دنیا
3 منٹ پڑھنے
13 سالہ آسٹریلوی بچے نے اپنے خاندان کو بچانے کے لیے گھنٹوں تک تیراکی کی
آسٹن اپلبی تقریباً چار گھنٹے تک سمندر میں تیر کر ساحل تک پہنچا اور سمندر میں پھنسے اپنے خاندان کے لیے مدد مانگی
13 سالہ آسٹریلوی بچے نے اپنے خاندان کو بچانے کے لیے گھنٹوں تک تیراکی کی
آسٹن ایپلبی 3 فروری 2026 کو آسٹریلیا کے گِجِگینپ میں ایک انٹرویو کے دوران۔ / تصویر: اے بی سی بذریعہ اے پی / AP Archive
11 گھنٹے قبل

آسٹریلوی ساحل کے قریب سمندر میں پھنس جانے کے بعد 13 سالہ لڑکےنے اپنی ماں اور دو چھوٹے بہن بھائیوں کی زندگیاں گھنٹوں طویل تیراکی کے ذریعے بچا لیں۔

پولیس نے بتایا کہ آسٹن اپلبی نے جمعہ کو اپنی ماں جوآن اپلبی (47)، بھائی بیو (12) اور بہن گریس (8) کے ساتھ مشکلات پیش آنے کے بعد خبردار کرنے کے لیے ساحل تک 4 کلومیٹر تیر کر پہنچا۔

آسٹن نے کہا کہ اس نے ابتدائی طور پر مدد کے لیے  ہوا بھری بوٹ پر سوار ہونے کی کوشش کی جس میں پانی بھر  رہا تھا۔ اس نے کائیک چھوڑ دی اور پھر اپنا لائف جیکٹ اتار دیا کیونکہ وہ اس کی تیراکی میں رکاوٹ بن رہا تھا۔

اس نے کہا کہ اس نے قریباً چار گھنٹے طویل، تیز لہروں میں تیراکی کرتے ہوئے مثبت خیالات پر توجہ رکھنے کی کوشش کی اور مقامی وقت کے مطابق شام 6 بجے مدد کے لیے آواز لگائی۔

آسٹن نے بتایا: 'لہریں بہت  بلند تھیں اور میرے پاس لائف جیکٹ نہیں تھی۔ ... میں بس یہی سوچتا رہا — بس تیرتے رہو، بس تیرتے رہو۔' 'اور پھر آخر کار میں ساحل تک پہنچ گیا، میں نے ساحل کا فرش چھوا اور بس گر گیا۔'

یہ خاندان ریاستی دارالحکومت پرتھ سے تعلق رکھتا ہے اور وہ چُھٹی پر تھے۔ دوپہر کے قریب انہوں نے ہوٹل سے کرائے پر لیے گئے کائیکس اور پیڈل بورڈ استعمال کیے جب سمندری حالات اور تیز ہواؤں نے انہیں سمندر کی طرف کھینچنا شروع کر دیا۔

پولیس نے بتایا کہ تلاش کرنے والی ہیلی کاپٹر نے رات 8:30 بجے ماں اور دو بچوں کو لائف جیکٹ پہنے اور پیڈل بورڈ سے لپٹے ہوئے پایا۔ وہ ویسٹرن آسٹریلیا کے کوئنڈیلاپ سے 14 کلومیٹرتک دور جا چکے تھے، اور پانی میں 10 گھنٹے گزار چکے تھے۔

پولیس انسپکٹر جیمز بریڈلے نے کہا: 'اس 13 سالہ لڑکے کی بہادری  کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے — اس کی ثابت قدمی اور بہادری نے بالآخر اس کی ماں اور بہن بھائیوں کی زندگیاں بچائیں۔'

جوآن اپلبی نے منگل کو رپورٹرز کو بتایا کہ اس نے سب سے بڑے بچے کو مدد کے لیے بھیجا کیونکہ وہ تینوں بچوں کو اکیلا چھوڑ کر نہیں جا سکتی تھی۔

اس نے آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن کو بتایا: 'میرے لیے سب سے مشکل فیصلوں میں سے ایک یہ تھا کہ میں نے آسٹن سے کہا: "کوشش کرو ساحل تک پہنچواور مدد مانگو۔ یہ بہت جلد بہت سنگین ہو سکتا ہے۔"'

اس نے کہا کہ وہ پریقین تھیں کہ وہ ساحل تک پہنچ جائے گا مگر جب سورج غروب ہوا اور مدد نہیں پہنچی تو وہ شک و شبہ میں مبتلا ہو گئیں۔

اس نے کہا: 'ہم مثبت رہنے کی کوشش کر رہے تھے، ہم گا رہے تھے اور مذاق کر رہے تھے اور ... ہم اسے ایک کھیل سمجھ کر نمٹ رہے تھے جب تک سورج غروب  ہوااور تب حالات بہت بے چین ہو گئے۔ لہروں میں تیزی آتی گئی۔'

ماں نے کہا کہ جب انہیں بچایا گیا تو تینوں کانپ رہے تھے اور بیو کو سردی کی وجہ سے ٹانگوں میں احساس ختم ہو چکا تھا۔

اس نے کہا: 'میرے تین بچے ہیں۔ تینوں بچ گئے۔ یہی سب سے اہم بات تھی۔'

خاندان کے تمام چار افراد کا طبی معائنہ کیا گیا لیکن کسی کو ہسپتال داخل کرنے کی ضرورت نہیں پڑی۔

 

دریافت کیجیے
جنوبی کوریائی دفاعی فرم کا ناروے کو راکٹ فروخت کرنے کا معاہدہ
امریکہ: بھارت، ایران کی بجائے ونیزویلا سے تیل خریدے گا
ترکیہ: جمہوریہ کانگو کے ساتھ اظہارِ تعزیت
بھارت کے وزیر اعظم دورہ اسرائیل کے دوران ناچے اور گانا گایا
ایران: مذاکرات کے لیے ایک 'منظم فریم ورک' 'تشکیل پا رہا  اور آگے بڑھ رہا ہے
ترکیہ: اسرائیلی کاروائیاں بین الاقوامی کوششوں کو خطرے میں ڈال رہی ہیں
انڈونیشیا میں لرزشِ اراضی کے واقعات میں اموات کی تعداد کم از کم 64 ہو گئی
اسرائیل نے غزہ میں فائر بندی کے باوجود کم از کم 12 فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا
شام کے ایس ڈی ایف کے ساتھ انضمام کے معاہدہ پیر سے نافذ ہو جائے گا
امریکی محکمہ انصاف کی طرف سے ایپسٹین کیس سے متعلق 3 ملین نئے صفحات کا اجراء
روس نے ٹرمپ کی درخواست پر یوکرینی دارالحکومت کیف پر حملوں کو روک دیا
اسرائیل نے غزہ میں 70,000 سے زائد فلسطینیوں کی ہلاکت کا اعتراف کر لیا
امریکہ نے ایران کے خلاف مشرق وسطی میں ایک اور جنگی جہاز تعینات کیا ہے — رپورٹ
چین نے 11 مجرموں کو سزائے موت دے دی
ایران: ٹرمپ جنگ شروع کر سکتے ہیں اسے قابو میں نہیں رکھ سکتے