ٹرمپ انتظامیہ نے تین ہفتوں کی جنگ کے بعد ایران کے ساتھ ممکنہ امن مذاکرات کی نوعیت کے بارے میں ابتدائی بات چیت شروع کر دی ہے۔
یہ بات Axios نے امریکی حکام اور معاملے سے واقف ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کی۔
انس اندرونی بات چیت کا آغاز اسی وقت ہوا جب ٹرمپ نے جمعہ کو کہا کہ وہ تنازعہ کو "winding down" یعنی کم کرنے پر غور کر رہے ہیں اگرچہ امریکی حکام کا اندازہ ہے کہ لڑائی مزید دو سے تین ہفتے جاری رہ سکتی ہے ، اس دوران، مشیران ممکنہ سفارتی اقدامات کے لیے زمین تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے مندوب اسٹیو وٹکوف اور داماد جارڈ کشنر ابتدائی مذاکرات میں ملوث ہیں۔
جنگ ختم کرنے کے کسی بھی معاہدے میں ممکنہ طور پر خلیجِ ہرمز کی دوبارہ بحالی ، ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر کا معاملہ اور تہران کے جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائلوں اور علاقائی گروپوں کی حمایت پر طویل مدتی انتظام شامل ہوں گے۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان حالیہ دنوں میں براہِ راست رابطہ نہیں ہوا ہے۔ تاہم مصر، قطر اور برطانیہ نے دونوں فریقین کے درمیان پیغامات پہنچائے ہیں۔
مصر اور قطر نے امریکہ اور اسرائیل کو بتایا ہے کہ سخت شرائط کے تحت ایران مذاکرات میں دلچسپی رکھتا ہے ،شرائط میں جنگ بندی، جارحیت کے دوبارہ شروع نہ ہونے کی ضمانتیں اور معاوضے شامل ہیں۔
ٹرمپ نے معاوضے کے مطالبے کو "non-starter" قرار دے کر رد کر دیا ہے، حالانکہ ایک امریکی اہلکار نے اس مسئلے کو منجمد ایرانی اثاثوں کی واپسی کے طور پر دوبارہ پیش کرنے کی تجویز دی۔
امریکہ اپنی طرف سے ایران سے کئی عہد چاہتا ہے، جن میں پانچ سال کے لیے اس کے میزائل پروگرام کو معطل کرنا، یورینیم افزودگی روکنا، اور نطنز، اصفہان اور فوردو میں وہ ری ایکٹر جو گزشتہ حملوں میں نشانہ بنے تھے ان کو ختم کرنا شامل ہیں۔
امریکہ مرکزِ نگہداشت میں سینٹرفیوج سرگرمیوں کی سخت بین الاقوامی نگرانی، میزائل رینجز محدود کرنے کے علاقائی اسلحہ کنٹرول معاہدے اور گروپوں کے لیے ایرانی فنڈنگ کے خاتمے کا بھی مطالبہ کر رہا ہے۔
ٹرمپ کے مشیر یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایران میں مذاکرات کے لیے سب سے مؤثر رابطہ کون ہوگا اور کون سا ملک ثالث کے طور پر کام کر سکتا ہے۔
گزشتہ مذاکرات میں وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بنیادی ثالث کا کردار ادا کیا ہے، مگر بعض امریکی حکام انہیں معاہدہ حتمی شکل دینے کے لیے درکار اختیار سے محروم سمجھتے ہیں۔
واشنگٹن ممکنہ ثالثوں پر بھی غور کر رہا ہے؛ بعض حکام کے نزدیک غزہ سے متعلق مذاکرات میں ادا کیے گئے کردار کی وجہ سے قطر کو ترجیحی آپشن سمجھا جاتا ہے، تاہم اطلاعات کے مطابق قطری حکام بطورِ سرِ عام مرکزی ثالث بننے میں ہچکچا رہے ہیں۔











