دنیا
2 منٹ پڑھنے
روس یوکرین کے ساتھ استنبول میں مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے: روسی سفیر
وسی فریق نے بارہا زور دیا ہے کہ ہم یوکرینی جانب کے ساتھ براہِ راست مذاکرات جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں۔
روس یوکرین کے ساتھ استنبول میں مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے: روسی سفیر
In this July 23 2025 file photo, Turkish officials are seen attending a meeting during the third round of Russia-Ukraine peace talks in Istanbul. / Reuters
12 نومبر 2025

روس کے ترکیہ میں قائم مقام سفیر الیگزے ایوانوف نے بدھ کو کہا ہے کہ روس، ترکیہ کے شہر استنبول میں یوکرین کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن کیف نے پہلے دی گئی تجاویز پر ابھی تک جواب نہیں دیا۔

ایوانوف نے روس کی ریاستی خبر رساں ایجنسی طاس کو بتایا کہ "روسی فریق نے بارہا زور دیا ہے کہ ہم یوکرینی جانب کے ساتھ براہِ راست مذاکرات جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں۔ ہمارے ترک شراکت داروں نے بھی مسلسل کہا ہے کہ استنبول کا پلیٹ فارم ہمارے لیے دستیاب ہے — یہ دروازے کھلے ہوئے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ روس نے پہلے بھی کئی اقدامات پیش کیے تھے، جن میں تین آن لائن ورکنگ گروپس بنانے کی تجاویز شامل تھیں، لیکن "بدقسمتی سے، ہمیں ابھی تک یوکرینی جانب سے مثبت جواب موصول نہیں ہوا"۔

ایوانوف نے مزید کہا کہ ماسکو گفت و شنید کے لیے تیار ہے بشرطیکہ کیف سیاسی ارادے کا مظاہرہ کرے۔"

دریں اثنا، یوکرین کے قومی سلامتی اور دفاع کونسل کے سیکرٹری رستم عمرُوف، جو روس کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے لیے کیف کے وفد کی قیادت کرتے ہیں، منگل کو استنبول پہنچے تھے۔

انہوں نے ٹیلیگرام پر کہا کہ ان کا دورہ جنگی قیدیوں کے تبادلے کو دوبارہ شروع کرنے کے مقصد سے ہے۔ "ان ایام میں ترکیہ اور مشرقِ وسطیٰ میں تبادلے کے عمل کو بحال کرنے کے لیے کام کر رہا ہوں۔ ایک معاہدہ طے پایا تھا، اور ہمیں اسے نافذ کرنا ہوگا۔"

اس سال استنبول میں روس اور یوکرین کے درمیان امن مذاکرات کے تین دور ہوئے، جن میں قیدیوں اور شہریوں کے تبادلے پر اتفاق ہوا۔ انہوں نے فروری 2022 میں شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے اپنے اپنے نقطۂ نظر پر مبنی یادداشتوں پر بھی دستخط کیے تھے۔

ماسکو نے سیاسی، عسکری اور انسانی نوعیت کے امور سے نمٹنے کے لیے تین آن لائن ورکنگ گروپس کے قیام کی تجویز پیش کی تھی، لیکن تب سے بظاہر پیش رفت رک گئی ہے۔

ترکیہ کے علاوہ متحدہ عرب امارات، اور کم حد تک سعودی عرب اور قطر نے بھی روس اور یوکرین کے درمیان انسانی نوعیت کے تبادلوں میں ثالثی کا کردار ادا کیا ہے۔

 

دریافت کیجیے
ایرانی پاسدارانِ انقلاب: 'جنگ کے خاتمے کا فیصلہ ہم کریں گے'
اسرائیل نے لبنانی مارونی کیتھولک پادری کو ہلاک کر دیا
امریکہ: افغانستان 'ناحق گرفتاریوں کا حامی ملک' ہے
ایردوان: ترکیہ کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کا 'کوئی بھی جواز قابل قبول نہیں'
ایرانی بیلسٹک میزائل حملہ ترکیہ نے ناکام بنادیا
بریکنگ نیوز
ایران: امریکہ اور اسرائیل کے حامی شہریوں کی جائدادیں ضبط کر لی جائیں گی
پولیس: بیلجیم میں سیناگوگ کو دھماکے سے نقصان پہنچا ہے
امریکہ نے سعودی عرب سے سفارتی عملے کے اہل خانہ کو واپس بلالیا
ترکیہ نے شمالی قبرص میں 6 ایف سولہ طیارے تعینات کر دیئے
عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمت105 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی
اسرائیل، ایران کے ساتھ کم از کم ایک ماہ تک جنگ کے لیے تیار ہے
ایران نے خامنہ ای کےفرزند مجتبی کو نیا سپریم لیڈر نامزد کر دیا — ایرانی میڈیا
ٹرمپ کا دعوی: امریکہ نے ایرانی بحریہ اور میزائل لانچنگ سسٹمز کو تباہ کر دیا ہے
امریکہ اور اسرائیل ایران کے ٹکڑے کرنا چاہتے ہیں:لاریجانی