ترک صدر رجب طیب اردوان نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیل کے اقدامات کے خلاف مضبوط اور مستقل موقف اپنائے، اور کہا کہ سفارتی دباؤ میں اضافہ اور غزہ تک بلا تعطل انسانی امداد کی رسائی ضروری ہے۔
ترک صدر نے جوہانسبرگ سے وطن واپسی کے وقت کہا کہ"میرا ماننا ہے کہ اگر بین الاقوامی برادری ایک پُرعزم، مستقل اور پابندیاں نافذ کرنے کی صلاحیت رکھنے والا ارادہ ظاہر کرے تو وہ نیتن یاہو کو روک سکتی ہے۔
اسرائیل کی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ حماس 'ان تمام اشتعال انگیز کاروائیوں کے سامنے بڑی صبر کا مظاہرہ کر رہا ہے اور جنگ بندی کی پابندی کر رہا ہے'، اور انہوں نے مزید کہا کہ 'اس جنگ بندی کا مکمل نفاذ ضروری ہے۔'
علاقائی سلامتی کے بارے میں ترک صدر نے خبردار کیا کہ انقرہ کو اگر خطرہ ہوا تو وہ فیصلہ کن اقدام کرے گا۔"جب بات ہمارے ملک کی قومی سلامتی کی ہو تو ہر کوئی جانتا ہے کہ ہم نے کون سے اقدامات کیے ہیں۔ اگر ہمیں ایک بار پھر اسی نوعیت کا خطرہ درپیش ہوا تو ہم ضروری کارروائی کریں گے۔"
“ابھرتی ہوئی طاقت” — تبدیل ہوتے ہوئے عالمی اتحادوں کے درمیان
اردوان نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ ان کا ملک روس-یوکرین تنازع میں ثالثی میں مدد کرنے کے لیے تیار ہے، اور کہا: "ہم، ترکیہ کی حیثیت سے، جس طرح پہلے استنبول میں اہم کردار ادا کیا تھا، آج اسی تعمیری رویے کو برقرار رکھنے کے لیے تیار ہیں۔"
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یوکرین کے لیے 28 نکاتی امن منصوبے کے بارے میں سوالات کے جواب میں انہوں نے کہا کہ معاہدے کا امکان تبھی ہے جب یہ منصوبہ دونوں فریقوں کی 'جائز توقعات اور سلامتی کی ضروریات' پوری کرے۔
آئندہ کے حوالے سے صدر نے کہا کہ ترکیہ بدلتے ہوئے عالمی اتحادوں کے درمیان 'ابھرتی ہوئی طاقت' کے طور پر اپنی سمت برقرار رکھے گا۔ انہوں نے ہائی ٹیکنالوجی، توانائی اور دفاع میں سرمایہ کاری پر زور دیا، جن میں گھریلو ٹینک، طیارے اور ڈراونز نظام شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ خاندانی ڈھانچے کا تحفظ اور 'اگلے 50 سے 100 سال کو مدنظر رکھتے ہوئے' پالیسیوں کی منصوبہ بندی مرکزی مقاصد میں شامل ہیں۔
اردوان نے کہاکہ "ترکیہ اپنا مستقبل اپنے ہاتھوں سے تعمیر کر رہا ہے، وہ ملک جو ہم آنے والی نسلوں کو سونپیں گے آج کے مقابلے میں بہت آگے ہوگا۔"

















