سیاست
3 منٹ پڑھنے
شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اون کی امریکہ سے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے مطالبے کو واپس لینے کی اپیل
"اگر امریکہ ہمیں غیر جوہری بنانے کی غیر معقول ضد چھوڑ دے، حقیقت کو قبول کرے، اور حقیقی پرامن بقائے باہمی چاہے، تو ہمارے لیے امریکہ کے ساتھ بات چیت نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔"
شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اون کی امریکہ سے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے مطالبے کو واپس لینے کی اپیل
کِم کا کہنا ہے کہ جوہری ہتھیار بنانا ایک بقا کا معاملہ تھا۔ / AP Archive
22 ستمبر 2025

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے کہا ہے کہ اگر امریکہ یہ اصرار چھوڑ دے کہ شمالی کوریا اپنے جوہری ہتھیار ترک کرےتو ان کے ملک کے لیے امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے گریز کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

اتوار کو سپریم پیپلز اسمبلی میں ایک تقریر کے دوران کم نے کہا کہ انہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنی ملاقاتوں کی خوشگوار یادیں ہیں۔ دونوں رہنما ٹرمپ کی پہلی صدارت کے دوران تین بار ملے تھے۔

کم نے کہا، "اگر امریکہ ہمیں غیر جوہری بنانے کی غیر معقول ضد چھوڑ دے، حقیقت کو قبول کرے، اور حقیقی پرامن بقائے باہمی چاہے، تو ہمارے لیے امریکہ کے ساتھ  بات چیت نہ  کرنے کی  کوئی وجہ نہیں۔"

کم نے مزید کہا کہ ملک کے لیے جوہری ہتھیار بنانا بقا کا مسئلہ ہے تاکہ امریکہ اور جنوبی کوریا کی سنگین دھمکیوں کے پیش نظر اپنی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے واشنگٹن اور سیول کی جانب سے حالیہ مذاکرات کی پیشکشوں کو غیر مخلص قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا، کیونکہ ان کے مطابق ان کا بنیادی مقصد شمالی کوریا کو کمزور کرنا اور ان کی حکومت کو ختم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی کوریا کی جانب سے شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کو مرحلہ وار ختم کرنے کی تجویز اس بات کا ثبوت ہے۔

جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے جون میں عہدہ سنبھالنے کے بعد سے شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے اور اعتماد سازی کے اقدامات اور بالآخر شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کی تجاویز پیش کی ہیں۔

لی نے کہا کہ شمالی کوریا کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کے لیے  ساز گار ماحول  پیدا کرنا ضروری ہے اور ان کوششوں میں ٹرمپ کا کردار  کلیدی ہو گا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کم کا جوہری پروگرام واشنگٹن پر دباؤ ڈالنے کے لیے ہے تاکہ شمالی کوریا کو جوہری طاقت کے طور پر تسلیم کیا جائے اور اقتصادی و سلامتی کے حوالے سے مراعات حاصل کی جا سکیں۔

وہ  روایتی اتحادیوں روس اور چین کے ساتھ تعاون کو مضبوط کر کے اپنی پوزیشن کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، جو امریکہ کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے ایک ابھرتی ہوئی شراکت داری کا حصہ ہے۔

سیول میں یہ خدشہ بڑھ رہا ہے کہ شمالی کوریا جزیرہ نما کوریا پر جوہری تنازع کو کم کرنے کی مستقبل کی کوششوں میں جنوبی کوریا کی آواز کو نظر انداز کر سکتا ہے کیونکہ شمالی کوریا براہ راست امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔

دریافت کیجیے
ایران-امریکہ مذاکرات استنبول میں ہونے کا امکان
اسرائیل کی خواہش ہے کہ امریکہ ایران پر حملہ کرے، لیکن ٹرمپ سخت سیاسی مذاکرات کے حق میں ہیں: رپورٹ
ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کو 6.67 بلین ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری دے دی
ابوظہبی امن مذاکرات میں یوکرین میں جنگ بندی پر بحث ہوئی ہے، زیلنسکی
ایران کی امریکی فوجی اڈوں اور طیارہ بردار جہازوں پر جوابی حملے کی دھمکی
ایران: اگر ہمارے پڑوسی ممالک کو ہم پر حملے میں استعمال کیا گیا تو انہیں 'دشمن' سمجھا جائے گا
جاپانی وزیر اعظم تاکائچی نے فروری میں انتخابات کے لیے پارلیمنٹ کو تحلیل کر دیا
امریکہ، یوکرین اور روس متحدہ عرب امارات میں مذاکرات کریں گے، کریملن
ٹرمپ کے گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کے حربوں کے بعد فرانس نے گرین لینڈ میں نیٹو مشقوں کا مطالبہ کر دیا
ٹرمپ نے امریکہ کے زیرِ کنٹرول گرین لینڈ کی ایک ای اے آئی تصویر شیئر کی ہے
گرین لینڈ نے امریکی دباؤ کے خلاف آرکٹک میں نیٹو مشن کی تجویز پیش کر دی
امریکی وزیرِ خزانہ نے یورپی یونین کی گرین لینڈ پر بدلے کی کارروائی کو 'غیر عقلمند' قرار دیا
امریکہ 'قواعد پر مبنی نظام سے دور ہوتا جا رہا ہے': جرمن چانسلر
ایرانی سفیر کا احتجاجات کے درمیان سیکیورٹی مستحکم ہونے کا دعویٰ
ہم گرین لینڈ کے معاملے پر نیٹو سے بات چیت کر رہے ہیں، ٹرمپ
اگر ٹرمپ 'جلدی نہیں کرتے' تو گرین لینڈ روس میں شامل ہونے کا فیصلہ کر سکتا ہے، میدودیف
ٹرمپ: غزہ کے لیے 'امن بورڈ' کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے
گرین لینڈ کی سیاسی جماعتوں کا مشترکہ اعلامیہ:"ہم امریکہ کے ماتحت نہیں آنا چاہتے"
اگر ہم ایسا نہیں کرتے، تو روس یا چین گرین لینڈ پر قبضہ کر لیں گے، ٹرمپ
خامنہ ای کی طرف سے ملک گیر احتجاجات کی مذمت