سیاست
3 منٹ پڑھنے
یوکرین میں قیامِ امن کے لیے ترکیہ کا کردار قابل ستائش ہے، یوکرینی وزیر خارجہ
"ترکیہ کا اور خاص طور پر صدر  ِ ترکیہ کا امن کی کوششوں میں کردار بہت اہم ہے۔ ہم اس کی بہت قدر کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ یہ جاری رہے گا۔"
یوکرین میں قیامِ امن کے لیے ترکیہ کا کردار قابل ستائش ہے، یوکرینی وزیر خارجہ
Sybiha estimated the war’s daily cost to Ukraine at $220 million and said damage to national infrastructure had reached $600 billion, according to World Bank data. / AA
14 اپریل 2025

یوکرین کے وزیر خارجہ آندری سبیخا نے انادولو  ایجنسی کو بتایا کہ روس-یوکرین جنگ میں ترکیہ کا کردار علاقائی استحکام کو برقرار رکھنے اور منصفانہ و دیرپا امن کے  قیام کے عمل میں تیزی لانے کے حوالے سے  "انتہائی  قیمتی" ہے۔

انہوں نے انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں  کہا: "ترکیہ کا اور خاص طور پر صدر  ِ ترکیہ کا امن کی کوششوں میں کردار بہت اہم ہے۔ ہم اس کی بہت قدر کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ یہ جاری رہے گا۔"

انہوں نے خاص طور پر سلامتی اور اقتصادی شعبوں میں انقرہ اور کیف کے درمیان مضبوط تعاون کو اجاگر کرتے ہوئے  کہا: "ترکیہ-یوکرین تعلقات جیت-جیت کے نظریے   پر قائم ہیں۔"

سبیخا نے بحیرہ اسود اناج اقدام کے ذریعے خوراک کی سلامتی میں ترکیہ کی شراکت کو نمایاں کیا اور اس معاہدے کی وجہ سے یوکرین کے لیے مثبت اقتصادی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بحیرہ اسود کے خطے میں ترکیہ کا کردار "انتہائی اہم" ہے۔

پائیدار امن کے لیے ترکیہ کی حمایت کا حوالہ دیتے ہوئے، سبیخا نے کہا: "ہم ایک منصفانہ، پائیدار، جامع اور دیرپا امن کے لیے کوشاں ہیں  اور ہم ترکیہ جیسے شراکت داروں کی حمایت پر انحصار کرتے ہیں۔"

وزیر خارجہ نے کہا کہ یوکرین نے جنگ کے آغاز سے قبضے میں لیے گئے علاقوں کا نصف واپس حاصل کر لیا ہے، لیکن 20 فیصد علاقے اب بھی زیر قبضہ ہیں۔

انہوں نے اندازہ لگاتے ہوئے کہا کہ  یوکرین کے لیے جنگ کی یومیہ  لاگت 220 ملین ڈالر ہے اور قومی بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ عالمی بینک کے مطابق 600 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔

انہوں نے مزید کہا: "مستقبل میں بڑے پیمانے پر تعمیر نو اور سرمایہ کاری کے منصوبے ہوں گے، اور ہمیں خوشی ہوگی کہ ان میں ترک فرمیں بھی  شامل ہوں۔"

انہوں نے جنگ کے باوجود  تین سے پانچ فیصد شرح نمو، مستحکم افراط زر اور یوکرین کی دفاعی پیداوار کی صلاحیت میں چھ گنا اضافے کی طرف اشارہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ "انطالیہ ڈپلومیسی فورم محض ایک کانفرنس نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم بن چکا ہے جہاں ہم ماہرین کی بات سن سکتے ہیں، خیالات کا تبادلہ کر سکتے ہیں، نئے خیالات پیدا کر سکتے ہیں، اہم ملاقاتیں کر سکتے ہیں اور مستقبل کے رجحانات کی تشکیل کر سکتے ہیں۔"

سبیخا نے کہا کہ یوکرین کے وفد نے کئی بین الاقوامی ہم منصبوں، بشمول 11 افریقی ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ نتیجہ خیز بات چیت کی۔ ان مذاکرات میں روس-یوکرین جنگ اور اس کے عالمی اثرات، خاص طور پر افریقہ کے ساتھ خوراک کی سلامتی کے تعاون پر توجہ مرکوز کی گئی۔

 

دریافت کیجیے
ایرانی رہنما: ایران دشمن کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا، ہم ہمسایہ ممالک سے معذرت خواہ ہیں
یوکرین کی ایک رہائشی عمارت پر روسی حملے میں متعدد افراد ہلاک
ایردوان اور میلونی نے مشرق وسطیٰ کے بڑھتے ہوئے بحران کے درمیان علاقائی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا
اقوام متحدہ کا مشرق وسطی میں پھیلتی ہوئی جنگ کے باعث 'سنگین انسانی ہنگامی صورتحال' کا اعلان
امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ کے پہلے 36 گھنٹوں میں 3,000 سے زیادہ فضائی حملے کیے: رپورٹ
چین: مشرقِ وسطیٰ میں احتیاط سے کام لیا جائے
یورپی یونین: ترک مصنوعات پر 'میڈ ان ای یو' لیبل چسپاں ہو گا
امریکہ: ہم بھارت کو چین کی طرح اپنا رقیب نہیں بننے دیں گے
امریکی تحقیقات میں ایرانی اسکول پر حملے میں امریکی کردار کی تائید ہوتی نظر آتی ہے — رپورٹ
نیپال میں 2025 کی بغاوت کے بعد پہلے پارلیمانی انتخابات
سعودی عرب نے 3 بیلسٹک میزائلوں کو ناکارہ کر دیا
ایران میں برّی کاروائی کا سوچنا فی الحال وقت کا زیاں ہو گا: ٹرمپ
اسرائیل: ہم نے، بیروت کے جنوبی مضافات پر، نئے فضائی حملے کئے ہیں
اسپین: ٹرمپ سے اپیلیں کرتے رہنا بالکل بے فائدہ ہے
ترک قومی خفیہ سروس کا شام میں کلیدی داعش آپریشن