ترکیہ
2 منٹ پڑھنے
ترکیہ کی طرف سے لبنان-قبرصی یونانی بحری معاہدے کی مذمت
ترکیہ کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ترک قبرصی باشندوں کے حقوق کو نظرانداز کرتا ہے اور جزیرے کی مجموعی نمائندگی نہیں کرتا۔
ترکیہ کی طرف سے لبنان-قبرصی یونانی بحری معاہدے کی مذمت
کیچیلی کا کہنا ہے کہ ترکی کسی بھی سمندری انتظام میں ترک قبرصیوں کے حقوق کو بنیادی سمجھتا ہے۔ / AA
28 نومبر 2025

ترکیہ نے لبنان اور یونانی انتظامیہ کے زیرِ انتظام قبرص کے درمیان دوبارہ دستخط شدہ خصوصی اقتصادی زون (EEZ) کی حد بندی کے معاہدے پر تنقید کی ہے۔

ترکیہ کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ترک قبرصی باشندوں کے حقوق کو نظرانداز کرتا ہے اور جزیرے کی مجموعی نمائندگی نہیں کرتا۔

ترک وزارتِ خارجہ کے ترجمان اونجو کیچیلی نے اس معاملے پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'X' پر اپنی پوسٹ  میں کہاہے  کہ 2003 سےقبرصی یونانی انتظامیہ نے علاقائی ساحلی ریاستوں کے ساتھ دو طرفہ سمندری حد بندی کے معاہدے کیے ہیں، جن میں جزیرے کے مساوی حقدار قبرصی ترک باشندوں  کی شراکت نہیں تھی۔۔

انہوں نے کہا کہ لبنان اور یونانی انتظامیہ کے درمیان یہ معاہدہ دراصل 2007 میں طے پایا تھا مگر یہ 26 نومبر کو دوبارہ دستخط ہونے تک نافذ العمل نہیں ہوا۔

اگرچہ معاہدے کا محیط علاقہ ترکیہ کے برِّ بحری شیلف سے باہر ہے، جسے انقرہ نے 18 مارچ 2020 کو اقوامِ متحدہ کے ساتھ رجسٹر کرایا تھا، انہوں نے کہا کہ ترکیہ اس معاملے کو مسئلہ  قبرص کے تناظر میں دیکھتا ہے اور کسی بھی  سمندری معاہدے  میں قبرصی  ترک باشندوں کے حقوق کو مرکزی حیثیت دیتا ہے۔

انہوں نے کہا، 'لبنان یا دیگر ساحلی ریاستوں کی جانب سے قبرصی  یونانی انتظامیہ کے ساتھ ہونے والا کوئی بھی معاہدہ جزیرے پر قبرصی ترک باشندوں کے مساوی حقوق اور مفادات سے براہِ راست  تعلق رکھتا ہے' اور اس بات کا اعادہ کیا کہ قبرصی یونانی  فریق ، قبرصی ترک باشندوں یا پورے جزیرے کی نمائندگی نہیں کرتا اور ایسے معاملات میں یکطرفہ اقدام کرنے کا اختیار نہیں رکھتا جو پورے قبرص کو مربوط کرتے ہوں۔

کیچیلی نے علاقائی فریقین اور بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ وہ قبرصی یونانی  انتظامیہ کے یکطرفہ اقدام کی تائید نہ کریں، کیونکہ اس طرح کے اقدامات قبرصی ترک  باشندوں کے جائز حقوق اور مفادات کو زد پہنچاتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا، "ترکیہ، شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کے ساتھ مل کر، قبرصی ترک باشندوں کے حقوق اور مفادات کا پرعزم دفاع جاری رکھے گا۔"

 

دریافت کیجیے
ترکیہ کے مشرق وسطی میں اپنے شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی اقدامات
ایرانی رہنما: ایران دشمن کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا، ہم ہمسایہ ممالک سے معذرت خواہ ہیں
یوکرین کی ایک رہائشی عمارت پر روسی حملے میں متعدد افراد ہلاک
ایردوان اور میلونی نے مشرق وسطیٰ کے بڑھتے ہوئے بحران کے درمیان علاقائی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا
اقوام متحدہ کا مشرق وسطی میں پھیلتی ہوئی جنگ کے باعث 'سنگین انسانی ہنگامی صورتحال' کا اعلان
امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ کے پہلے 36 گھنٹوں میں 3,000 سے زیادہ فضائی حملے کیے: رپورٹ
چین: مشرقِ وسطیٰ میں احتیاط سے کام لیا جائے
یورپی یونین: ترک مصنوعات پر 'میڈ ان ای یو' لیبل چسپاں ہو گا
امریکہ: ہم بھارت کو چین کی طرح اپنا رقیب نہیں بننے دیں گے
امریکی تحقیقات میں ایرانی اسکول پر حملے میں امریکی کردار کی تائید ہوتی نظر آتی ہے — رپورٹ
نیپال میں 2025 کی بغاوت کے بعد پہلے پارلیمانی انتخابات
سعودی عرب نے 3 بیلسٹک میزائلوں کو ناکارہ کر دیا
ایران میں برّی کاروائی کا سوچنا فی الحال وقت کا زیاں ہو گا: ٹرمپ
اسرائیل: ہم نے، بیروت کے جنوبی مضافات پر، نئے فضائی حملے کئے ہیں
اسپین: ٹرمپ سے اپیلیں کرتے رہنا بالکل بے فائدہ ہے