ترکیہ کے وزیرِ صنعت و ٹیکنالوجی محمد فاتح قاجر نے کہا ہے کہ 21 ممالک کے نمائندوں نے انطالیہ اعلامیہ منظور کر دیا ہے۔
قاجر نے جاری کردہ اعلامیے میں کہا ہے کہ ضلع انطالیہ میں جاری بین الاقوامی خلائی کانگریس کے دوران 21 ممالک کے نمائندوں نے تاریخی اہمیت کے حامل انطالیہ اعلامیے کی منظوری دے دی ہے۔
یہ، بین الاقوامی خلائی کانگریس کے وزارتی و پارلیمانی اجلاس کے تحت ،کسی مشترکہ سرکاری اعلامیے کی منظوری کا پہلا موقع ہے۔
اعلامیے کی منظوری میں وزراء، قانون سازوں اور قومی خلائی ایجنسیوں کے سربراہان سمیت 32 اعلیٰ سطحی نمائندوں نے حصہ لیا۔ اعلامیے میں بین الاقوامی خلائی فیڈریشن کے عالمی سطح پر خلائی تعاون اور شراکت داری کو فروغ دینے میں کردار کی حمایت کا اعادہ کیا گیا ہے۔
38 ممالک کے وفود شرکت سے منعقدہ اجلاس میں خلا ءکے پُرامن استعمال، نئے خلائی مشنوں، قانونی ضوابط اور ترقی پذیر معیشتوں کو عالمی خلائی شعبے میں شامل کرنے جیسے اہم موضوعات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ترکیہ کا 2027 کا چاند مشن
ترکیہ 5 سے 9 اکتوبر تک انطالیہ میں بین الاقوامی خلائی کانگریس کی 75ویں نشست کی میزبانی کر رہا ہے۔ اس کانگریس کا انعقاد وزارتِ صنعت و ٹیکنالوجی کی نگرانی میں، SAHA استنبول اور ترک خلائی ایجنسی کی مشترکہ میزبانی میں ہو رہا ہے۔
وزیرِ صنعت و ٹیکنالوجی محمد فاتح قاجرنے کہا ہےکہ انطالیہ اعلامیہ صدر رجب طیب اردوعان کے کثیرالجہتی مذاکرات اور تعمیری روابط کے ذریعے عالمی امن کو فروغ دینے کے وژن کی عکاسی کرتا ہے۔
اجلاس سے خطاب میں قاجر نے کہا ہےکہ خلا میں ہونے والی پیش رفت اسی وقت حقیقی معنوں میں کامیابی تصور کی جا سکتی ہے جب اس کے فوائد زمین پر رہنے والے انسانوں تک پہنچیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ اصل سوال صرف یہ نہیں کہ انسان تکنیکی اعتبار سے خلا میں کتنی ترقی کر سکتا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو معاشرے کے لیے زیادہ تحفظ، مضبوطی اور خوشحالی میں کس حد تک تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
قاجر کے مطابق عالمی خلائی شعبہ تیزی سے تجارتی میدان میں تبدیل ہو رہا ہے۔ عالمی خلائی معیشت 2025 میں ریکارڈ سطح پر پہنچ کر 686 ارب ڈالر ہو گئی ہے۔ اس شعبے کی مجموعی سرگرمیوں میں تقریباً 80 فیصد حصہ تجارتی کمپنیوں کا ہے۔
انہوں نے کہا ہےکہ خلائی مشنوں کی لانچنگ لاگت میں کمی اور چھوٹے مصنوعی سیاروں کی تیاری نے نئی کمپنیوں کے خلائی شعبے میں داخلے کو پہلے کے مقابلے میں آسان بنا دیا ہے۔
ترکیہ میں بھی خلائی ٹیکنالوجی کے شعبے میں تیزی سے ترقی ہو رہی ہے۔ حکومتی معاونت، بالخصوص BiGG سرمایہ کاری پر مبنی کاروباری معاونت پروگرام اور 750 ملین ڈالر سے زائد کی وینچر کیپیٹل سرمایہ کاری کے نتیجے میں ترکیہ کے ٹیکنوپارکس میں 300 سے زیادہ خلائی ٹیکنالوجی کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔
محمد فاتح قاجر نے مزید کہا ہے کہ انقرہ میں خلا کے لیے مخصوص ایک ٹیکنوپارک کے قیام پر بھی کام شروع کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا ہےکہ ترکیہ اپنے پہلے مقامی چاند مشن خلائی جہاز کو 2027 کے آغاز میں خلا میں بھیجنے کے ہدف کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اس خلائی گاڑی میں مقامی طور پر تیار کردہ ہائبرڈ پروپلشن انجن استعمال کیا گیا ہے اور اس میں 80 فیصد مقامی پیداواری شرح حاصل کی گئی ہے۔





















