ترکیہ
2 منٹ پڑھنے
ترکیہ، دہشت گرد تنظیم پی کے کے کی تحلیل کا عمل شروع
ترک سیکورٹی فورسز کی مسلسل اور مؤثر انسداد دہشت گردی کاروائیوں کے بعد، پی کے کے نے مئی میں اعلان کیا  تھا کہ وہ تحلیل ہو جائے گی او ہتھیار ڈال دے گی
ترکیہ، دہشت گرد تنظیم پی کے کے  کی تحلیل کا عمل شروع
PKK terror group announced in May that it would dissolve and disarm — a major milestone in Türkiye’s fight against terrorism. / AA
11 جولائی 2025

عراق کے صوبے سلیمانیہ میں جمعہ کے روز پی کے کے دہشت گرد گروپ کے اراکین نے اپنے ہتھیار ڈالنا شروع کر دیے، جو کہ ایک اہم پیش رفت ہے اور انقرہ کی دہشت گردی سے پاک ترکیہ کے حصول کی کوششوں کے مطابق ہے۔

ترک سیکورٹی فورسز کی مسلسل اور مؤثر انسداد دہشت گردی کاروائیوں کے بعد، پی کے کے نے مئی میں اعلان کیا  تھا کہ وہ تحلیل ہو جائے گی او ہتھیار ڈال دے گی ، جو کہ دہشت گردی کے خلاف ملک کی دہائیوں پر محیط جدوجہد میں ایک اہم سنگ میل ہے۔

دوسری جانب، ترک ریاست نے دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ کو سفارتی میدان تک بھی وسعت دی ہے۔

بین الاقوامی شراکت داروں، خاص طور پر یورپ اور مشرق وسطیٰ میں، پر سالوں کے مسلسل دباؤ کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ پی کے کے کی غیر ملکی دارالحکومتوں میں آزادانہ طور پر کام کرنے، پیسہ بٹورنے  اور مختلف سیاسی پردوں کے تحت فنڈز جمع کرنے کی صلاحیت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ترکیہ کی بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی اہمیت کا مطلب ہے کہ اس کے خدشات کو عالمی طاقتوں کی جانب سے زیادہ سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔

معاشی تعلقات، توانائی کی سفارت کاری، اور علاقائی شراکت داریوں کے ذریعے، انقرہ نے آہستہ آہستہ پی کے کے کے بیرون ملک حمایت کے نیٹ ورکس کو ختم کر دیا ہے۔

صدر رجب طیب اردگان کی جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (اے کے پارٹی) کے ترجمان نے بدھ کی رات کہا تھا کہ ہتھیاروں کی حوالگی کا عمل چند مہینوں میں مکمل ہونا چاہیے۔

نشریاتی ادارے NTV کو دیے گئے ایک انٹرویو میں، عمر چیلک نے وضاحت کی کہ ایک تصدیقی ٹیم — جو ترک  خفیہ سروس اورمسلح افواج کے اہلکاروں پر مشتمل ہوگی — اس اسلحہ چھوڑنے  کے عمل کی نگرانی کرے گی۔

عمر چیلک نے کہا، "عراق میں غیر مسلح ہونے  کا عمل تین سے پانچ مہینوں کے اندر مکمل ہونا چاہیے ... اگر یہ مدت سے تجاوز کرے تو یہ اشتعال انگیزیوں کا شکار ہو سکتا ہے۔"

ترکیہ گزشتہ 40 سالوں سے پی کے کے کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، جس نے شہریوں اور ترک سیکورٹی فورسز پر حملوں کے ذریعے 40,000 سے زیادہ افراد کو ہلاک کیا ہے۔

متعلقہTRT Global - Disarming terror group PKK will bring massive economic gains to region: Turkish finance minister

دریافت کیجیے
ایرانی خواتین فٹبال ٹیم کی پانچویں رکن نے بھی آسٹریلیا میں پناہ کی درخواست واپس لے لی
امریکہ کا ایران کے خلاف جنگ کا بل 12 ارب ڈالر ہے: وائٹ ہاؤس
آسکر ایوارڈز: مائیکل بی جارڈن بہترین اداکار اور جیسی بکلی  بہترین اداکارہ قرار
یوکرین کے ڈرون حملے، روسی تیل کے ذخائر نشانے پر
افغانستان کے ساتھ سرحدی تنازعات میں اضافے کے وقت پاکستان کا قندھار پر حملہ
حلیف ممالک نے ایران کے خلاف جنگ میں مدد نہیں کی تو نیٹو کا مستقبل بہت برا ہو گا:ٹرمپ
لبنان میں بری کاروائی کا امکان،اسرائیل کافوجی نفری کی تعداد بڑھانے پر غور
اسرائیلی سیکیورٹی افسران کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ متوقع رفتار سے آگے نہیں بڑھ رہی
غزہ پر اسرائیلی فضائی حملہ، ایک بچے اور حاملہ عورت سمیت 4 فلسطینی ہلاک
اسرائیلی فوج نے ایک فلسطینی جوڑے اور ان کے دو بچوں کو گولی مار کے قتل کر دیا
یوکرین: روسی بمباری میں چھ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں
ایران: تین امریکی ہوائی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے اور نیتن یاہو کو دھمکی
تہران غیر سرکاری سفارتی راستوں کے لیے کھلا ہے: فیدان
ایران اور لبنان میں اسکولوں اور اسپتالوں پر حملے غزّہ پر حملوں سے مشابہہ ہیں: اردوعان
ترکیہ  نے اپنا نیا ڈرون طیارہ K2 متعارف کروا دیا