دنیا
3 منٹ پڑھنے
براؤن یونیورسٹی میں فائرنگ کا مشتبہ ملزم مردہ حالت میں برآمد
براون میں ہونے والی فائرنگ، جو پرووِڈنس، رہوڈ آئی لینڈ میں واقع ہے، ہفتہ کو پیش آئی جب ایک شخص رائفل لے کر آئیوی لیگ کالج کے ایک کیمپس کی عمارت میں داخل ہوا، جہاں طلباء امتحانات دے رہے تھے۔
براؤن یونیورسٹی میں فائرنگ کا مشتبہ ملزم مردہ حالت میں برآمد
براؤن یونیورسٹی فائرنگ کا مشتبہ مردہ پایا گیا / Reuters
19 دسمبر 2025

امریکی  براون یونیورسٹی میں ہونے والی فائرنگ کہ جس میں دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، کا  مبینہ طور پر ذمہ دار سمجھا  جانے والا شخص مردہ حالت میں پایا گیا ۔

حکام کا یہ بھی ماننا ہے کہ 48 سالہ پرتگالی شہری جو براون یونیورسٹی  کا طالب علم تھا، میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں ایک  ماہرِفزکس  کو ان کے گھر   میں  گولیاں مار کر ہلاک کرنے کا ذمہ دار تھا۔

فائرنگ کرنے والے کو نیو ہیمپشائر کے ایک اسٹوریج یونٹ میں دو آتشیں اسلحے کے ساتھ  برآمد کیا گیا ، اور خیال کیا جاتا ہے کہ اس نے  یہ گھناونی کاروائیاں  اکیلے ہی  کیں۔

میئر بریٹ سمائیلی نے صحافیوں سے کہا کہ"آج رات، ہمارے پروفیڈنس کے ہمسایہ  بالاآخر سکھ کاسانس لے سکیں گے۔"امریکہ کی دو اعلیٰ یونیورسٹیوں میں ہونے وای ان جڑواں فائرنگز میں فوری طور پر کسی محرک کی کوئی نشاندہی نہیں ملی۔

براون میں ہونے والی فائرنگ، جو پرووِڈنس، رہوڈ آئی لینڈ میں واقع ہے، ہفتہ کو پیش آئی جب ایک شخص رائفل لے کر آئیوی لیگ کالج کے ایک کیمپس کی عمارت میں داخل ہوا، جہاں طلباء امتحانات دے رہے تھے۔

اس شخص نے فائرنگ کرکے دو طلبا کو ہلاک کیا اور پھر فرار ہوگیا۔

ہلاک ہونے والے طلبا ء میں  براون کی ریپبلیکن ایسوسی ایشن کی نائب صدر ایلا کُک اور ازبیکستان نژاد محمد عزیز عمر زوکوف شامل تھے، جو نیوروسرجن بننے  کی  کوشش میں تھے۔

سمائیلی نے دن کے آغاز میں کہا تھا کہ ایک زندہ بچ جانے والے پانچ افراد  کی طبی حالت ٹھیک ہے  اور دو کو ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے۔

کئی روز تک تفتیش کاروں کے پاس کم شواہد تھے؛ انہوں نے ایک مشکوک شخص اور اس کے قریب کھڑے ایک فرد کی تصاویر جاری کیں تاکہ ان کا سراغ لگایا جا سکے۔

حکام نے روزانہ میڈیا بریفنگز میں اب تک مطلوب شخص کی تلاش پر بڑھتی ہوئی مایوسی کا اظہار کیا۔

مگر پھر معاملہ کھل کر سامنے آ گیا۔

ابتدائی طور پر حکام نے فائرنگ کے سلسلے میں ایک شخص کو حراست میں لیا تھا، مگر بعد میں اسے رہا کر دیا گیا۔

1,200 سکیورٹی کیمروں میں سے کوئی بھی پولیس کے نگرانی نظام سے منسلک نہ ہونے کی بنا پر جامعہ کو اس کے سکیورٹی انتظامات کے بارے میں سوالات کا سامنا کرنا پڑا، جن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی شامل ہیں۔

گن وائلنس آرکائیو کے مطابق، رواں سال  اب تک امریکہ میں 300 سے زائد  میس شوٹنگ  کے واقعات ریکارڈ ہوئے ہیں؛ یہ ادارہ میس شوٹنگ کی تشریح  چار یا اس سے زیادہ افراد کے گولی لگنے کے طور پر کرتا ہے۔

ہتھیاروں تک رسائی کو محدود کرنے کی کوششیں اب بھی سیاسی بن بست کی شکار ہیں۔