سیاست
3 منٹ پڑھنے
سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان کا دورہ تہران
شہزادہ خالد نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بھی ملاقات کی، جہاں انہوں نے سعودی-ایرانی تعلقات کا جائزہ لیا اور انہیں مضبوط بنانے کے طریقوں پر غور کیا۔
سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان کا دورہ تہران
Saudi Defence Minister Prince Khalid bin Salman is engaged in a rare visit by a senior Saudi royal to the Islamic Republic. / AP

سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان تہران پہنچ گئے ہیں جہاں وہ ایرانی حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔ یہ دورہ اس ہفتے کے آخر میں ایران اور امریکہ کے درمیان ایرانی جوہری پروگرام پر مذاکرات سے قبل سر انجام پا  رہا ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، وزیر دفاع نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کا پیغام ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو پہنچایا، تاہم پیغام کے مواد کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

شہزادہ خالد نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر کہا: "ہماری دو طرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے موضوعات پر بات چیت  ہوئی ہے۔"

خامنہ ای نے بھی اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ملاقات کی تصدیق کی، لیکن خط کے مواد کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

شہزادہ خالد نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بھی ملاقات کی، جہاں انہوں نے سعودی-ایرانی تعلقات کا جائزہ لیا اور انہیں مضبوط بنانے کے طریقوں پر غور کیا۔

انہوں نے مزید کہا: "ہم نے علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت اور ان سے متعلقہ کوششوں پر بھی بات چیت کی ہے۔"

روم میں ایران-امریکہ مذاکرات

ایران اور امریکہ اس ہفتے کے آخر میں روم میں تہران کے متنازع یورینیم افزودگی پروگرام پر مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے تیار ہیں۔

ایرانی سرکاری میڈیا نے خامنہ ای کے حوالے سے کہا: "ہمارا یقین ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہوں گے۔"

خامنہ ای نے ریاض کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے تہران کی تیاری کا اظہار کیا۔

ایران اور سعودی عرب نے 2023 میں چین کی ثالثی سے ایک معاہدے کے تحت تعلقات بحال کرنے پر اتفاق کیا تھا، جو خلیج میں استحکام اور سلامتی کو لاحق خطرات کے خاتمے کی کوششوں کا حصہ تھا۔

ہفتے کو ملک کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے اطلاع دی تھی کہ سعودی عرب نے امریکہ کے ساتھ ایران کے جوہری مذاکرات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ علاقائی اور بین الاقوامی تنازعات کے حل کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے ۔

ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف محمد باقری نے تہران میں سعودی وزیر سے ملاقات کے بعد کہا: "بیجنگ معاہدے کے بعد سے سعودی اور ایرانی مسلح افواج کے درمیان تعلقات بہتر ہو رہے ہیں۔"

باقری نے زور دیا کہ علاقائی سلامتی علاقے کے ممالک کے لیے ایک "مشترکہ اسٹریٹجک مفاد" ہے اور مزید کہا کہ تہران کی پالیسی اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے پر مبنی ہے۔

انہوں نے کہا: "لہٰذا، دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان تعلقات کو وسعت دینا اور مضبوط کرنا وسیع تر علاقائی تعاون کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔"

2016 کے بعد تعلقات

جمعرات کا دورہ سعودی وزیر دفاع کے کسی سینئر عہدیدار کا تہران کا دوسرا دورہ ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے بعد ہوا ہے۔

نومبر 2024 میں، سعودی عرب کی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل فیاض بن حامد الرویلی نے دو طرفہ فوجی مذاکرات کے لیے تہران کا دورہ کیا تھا۔

مارچ 2023 میں چین کی ثالثی سے بیجنگ میں مذاکرات کے بعد دونوں علاقائی طاقتوں کے درمیان سفارتی تعلقات بحال ہوئے، جو 2016 میں اس وقت منقطع ہو گئے تھے جب سعودی عرب کے سفارتی مشنز پر مظاہروں کے دوران حملے کیے گئے تھے۔ یہ مظاہرے ریاض کی جانب سے شیعہ عالم نمر النمر کی پھانسی کے خلاف کیے گئے تھے۔

دریافت کیجیے
امریکی اسٹاک مرکیٹوں میں تناو، تیل 100 ڈالر سے اوپر چلا گیا
اسرائیلی فوج نے تین فلسطینیوں کو قتل کر کے لاشیں قبضے میں لے لیں
روسی گودام پر یوکرینی ڈرون حملے
جاپان امید کرتا ہے کہ فلسطین کے لیے حمایت میں اضافہ ہوگا
ترکیہ COP31 پروگرام میں رضاکار بننے کے لیے درخواستیں جاری
چین نے آبنائے تائیوان میں دو روزہ فوجی مشقیں شروع کر دیں
ایران: ہمارا دفاعی نظریہ بالکل واضح ہے، "آنکھ کے بدلے آنکھ"
اسرائیل نے تازہ خلاف ورزیوں میں چار فلسطینیوں کو قتل کر دیا ہے
امریکہ نے ایران پر حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا
نیٹو کا 'فرنٹ ڈور' منصوبہ ،ترک دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے کا ہدف
ترک خواتین اور مردوں کی ٹیمیں VNL فائنلز میں پہنچ گئیں
فرانس میں پھِیلتی جنگلاتی آگ،سینکڑوں افراد کا انخلا
حملے جاری رہے تو امریکہ اور اس کے عرب اتحادی بھی نہیں بچیں گے:ایران
یورپی یونین کے سفیر روس پر نئے پابندیوں کی تیاریوں میں
"الزامات بے بنیاد ہیں"عدالت میں اپنا مقدمہ چیلنج کروں گا: مادورو