڑی نمائش کے لئے پیش کر دی گئی
اسرائیل کی جنوبی لبنان پرگولہ باری
شامی وزیر  خارجہ پاکستان میں، دو طرفہ مذاکرات کریں گے