روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ یوکرین امن مذاکرات میں ابھی کرنے کے بہت سے کام ہیں۔
روسی خبر رساں ایجنسی 'آر آئی اے' کے مطابق لاوروف نے بروز منگل جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یوکرین اور یورپ پر دباؤ کے باعث خوشی منانا بے وجہ ہے کیونکہ ابھی یوکرین امن مذاکرات میں طے ہونے کا منتظر ایک طویل راستہ باقی ہے۔
لاوروف نے کہا ہے کہ "ٹرمپ کا دعوی ہے کہ انہوں نے یوکرین اور یورپ کو ان کی جگہوں پر بٹھا دیا ہے لیکن یہ قدم صورتحال کے پُر جوش خیر مقدم کی وجہ فراہم نہیں کرتا کیونکہ ابھی بہت کچھ طے ہونا باقی ہے"۔
روزنامہ ازویستیا کے مطابق روس کے نائب وزیرِ خارجہ الیگزینڈر گروشکو نے بھی کہا ہے کہ خواہ کوئی بھی معاہدہ ہو اس میں یوکرین کی نیٹو رکنیت کی تردید اور یوکرین میں غیر ملکی افواج کی تعیناتی کی ممانعت پر مبنی شقوں کی موجودگی ضروری ہوگی۔
فی الحال کوئی معاہدہ نہیں ہے
امریکہ، جنگ کے خاتمے کے مختلف منصوبوں پر روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات کی ثالثی کر چُکا ہے لیکن ٹرمپ کے بار بار کے وعدوں کے باوجود ابھی تک کوئی سمجھوتہ طے نہیں پایا۔
مذاکرات کے غور طلب پہلووں میں دوسری جنگِ عظیم کے بعدسے اس ہلاکت خیز ترین جنگ کو کیسے ختم کیا جائے؟ یوکرین کا مستقبل کیا ہوگا؟ یورپی طاقتوں کو کس حد تک کنارے لگا دیا جائے گا؟ اور امریکہ کے زیرِ ثالثی طے پانے والا امن معاہدہ پائیدار ہو گا یا نہیں؟ جیسے موضوعات شامل ہیں۔
واضح رہے کہ مشرقی یوکرین میں آٹھ سالہ جھڑپوں کے بعد روس نے فروری 2022 میں یوکرین کے خلاف باقاعدہ جنگ شروع کر دی۔ اس جنگ نے سرد جنگ کےکشیدہ ترین ادوار کے بعد ماسکو اور مغرب کے درمیان گھمبیر ترین تصادم کا آغاز کر دیا ہے۔












