سیاست
2 منٹ پڑھنے
وینیزویلا کی عبوری صدر روڈریگز کی امریکی انتظامیہ سے تعاون فراہم کرنے کی اپیل
ہم امریکی  انتظامیہ کو بین الاقوامی قانون کے دائرے میں مشترکہ ترقی کی طرف مائل تعاون کے ایجنڈے پر ہمارے ساتھ مل کر کام کرنے کی دعوت دیتے ہیں
وینیزویلا کی عبوری صدر روڈریگز  کی امریکی انتظامیہ سے تعاون  فراہم کرنے کی اپیل
"President Donald Trump, our peoples and our region deserve peace and dialogue, not war," Rodriguez said. / Reuters
5 جنوری 2026

ونیزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز نے اتوار کو کہا کہ وہ امریکی حکومت کو اپنے ملک کے ساتھ کام کرنے کی دعوت دے رہی ہیں، یہ دعوت امریکی افواج کے ایک حملے کے بعد آئی ہے جس میں صدر نکولا مادورو اور ان کی اہلیہ کو "حراست میں لیا گیا" اور فوجداری الزامات کا جوابدہ ٹہرانے کے لیے  امریکہ لایا گیا ۔

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر اپنی پوسٹ میں کہا ہے کہ"ہم امریکی  انتظامیہ کو بین الاقوامی قانون کے دائرے میں مشترکہ ترقی کی طرف مائل تعاون کے ایجنڈے پر ہمارے ساتھ مل کر کام کرنے کی دعوت دیتے ہیں تاکہ پائیدار معاشرتی ہم آہنگی کو مضبوط کیا جا سکے۔"

ان کا کہنا ہے کہ "ہم  امریکہ اور وینزویلا کے درمیان، اور وینزویلا اور خطے کے دیگر ممالک کے درمیان باہمی مساوات اور عدم مداخلت کی بنیاد پر متوازن اور باعزت بین الاقوامی تعلقات کی طرف پیش قدمی کو ترجیح دیتے ہیں۔"

روڈریگز نے مزید کہا کہ" ہمارے عوام اور ہمارا خطہ امن اور مکالمے کے مستحق ہیں،  نہ کہ جنگ کے" اور یہ ہمیشہ صدر نکولا  مادورو کا پیغام رہا ہے، اور یہ اس وقت پورے وینزویلا کا پیغام ہے۔

اتوار کی صبح ، جب ٹرمپ سے روڈریگز کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ "تعاون کر رہی ہیں"، اور ساتھ ہی خبردار کیا کہ اگر وہ ایسا نہ کریں تو وہ "ممکنہ طور پر مادورو سے بھی بدتر صورتحال کا سامنا کریں گی۔"

جب پوچھا گیا کہ انہیں روڈریگز سے کیا چاہیے تو انہوں نے کہا، "ہمیں مکمل رسائی چاہیے۔ ہمیں تیل اور ان کے ملک کی دیگر چیزوں تک رسائی چاہیے جو ہمیں ان کا ملک دوبارہ تعمیر کرنے کی اجازت دے سکیں۔"

مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس ہفتے کی رات گئے  نیو یارک پہنچے اور انہیں بروکلن کے میٹروپولیٹن ملک بدری سینٹر میں رکھا گیا ہے۔ ان پر منشیات کی سمگلنگ سے متعلق امریکی وفاقی الزامات اور ایسے گروہوں کے ساتھ مبینہ تعاون کے الزامات ہیں جنہیں 'دہشت گرد تنظیمیں' قرار دیا گیا ہے۔

مادورو نے ان الزامات کی تردید کی ہے، اور وینزویلا کے دارالحکومت قاراقاس حکام نے جوڑے کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔