ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوعان نے روس۔یوکرین جنگ سے منسلک حملوں کے حوالے سے خبردار کیا ہےکہ بحیرہ اسود میں تجارتی و مسافر بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنانا کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے۔
منگل کو دارالحکومت انقرہ میں 16ویں سفیروں کی کانفرنس سے خطاب میں اردوعان نے کہا ہے کہ یہ حملے بحرِ اسود میں جہاز رانی کی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں اور انقرہ نے اس معاملے پر دونوں فریقین کو خبردار کیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ "ہم نے مونٹریو کنوینشن کو سختی سے نافذ کیا ہے جس کی مدد سے جنگ کو بحرِ اسود تک پھیلنے سے روکنا ممکن ہوا ہے۔ تاہم حالیہ باہمی حملے علاقے میں محفوظ سیروسفر کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ تجارتی و مسافر بردار جہازوں کو نشانہ بنانا کسی کے بھی مفادمیں نہیں ہے۔ ہم نے اس معاملے میں اپنی وارننگ واضح طور پر دونوں فریقین تک پہنچا دی ہے"۔
ترکیہ پہلے بھی اپنی مخصوص اقتصادی حدود کے اندر جہازوں پر حملوں کو ناقابلِ قبول قرار دے چُکاہے۔
اردوعان نے کہا ہےکہ اپنے مفادات کا دفاع کرنے اور 'اپنے بھائیوں کی طرف مدد کا ہاتھ بڑھانے' کے لیے ' ترکیہ کے پاس مضبوط ہونے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہے۔حماس کی محتاط پالیسی کی بدولت غزہ میں جنگ بندی بڑی حد تک برقرار رہی ہے اور اس وقت ترجیح جنگ بندی کو برقرار رکھنا اور امداد کی بلا روک ٹوک فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
غزّہ کے لئے انسانی امداد پالیسی
بحرانی علاقوں کے لئے ترکیہ کے سفارتی اقدامات کے بارے میں انہوں نے کہا ہے کہ انقرہ نے پابندیوں کے باوجود غزہ کو 103,000 ٹن سے زائد انسانی امداد پہنچا کرایک فرق پیدا کیا ہے۔
غزہ میں تعمیر نو کے فوراً آغاز کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ "غزہ میں بہت سی مائیں اپنے بچوں کی، شریکِ حیات اپنے ساتھیوں کی اور بچے اپنی ماں باپ اور ساتھیوں کی تلاش میں ہیں یا ان کے حالات کے بارے میں خبر کا انتظار کر رہے ہیں"۔
ہزاروں بچوں کے خاندان اور گھر کھو دینے اور نسل کشی کے زندہ شاہد بن جانے کا ذکر کرتے ہوئے اردوعان نے غزہ کے کل 365 مربع کلومیٹرپر محیط چھوٹے سے رقبے اور تباہی کے پیمانے پر روشنی ڈالی اور کہا ہےکہ اس علاقے پر 200,000 ٹن سے زائد دھماکہ خیز مواد گرایا گیا ہے، جو 14 ایٹمی بموں کے برابر ہے۔
شام کے لئے نیا دور، مہاجرین کی وطن واپسی
روس۔یوکرین جنگ میں ثالثی کے حوالے سے، صدر اردوعان نے استنبول میں دونوں فریقوں کو مذاکراتی میز پر لانے اور بحیرہ اسود راہداری اور قیدیوں کے تبادلے جیسے اقدامات کی قیادت کرنے میں ترکیہ کے کردار پر روشنی ڈالی اور کہا ہے کہ ہمارے اقدامات کے واضح انسانی نتائج نکلے ہیں۔
تل ابیب کے شام کے خلاف جارحانہ اقدامات کے بارے میں اردوعان نے کہا ہے کہ بشار الاسد کی معزولی کے بعد ایک سال قبل نئی انتظامیہ نے اقتدار سنبھالا اور فی الحال اس جنگ زدہ ملک میں پائیدار سلامتی اور استحکام کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ اسرائیل ہے ۔
شامی خانہ جنگی پر تبصرہ کرتے ہوئےصدر رجب طیب اردوعان نے 600,000 سے زائد اموات، مشہور سدنایا جیل جیسے مقامات پر وسیع پیمانے پر تشدد اور لاکھوں شہریوں کی ہجرت کا ذکر کیا اورکہا ہے کہ ترکیہ میں موجود شامی پناہ گزینوں میں سے وطن واپس لوٹنے والوں کی تعداد 580,000 تک پہنچ گئی ہے۔ جیسے جیسے استحکام قائم ہوگا، پناہ گزینوں کی رضاکارانہ اور باوقار واپسی میں اضافہ ہوگا۔
انہوں نے شامی شہریوں پر تقریباً 14 سالہ حملوں کے دوران اکثر ممالک کی خاموشی پر بھی تنقید کی اور کہا ہے کہ" انقرہ، شام میں 10 مارچ کے معاہدے کے نفاذ کے لیے، ضروری اقدامات کا مطالبہ کر رہا ہے۔ان اقدامات کا تعلق YPG دہشت گرد گروپ کے زیرِ اثر گروپ SDF سے ہے۔اگر اس معاملے میں مزاحمت کی گئی تو صورتحال کے بحران میں بدلنے کا خطرہ ہے"۔
اردوعان نے کہا ہےکہ انقرہ، باکو کے ساتھ گفت و شنید میں ہے اور ایریوان کے ساتھ معمول پر واپسی کے عمل کو آگے بڑھا رہا ہے۔ آرمینیا اور آذربائیجان دونوں امن معاہدے پر دستخط کے قریب ہیں۔
ترکیہ کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی پہچان
صدر رجب طیب اردوعان نے عالمی سطح پر ترکیہ کی بڑھتی ہوئی پہچان پر بھی زور دیا اور کہا ہے کہ آج دور دراز ممالک میں ترکی زبان بولنے والے لوگ موجود ہیں۔ ترکیہ سے فارغ التحصیل طالبعلم اس وقت اپنے ملکوں میں سیاست، کاروبار اور سفارت کاری کے شعبوں میں کردار ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا ہےکہ انقرہ ان تاریخی مواقع کا مؤثر طریقے سے فائدہ اٹھانا جاری رکھے گا۔
اردوعان نے اس بات پر زور دیا ہےکہ حالیہ واقعات نے انسانی بحرانوں، عالمی عدم مساوات، جنگوں اور عدم استحکام کو حل کرنے کے بجائے مزید گھمبیر کر دیا ہے۔
انہوں نے پہلی اور دوسری جنگِ عظیم کی تباہ کاریوں، ہولوکاسٹ، اور اس کے بعد ہونے والی ناکامیوں کی نشاندہی کی جو، روانڈا میں نسل کشی، بوسنیا میں قتل عام اور عراق، میانمار، صومالیہ اور وسطی افریقہ میں تنازعات جیسے مظالم کو روکنے میں، ناکامی کا باعث بنیں۔














