ترکیہ
2 منٹ پڑھنے
ترکیہ، دہشت گرد تنظیم پی کے کے کی تحلیل کا عمل شروع
ترک سیکورٹی فورسز کی مسلسل اور مؤثر انسداد دہشت گردی کاروائیوں کے بعد، پی کے کے نے مئی میں اعلان کیا  تھا کہ وہ تحلیل ہو جائے گی او ہتھیار ڈال دے گی
ترکیہ، دہشت گرد تنظیم پی کے کے  کی تحلیل کا عمل شروع
PKK terror group announced in May that it would dissolve and disarm — a major milestone in Türkiye’s fight against terrorism. / AA

عراق کے صوبے سلیمانیہ میں جمعہ کے روز پی کے کے دہشت گرد گروپ کے اراکین نے اپنے ہتھیار ڈالنا شروع کر دیے، جو کہ ایک اہم پیش رفت ہے اور انقرہ کی دہشت گردی سے پاک ترکیہ کے حصول کی کوششوں کے مطابق ہے۔

ترک سیکورٹی فورسز کی مسلسل اور مؤثر انسداد دہشت گردی کاروائیوں کے بعد، پی کے کے نے مئی میں اعلان کیا  تھا کہ وہ تحلیل ہو جائے گی او ہتھیار ڈال دے گی ، جو کہ دہشت گردی کے خلاف ملک کی دہائیوں پر محیط جدوجہد میں ایک اہم سنگ میل ہے۔

دوسری جانب، ترک ریاست نے دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ کو سفارتی میدان تک بھی وسعت دی ہے۔

بین الاقوامی شراکت داروں، خاص طور پر یورپ اور مشرق وسطیٰ میں، پر سالوں کے مسلسل دباؤ کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ پی کے کے کی غیر ملکی دارالحکومتوں میں آزادانہ طور پر کام کرنے، پیسہ بٹورنے  اور مختلف سیاسی پردوں کے تحت فنڈز جمع کرنے کی صلاحیت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ترکیہ کی بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی اہمیت کا مطلب ہے کہ اس کے خدشات کو عالمی طاقتوں کی جانب سے زیادہ سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔

معاشی تعلقات، توانائی کی سفارت کاری، اور علاقائی شراکت داریوں کے ذریعے، انقرہ نے آہستہ آہستہ پی کے کے کے بیرون ملک حمایت کے نیٹ ورکس کو ختم کر دیا ہے۔

صدر رجب طیب اردگان کی جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (اے کے پارٹی) کے ترجمان نے بدھ کی رات کہا تھا کہ ہتھیاروں کی حوالگی کا عمل چند مہینوں میں مکمل ہونا چاہیے۔

نشریاتی ادارے NTV کو دیے گئے ایک انٹرویو میں، عمر چیلک نے وضاحت کی کہ ایک تصدیقی ٹیم — جو ترک  خفیہ سروس اورمسلح افواج کے اہلکاروں پر مشتمل ہوگی — اس اسلحہ چھوڑنے  کے عمل کی نگرانی کرے گی۔

عمر چیلک نے کہا، "عراق میں غیر مسلح ہونے  کا عمل تین سے پانچ مہینوں کے اندر مکمل ہونا چاہیے ... اگر یہ مدت سے تجاوز کرے تو یہ اشتعال انگیزیوں کا شکار ہو سکتا ہے۔"

ترکیہ گزشتہ 40 سالوں سے پی کے کے کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، جس نے شہریوں اور ترک سیکورٹی فورسز پر حملوں کے ذریعے 40,000 سے زیادہ افراد کو ہلاک کیا ہے۔

متعلقہTRT Global - Disarming terror group PKK will bring massive economic gains to region: Turkish finance minister

دریافت کیجیے
امریکہ، ہم نے ایران کے ڈراؤنز مار گرائے ہیں
جنوبی فلپائن میں ہولناک زلزلے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 61 تک پہنچ گئی
فلسطینی فٹبال  چیف ورلڈ کپ میں شرکت کرنے کے لیے امریکی ویزے سے محروم
سروے کے مطابق نتن یاہو کی لیکود پارٹی کی حمایت ایک سال کی کم ترین سطح پر
امریکہ یورپ میں نیٹو کے لیے تعینات طیاروں اور جنگی جہازوں  کی تعداد میں گراوٹ لائے گا
جنوبی کوریا نے ورلڈ کپ کا آغاز فتح سے کیا
ٹرمپ: 'عظیم' معاہدہ ہونے کو ہے، ایران: فیصلہ ابھی حتمی نہیں ہے
ترک ہلال احمر عالمی انسانی دوستانہ کوششوں کی بدولت مظلوم انسانوں کے دلوں میں گھر کر رہا ہے: ایردوان
ایران: ہم  نے 18 اہم امریکی فوجی اہداف پر حملے کئے ہیں
ٹرمپ: تہران انتظامیہ نے مجھے فون کیا ہے
فلپائن: زلزلہ زدہ دیہات میں فاقہ کشی کا سامنا
ڈاکٹر حسام ابو صفیہ: "مجھے رہا کیا جائے"
ہم نے اردن میں امریکی اڈّوں کو نشانہ بنایا ہے: ایران
ہماری کوشش ہوگی کہ پاکستان کو پانی کی ایک بوند نہ ملے:بھارت
یونان نے مہاجرین کی بے دخلی کا قانون منظور کر لیا