سیاست
3 منٹ پڑھنے
شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اون کی امریکہ سے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے مطالبے کو واپس لینے کی اپیل
"اگر امریکہ ہمیں غیر جوہری بنانے کی غیر معقول ضد چھوڑ دے، حقیقت کو قبول کرے، اور حقیقی پرامن بقائے باہمی چاہے، تو ہمارے لیے امریکہ کے ساتھ بات چیت نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔"
شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اون کی امریکہ سے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے مطالبے کو واپس لینے کی اپیل
کِم کا کہنا ہے کہ جوہری ہتھیار بنانا ایک بقا کا معاملہ تھا۔ / AP Archive

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے کہا ہے کہ اگر امریکہ یہ اصرار چھوڑ دے کہ شمالی کوریا اپنے جوہری ہتھیار ترک کرےتو ان کے ملک کے لیے امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے گریز کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

اتوار کو سپریم پیپلز اسمبلی میں ایک تقریر کے دوران کم نے کہا کہ انہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنی ملاقاتوں کی خوشگوار یادیں ہیں۔ دونوں رہنما ٹرمپ کی پہلی صدارت کے دوران تین بار ملے تھے۔

کم نے کہا، "اگر امریکہ ہمیں غیر جوہری بنانے کی غیر معقول ضد چھوڑ دے، حقیقت کو قبول کرے، اور حقیقی پرامن بقائے باہمی چاہے، تو ہمارے لیے امریکہ کے ساتھ  بات چیت نہ  کرنے کی  کوئی وجہ نہیں۔"

کم نے مزید کہا کہ ملک کے لیے جوہری ہتھیار بنانا بقا کا مسئلہ ہے تاکہ امریکہ اور جنوبی کوریا کی سنگین دھمکیوں کے پیش نظر اپنی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے واشنگٹن اور سیول کی جانب سے حالیہ مذاکرات کی پیشکشوں کو غیر مخلص قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا، کیونکہ ان کے مطابق ان کا بنیادی مقصد شمالی کوریا کو کمزور کرنا اور ان کی حکومت کو ختم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی کوریا کی جانب سے شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کو مرحلہ وار ختم کرنے کی تجویز اس بات کا ثبوت ہے۔

جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے جون میں عہدہ سنبھالنے کے بعد سے شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے اور اعتماد سازی کے اقدامات اور بالآخر شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کی تجاویز پیش کی ہیں۔

لی نے کہا کہ شمالی کوریا کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کے لیے  ساز گار ماحول  پیدا کرنا ضروری ہے اور ان کوششوں میں ٹرمپ کا کردار  کلیدی ہو گا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کم کا جوہری پروگرام واشنگٹن پر دباؤ ڈالنے کے لیے ہے تاکہ شمالی کوریا کو جوہری طاقت کے طور پر تسلیم کیا جائے اور اقتصادی و سلامتی کے حوالے سے مراعات حاصل کی جا سکیں۔

وہ  روایتی اتحادیوں روس اور چین کے ساتھ تعاون کو مضبوط کر کے اپنی پوزیشن کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، جو امریکہ کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے ایک ابھرتی ہوئی شراکت داری کا حصہ ہے۔

سیول میں یہ خدشہ بڑھ رہا ہے کہ شمالی کوریا جزیرہ نما کوریا پر جوہری تنازع کو کم کرنے کی مستقبل کی کوششوں میں جنوبی کوریا کی آواز کو نظر انداز کر سکتا ہے کیونکہ شمالی کوریا براہ راست امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔

دریافت کیجیے
سرحدی بارودی سرنگ سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے تو شمالی کوریا نے ایک بیلسٹک میزائل داغا
امریکی عہدیدار ایران کے خلاف اقدامات پر بات چیت کے لیے کیمپ ڈیوڈ میں یکجا ہوئے، ایکسیوس
ٹرمپ کا ترکیہ پر عائد CAATSA پابندیوں کو ہٹانے پر مثبت موقف کا مظاہرہ
بھارت نے پنجاب کی سرحدوں کے قریب دو پاکستانی شہریوں کو  مار ڈالا
حکومتِ یمن: "طائز میں حوثیوں کے ساتھ گھمسان کی جنگ ہو رہی ہے"
ترکیہ وزیر برائے قومی دفاع یاشار گولیر کی آذربائیجان اور جارجیا کے ہم منصبوں سے ملاقات
متحدہ امریکہ نے شام کو دفاعی تجارتی پابندیوں کی فہرست سے  خارج کر دیا
جنوبی کوریا امریکہ میں 200 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا
ریحانلی قتل عام کا ملزم گرفتار کرتےہوئے ترکیہ لایا گیا
ٹینیسی: زہریلے انجیکشنز کے باوجود  سزائے موت پانے والی خاتون بچ گئی: وکلا
اسرائیل کا حملہ، صحافی النجار ہلاک
امریکہ:200 سال بعد خاتون کو سزائے موت دینے کا فیصلہ
فلائی دبئی : پائلٹوں کی لڑائی کی وجہ سے پرواز سعودی عرب میں اتر گئی
میانمار : شمالی راکھائن میں کم از کم 50 افراد ہلاک
ٹوکیو میں بارشوں کا 34 واں مسلسل دن