ترکیہ
3 منٹ پڑھنے
ترک صدر: "متحد اور مستقل عالمی ردعمل نیتن یاہو کو روک سکتا ہے"
صدر رجب طیب اردوان نے اسرائیل پر 'مضبوط سفارتی دباؤ' کی ضرورت پر زور دیا ہے، اور کہا ہے کہ غزہ میںفائر بندی کو مکمل طور پر نافذ کیا جانا چاہیے۔
ترک صدر: "متحد اور مستقل عالمی ردعمل نیتن یاہو کو روک سکتا ہے"
صدر اردگان کا کہنا ہے کہ بدلتے عالمی اتحادوں کے باوجود ترکی ایک "ابھرتی ہوئی طاقت" کے طور پر اپنی راہ پر گامزن رہے گا۔ / AA

ترک صدر رجب طیب اردوان نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیل کے اقدامات کے خلاف مضبوط اور مستقل موقف اپنائے، اور کہا کہ سفارتی دباؤ میں اضافہ اور غزہ تک بلا تعطل انسانی امداد کی رسائی ضروری ہے۔

ترک صدر نے جوہانسبرگ سے وطن واپسی کے وقت کہا کہ"میرا ماننا ہے کہ اگر بین الاقوامی برادری ایک پُرعزم، مستقل اور پابندیاں نافذ کرنے کی صلاحیت رکھنے والا ارادہ ظاہر کرے تو وہ نیتن یاہو کو روک سکتی ہے۔

اسرائیل کی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ حماس 'ان تمام اشتعال انگیز کاروائیوں کے سامنے بڑی صبر کا مظاہرہ کر رہا ہے اور جنگ بندی کی پابندی کر رہا ہے'، اور انہوں نے مزید کہا کہ 'اس جنگ بندی کا مکمل نفاذ ضروری ہے۔'

علاقائی سلامتی کے بارے میں ترک صدر نے خبردار کیا کہ انقرہ کو اگر خطرہ ہوا تو وہ فیصلہ کن اقدام کرے گا۔"جب بات ہمارے ملک کی قومی سلامتی کی ہو تو ہر کوئی جانتا ہے کہ ہم نے کون سے اقدامات کیے ہیں۔ اگر ہمیں ایک بار پھر اسی نوعیت کا خطرہ درپیش ہوا تو ہم ضروری کارروائی کریں گے۔"

“ابھرتی ہوئی طاقت” — تبدیل ہوتے ہوئے عالمی اتحادوں کے درمیان

اردوان نے اس بات کا بھی اعادہ کیا  کہ ان کا ملک روس-یوکرین تنازع میں ثالثی میں مدد کرنے کے لیے تیار ہے، اور کہا: "ہم، ترکیہ کی حیثیت سے، جس طرح پہلے استنبول میں اہم کردار ادا کیا تھا، آج اسی تعمیری رویے کو برقرار رکھنے کے لیے تیار ہیں۔"

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یوکرین کے لیے 28 نکاتی امن منصوبے کے بارے میں سوالات کے جواب میں انہوں نے کہا کہ معاہدے کا امکان تبھی ہے جب یہ منصوبہ دونوں فریقوں کی 'جائز توقعات اور سلامتی کی ضروریات' پوری کرے۔

آئندہ کے حوالے سے صدر نے کہا کہ ترکیہ بدلتے ہوئے عالمی اتحادوں کے درمیان 'ابھرتی ہوئی طاقت' کے طور پر اپنی سمت برقرار رکھے گا۔ انہوں نے ہائی ٹیکنالوجی، توانائی اور دفاع میں سرمایہ کاری پر زور دیا، جن میں گھریلو ٹینک، طیارے اور ڈراونز نظام شامل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ خاندانی ڈھانچے کا تحفظ اور 'اگلے 50 سے 100 سال کو مدنظر رکھتے ہوئے' پالیسیوں کی منصوبہ بندی مرکزی مقاصد میں شامل ہیں۔

اردوان نے کہاکہ "ترکیہ اپنا مستقبل اپنے ہاتھوں سے تعمیر کر رہا ہے، وہ ملک جو ہم آنے والی نسلوں کو سونپیں گے آج کے مقابلے میں بہت آگے ہوگا۔"

 

دریافت کیجیے
اسرائیلی فوج کو تین سالہ جنگوں کے بعد عسکری سازو سامان میں 'شدید کمی' کا سامنا ہے: رپورٹ
صدر ایردوان:"ہم نے ترکیہ کو دنیا کے سب سے بڑے فضائی نیٹ ورکس  میں شامل کیا ہے"
پاکستان میں مسجد کے قریب دھماکہ،  کم ازکم  15 افراد جاں بحق، 50 سے زائد زخمی
ایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی،  لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
روس اور یوکرین میں کل شب کے حملوں میں متعدد افراد زخمی
جنوبی کوریا نے آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار کردیا؛ جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے شکار ایک محلے سے مزید 12 لاشیں بازیاب
بحری خلاف ورزیاں،پاک-بھارت کا ایک دوسرے سے احتجاج
اقوام متحدہ: "امریکا کے خلاف ایران میں جنگی جرائم کے مرتکب ہونے کے معقول دلائل موجود ہیں"
ترکیہ کا حُرکش-II ترک فضائیہ کے سپرد کیا جانے والا پہلا مقامی طیارہ ہو گا
روس اور یوکرین کے درمیان حملوں کی اطلاع
ترکیہ کی حوثیوں کی مکہ مکرمہ کے اطراف میں روکے گئے ڈراون حملے کی مذمت
امریکہ نے محمود عباس کو ویزہ دینے سے انکار کر دیا
ترکیہ اور آذربائیجان علاقے میں 'استحکام کے دو جزائر' کی حیثیت کے مالک ہیں، ترک وزیر خارجہ فیدان
امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی حملوں کے بعد بھاری نقصانات کی اطلاع