اسرائیل نے صاف طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ جنوبی لبنان کے بڑے حصوں پر، دریائے لیطانی تک قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، یہ سرحد پار اپنی علاقائی امنگوں کا اب تک کا سب سے واضح بیان ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع: اسرائیلی افواج تقریباً 30 کلومیٹر شمال تک پھیلے علاقوں کا کنٹرول سنبھالیں گی، ایک مستقل فوجی موجودگی قائم کریں گی اور جنوب کے بعض حصوں میں رہائشیوں کی واپسی کو روکیں گی۔
کاتز نے کہا کہ فوجی پہلے ہی اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کارروائی کر رہے ہیں جسے انہوں نے 'آگے کا دفاعی محاذ' قرار دیا۔ وہ حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، اور متاثرہ علاقوں میں گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کی نگرانی بھی کر رہے ہیں۔
قبضے میں توسیع، قانونی خدشات میں اضافہ
ان بیانات سے محدود سرحدی حملوں سے لے کر وسیع تر قبضہ کے اسٹریٹجی کی طرف تبدیلی کا اشارہ ملتا ہے، اور اسے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں سے تشبیہ دی جا رہی ہے، جہاں سرحد کے قریب وسیع علاقے شہری آبادی سے خالی کر دیے گئے تھے۔
اسرائیلی افواج نے جنوبی لبنان میں پل تباہ کیے اور گھروں کی تباہی کو تیز کیا ہے — یہ اقدام بین الاقوامی قانون کے تحت سنگین خدشات پیدا کرتے ہیں، جو شہری بنیادی ڈھانچے پر حملوں اور جبری بے دخلی کو ممنوع قرار دیتا ہے۔
کاتز کے اس بیان کہ مقررہ علاقوں میں 'گھر یا رہائشی نہیں ہو سکتے' نے طویل المدتی علاقائی کنٹرول کے خدشات کو مزید بھڑکا دیا ہے۔
جانی نقصان اور سفارتی اثرات
لبنانی حکام کے بقول ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ایک ملین سے زیادہ بے گھر ہوئے ہیں، جنوب اور بیروت کے بعض حصوں میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلی ہوئی ہے۔
شدت پسندی علاقائی سفارتکاری پر بھی دباؤ ڈال رہی ہے۔ لبنان نے ایران کے سفیر محمد رضا شیبانی کو سفارتی اصولوں کی خلاف ورزی کا حوالہ دیتے ہوئے ملک بدر کر دیا، اور ساتھ ہی تہران سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے۔
یہ پیش رفت اسی دوران سامنے آ رہی ہیں جب امریکہ اور ایران کی وسیع جنگ کو ختم کرنے کی کوششوں پر عدم یقینی کی صورتحال چھائی ہوئی ہے اور کشیدگی کم کرنے کا کوئی واضح راستہ دکھائی نہیں دیتا۔















