پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے مضافات میں، آج بروز جمعہ، ایک مسجد میں بم دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 30 افراد ہلاک اور 130 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔
اسلام آباد پولیس کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق اسلام آباد کے علاقے ترلائی کی بڑی مسجد میں ہونے والا دھماکہ ایک خودکش حملہ تھا اور تحقیقات جاری ہیں۔
ایک سینئر پولیس اہلکارنے نام کو پوشیدہ رکھتے ہوئے اے ایف پی کو فراہم کردہ معلومات میں کہا ہے کہ جانی نقصان میں "مزید اضافہ متوقع ہے"۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے دھماکے پر "گہرے افسوس " کا اظہار کیا اور اس کی "سخت مذمت" کی ہے۔ پارلیمانی امور کے وزیر طارق فضل چودھری نے بھی X پر ایک پوسٹ میں اس حملے کی سخت مذمت کی اور "بزدلانہ عمل" کے نتیجے میں درج جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا، ساتھ ہی متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی صحت یابی کے لیے دعا کی۔ وزیر نے کہا، "ایسی دہشت گردانہ کارروائیاں ملک کے حوصلے پست نہیں کر سکتیں۔ اب ضرورت ہے کہ ہم سب امن، برداشت اور استحکام کے لیے متحد ہوں اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔"
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس حملے کی مذمت کی اور حکام کو ہدایت دی ہے کہ شہر آنے والے زخمیوں کو مختلف ہسپتالوں میں بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
واضح رہے کہ گذشتہ ماہِ نومبر میں بھی اسلام آباد میں ایک عدالت کی عمارت کے باہر خودکش حملے میں 12 افراد ہلاک ہوئے۔ یہ تازہ ترین حملہ ممنوعہ بلوچ لبریشن آرمی کے باغیوں کے جنوب مغربی بلوچستان میں اور تقریبا 50 افراد کی ہلاکت کا سبب بننے والے حملوں کے بعد کیا گیا ہے۔ فوج کے مطابق، سکیورٹی فورسز نے ان حملوں کے جواب میں آپریشن کر کے 200 سے زائد دہشت گردوں کو غیر فعال کر دیا ہے۔











