ترک صدارتی محکمہ اطلاعات کے ڈائریکٹر برہاندین دُران کا کہنا ہے جنوبی افریقہ میں منعقدہونے والے جی20 سربراہی اجلاس کے دوران ترکیہ نے علاقائی امن اور عالمی معاشی استحکام کے لیے اپنی مضبوط وابستگی کی تصدیق کی ہے۔
دُران نے ترکیہ کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم این سوسیال پراپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ صدر رجب طیب ایردوان نے اجلاس کے سیشنوں، پریس کانفرنسوں اور متعدد دوطرفہ ملاقاتوں میں انقرہ کے مؤقف کو مؤثر انداز میں پیش کیا ہے اور دفاع، تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی اور ہوابازی میں تعاون کے امور پر بات چیت ہوئی ہے۔
دُران نے ملک کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثرورسوخ پرتوجہ مبذول کرائی اور ایردوان کے غزہ میں انسانی بحران اور عالمی سطح پر اس حوالے سے اقدامات کی ضرورت پر زور دینے کو نمایاں کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترکیہ نے یوکرین-روس جنگ کے معاملے میں تعمیری پالیسیاں اپنائی ہیں اور وسیع پیمانے پر شراکت کی حامل عالمی معیشت کے مطالبات کو بھی اجاگر کیا ہے۔
ترکیہ COP31 کی میزبانی کرے گا
آئندہ کی صورتِ حال پر اپنا جائزہ پیش کرتے دُران نے اگلے نومبر میں ہونے والی اقوامِ متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی کانفرنس COP31 کے لیے ترکیہ کی صدارت اور میزبانی کی طرف اشارہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ترکیہ موسمیاتی اقدامات میں ایک نمایاں کردار ادا کر رہا ہے اور 2053 تک صفر اخراج کے ہدف اور زیرو ویسٹ تحریک جیسے اقدامات ملک کے پائیدار ترقی کے عزم کی مثالیں ہیں۔
"ہمارے صدر رجب طیب ایردوان کی جانب سے وضع کردہ 2053 تک صفر اخراج کا ہدف اس حقیقت کا مظہر ہے کہ ترکیہ وہ ترقیاتی نقطۂ نظر اپناتا ہے جو نہ صرف حال بلکہ مستقبل کو بھی مدِ نظر رکھتا ہے۔
یہ وژن، جو توانائی سے لے کر نقل و حمل، شہری منصوبہ بندی سے لے کر پیداوار تک تمام پالیسیاں سبز تبدیلی کو ترجیح دیتی ہیں، COP31 کے عمل کے لیے مضبوط قیادت کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔”
انہوں نے کہا"زیرو ویسٹ مہم، جو خاتونِ اوّل امینہ ایردوان کی سرپرستی میں ایک عالمی ماحولیاتی تحریک بن چکی ہے، ایک زیادہ قابلِ زیست دنیا کے لیے متاثر کن کامیابی کی کہانیوں میں سے ایک ہے۔
فضلے کو کم کرنا، وسائل کا مؤثر استعمال اور فطرت کے ساتھ باعزت رہن سہن کی ثقافت کو فروغ دینا وہ مقاصد ہیں جو COP31 کے نصب العین کے عین مطابق ہیں۔”
انہوں نے بتایا کہ"مجھے یقین ہے کہ ہمارے ملک میں ہونے والا یہ تاریخی اجلاس ایسا عمل ہوگا جس میں ماحولیاتی سفارت کاری کا دل اناطولیہ میں دھڑکے گا اور عالمی حل کی گونج ترکیہ سے بلند ہو گی۔"

















