ترکیہ
2 منٹ پڑھنے
ترکیہ کی طرف سے لبنان-قبرصی یونانی بحری معاہدے کی مذمت
ترکیہ کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ترک قبرصی باشندوں کے حقوق کو نظرانداز کرتا ہے اور جزیرے کی مجموعی نمائندگی نہیں کرتا۔
ترکیہ کی طرف سے لبنان-قبرصی یونانی بحری معاہدے کی مذمت
کیچیلی کا کہنا ہے کہ ترکی کسی بھی سمندری انتظام میں ترک قبرصیوں کے حقوق کو بنیادی سمجھتا ہے۔ / AA

ترکیہ نے لبنان اور یونانی انتظامیہ کے زیرِ انتظام قبرص کے درمیان دوبارہ دستخط شدہ خصوصی اقتصادی زون (EEZ) کی حد بندی کے معاہدے پر تنقید کی ہے۔

ترکیہ کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ترک قبرصی باشندوں کے حقوق کو نظرانداز کرتا ہے اور جزیرے کی مجموعی نمائندگی نہیں کرتا۔

ترک وزارتِ خارجہ کے ترجمان اونجو کیچیلی نے اس معاملے پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'X' پر اپنی پوسٹ  میں کہاہے  کہ 2003 سےقبرصی یونانی انتظامیہ نے علاقائی ساحلی ریاستوں کے ساتھ دو طرفہ سمندری حد بندی کے معاہدے کیے ہیں، جن میں جزیرے کے مساوی حقدار قبرصی ترک باشندوں  کی شراکت نہیں تھی۔۔

انہوں نے کہا کہ لبنان اور یونانی انتظامیہ کے درمیان یہ معاہدہ دراصل 2007 میں طے پایا تھا مگر یہ 26 نومبر کو دوبارہ دستخط ہونے تک نافذ العمل نہیں ہوا۔

اگرچہ معاہدے کا محیط علاقہ ترکیہ کے برِّ بحری شیلف سے باہر ہے، جسے انقرہ نے 18 مارچ 2020 کو اقوامِ متحدہ کے ساتھ رجسٹر کرایا تھا، انہوں نے کہا کہ ترکیہ اس معاملے کو مسئلہ  قبرص کے تناظر میں دیکھتا ہے اور کسی بھی  سمندری معاہدے  میں قبرصی  ترک باشندوں کے حقوق کو مرکزی حیثیت دیتا ہے۔

انہوں نے کہا، 'لبنان یا دیگر ساحلی ریاستوں کی جانب سے قبرصی  یونانی انتظامیہ کے ساتھ ہونے والا کوئی بھی معاہدہ جزیرے پر قبرصی ترک باشندوں کے مساوی حقوق اور مفادات سے براہِ راست  تعلق رکھتا ہے' اور اس بات کا اعادہ کیا کہ قبرصی یونانی  فریق ، قبرصی ترک باشندوں یا پورے جزیرے کی نمائندگی نہیں کرتا اور ایسے معاملات میں یکطرفہ اقدام کرنے کا اختیار نہیں رکھتا جو پورے قبرص کو مربوط کرتے ہوں۔

کیچیلی نے علاقائی فریقین اور بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ وہ قبرصی یونانی  انتظامیہ کے یکطرفہ اقدام کی تائید نہ کریں، کیونکہ اس طرح کے اقدامات قبرصی ترک  باشندوں کے جائز حقوق اور مفادات کو زد پہنچاتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا، "ترکیہ، شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کے ساتھ مل کر، قبرصی ترک باشندوں کے حقوق اور مفادات کا پرعزم دفاع جاری رکھے گا۔"

 

دریافت کیجیے
ترکیہ کی طرف سے چار فلسطینیوں کی ہلاکت اور اسرائیل کی 'نسل کشی پالیسی' کی مذمت
شمال مغربی پاکستان میں پولیس چوکی پر دہشت گرد حملہ، 15 افراد لقمہ اجل
اقوام متحدہ کے سربراہ کا 17 سال بعد دورہ دمشق
ٹرمپ: اب ایران مذاکرات کے لیے زیادہ سنجیدگی سے کام لے رہا ہے
شمالی یوکرین میں سومی ڈاک خانے پر روسی ڈراون حملے میں 2 افراد ہلاک
فرانس اور ہسپانیہ میں بے قابو ہونے والی جنگلات کی آگ کے باعث دو لاکھ افراد فرار
ترکیہ: یوروفائٹر ٹائیفون کی تربیت کے لئے پہلا پائلٹ گروپ برطانیہ بھیجا جا رہا ہے
ایران، جنگ کی بھاری قیمت چُکا رہا ہے: روبیو
امریکی اسٹاک مرکیٹوں میں تناو، تیل 100 ڈالر سے اوپر چلا گیا
اسرائیلی فوج نے تین فلسطینیوں کو قتل کر کے لاشیں قبضے میں لے لیں
روسی گودام پر یوکرینی ڈرون حملے
جاپان امید کرتا ہے کہ فلسطین کے لیے حمایت میں اضافہ ہوگا
ترکیہ COP31 پروگرام میں رضاکار بننے کے لیے درخواستیں جاری
چین نے آبنائے تائیوان میں دو روزہ فوجی مشقیں شروع کر دیں
ایران: ہمارا دفاعی نظریہ بالکل واضح ہے، "آنکھ کے بدلے آنکھ"