ترکیہ مسلح افواج نے کہا ہے کہ انجیرلک ایئر بیس جمہوریہ ترکیہ کی ملکیت اور ترکیہ مسلح افواج کے زیرِ کنٹرول ترک ایئر بیس ہے۔
بدھ کو جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایئر بیس کی تمام سرگرمیاں قومی قوانین اور ترکیہ کے خودمختار حقوق کے مطابق سر انجام دی جاتی ہیں۔
مزید کہا گیا ہے کہ یہ اڈہ صوبہ ادانا میں واقع ہے اور ترک فضائیہ کے 10ویں مرکزی جیٹ بیس کمانڈ کے ماتحت کام کرتا ہے۔ بیس پر دورانِ پرواز ریفولنگ کرنے والے طیارے، لڑاکا جیٹ طیارے، عام مقاصد کے ہیلی کاپٹر اور ڈرون طیارے سمیت مختلف فضائی اثاثے موجود ہیں۔
بیان کے مطابق اڈے کی تمام تنصیبات ترکیہ کی ملکیت ہیں اور تمام آپریشنز قومی قوانین اور ترکیہ کے بین الاقوامی سمجھوتوں سے ہم آہنگ شکل میں ترک حکام کے زیرِ نگرانی انجام پاتے ہیں ۔
انجیرلک ہوائی اڈے کی تعمیر 1943 کی دوسری قاہرہ کانفرنس کے فیصلوں کے بعد1951 میں شروع ہوئی اور 1954 میں مکمل ہوئی۔ایئر بیس کا آپریشنل استعمال 23 جون 1954 کو 'Military Facilities Agreement' پر دستخط کے بعد شروع ہوا۔
1974 کے قبرص امن آپریشن اور اس کے بعد امریکہ کی طرف سے ترکیہ پر عائد اسلحہ پابندی کے نتیجے میں، 1975 میں نیٹو کاروائیاں خارج انجیرلک اور چیغلی میں تمام امریکی فوجی سرگرمیاں روک دی گئی تھیں۔ ستمبر 1978 میں امریکی کانگریس کے ترکیہ پر عائد اسلحہ پابندی کو ختم کرنے کے بعد یہاں امریکی فوجی آپریشن دوبارہ شروع ہوگئے۔
بیان میں مزید وضاحت کی گئی کہ ترکیہ اور امریکہ کے مابین فوجی تعلقات کے قانونی ڈھانچے میں 29 مارچ 1980 کے طے شدہ "دفاعی و اقتصادیاتی تعاون سمجھوتے" کے تحت ترمیم کی گئی۔ اس سمجھوتے نے سابقہ "ملٹری سہولت سمجھوتے" کی جگہ لی اور اڈے کے استعمال کی شرائط متعین کیں۔
مزید کہا گیا ہےکہ انجرلک ایئر بیس نیٹو مشنوں، دوطرفہ معاہدوں اور اقوامِ متحدہ سکیورٹی کونسل آپریشنوں کی معاونت کر سکتی ہے لیکن تمام سکیورٹی اور مجموعی کنٹرول ترک حکام کے پاس ہے۔ کسی بھی سازوسامان یا تنصیب کے استعمال کے لیے ترکیہ کی منظوری ضروری ہوتی ہے۔
















