آسٹریلوی ساحل کے قریب سمندر میں پھنس جانے کے بعد 13 سالہ لڑکےنے اپنی ماں اور دو چھوٹے بہن بھائیوں کی زندگیاں گھنٹوں طویل تیراکی کے ذریعے بچا لیں۔
پولیس نے بتایا کہ آسٹن اپلبی نے جمعہ کو اپنی ماں جوآن اپلبی (47)، بھائی بیو (12) اور بہن گریس (8) کے ساتھ مشکلات پیش آنے کے بعد خبردار کرنے کے لیے ساحل تک 4 کلومیٹر تیر کر پہنچا۔
آسٹن نے کہا کہ اس نے ابتدائی طور پر مدد کے لیے ہوا بھری بوٹ پر سوار ہونے کی کوشش کی جس میں پانی بھر رہا تھا۔ اس نے کائیک چھوڑ دی اور پھر اپنا لائف جیکٹ اتار دیا کیونکہ وہ اس کی تیراکی میں رکاوٹ بن رہا تھا۔
اس نے کہا کہ اس نے قریباً چار گھنٹے طویل، تیز لہروں میں تیراکی کرتے ہوئے مثبت خیالات پر توجہ رکھنے کی کوشش کی اور مقامی وقت کے مطابق شام 6 بجے مدد کے لیے آواز لگائی۔
آسٹن نے بتایا: 'لہریں بہت بلند تھیں اور میرے پاس لائف جیکٹ نہیں تھی۔ ... میں بس یہی سوچتا رہا — بس تیرتے رہو، بس تیرتے رہو۔' 'اور پھر آخر کار میں ساحل تک پہنچ گیا، میں نے ساحل کا فرش چھوا اور بس گر گیا۔'
یہ خاندان ریاستی دارالحکومت پرتھ سے تعلق رکھتا ہے اور وہ چُھٹی پر تھے۔ دوپہر کے قریب انہوں نے ہوٹل سے کرائے پر لیے گئے کائیکس اور پیڈل بورڈ استعمال کیے جب سمندری حالات اور تیز ہواؤں نے انہیں سمندر کی طرف کھینچنا شروع کر دیا۔
پولیس نے بتایا کہ تلاش کرنے والی ہیلی کاپٹر نے رات 8:30 بجے ماں اور دو بچوں کو لائف جیکٹ پہنے اور پیڈل بورڈ سے لپٹے ہوئے پایا۔ وہ ویسٹرن آسٹریلیا کے کوئنڈیلاپ سے 14 کلومیٹرتک دور جا چکے تھے، اور پانی میں 10 گھنٹے گزار چکے تھے۔
پولیس انسپکٹر جیمز بریڈلے نے کہا: 'اس 13 سالہ لڑکے کی بہادری کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے — اس کی ثابت قدمی اور بہادری نے بالآخر اس کی ماں اور بہن بھائیوں کی زندگیاں بچائیں۔'
جوآن اپلبی نے منگل کو رپورٹرز کو بتایا کہ اس نے سب سے بڑے بچے کو مدد کے لیے بھیجا کیونکہ وہ تینوں بچوں کو اکیلا چھوڑ کر نہیں جا سکتی تھی۔
اس نے آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن کو بتایا: 'میرے لیے سب سے مشکل فیصلوں میں سے ایک یہ تھا کہ میں نے آسٹن سے کہا: "کوشش کرو ساحل تک پہنچواور مدد مانگو۔ یہ بہت جلد بہت سنگین ہو سکتا ہے۔"'
اس نے کہا کہ وہ پریقین تھیں کہ وہ ساحل تک پہنچ جائے گا مگر جب سورج غروب ہوا اور مدد نہیں پہنچی تو وہ شک و شبہ میں مبتلا ہو گئیں۔
اس نے کہا: 'ہم مثبت رہنے کی کوشش کر رہے تھے، ہم گا رہے تھے اور مذاق کر رہے تھے اور ... ہم اسے ایک کھیل سمجھ کر نمٹ رہے تھے جب تک سورج غروب ہوااور تب حالات بہت بے چین ہو گئے۔ لہروں میں تیزی آتی گئی۔'
ماں نے کہا کہ جب انہیں بچایا گیا تو تینوں کانپ رہے تھے اور بیو کو سردی کی وجہ سے ٹانگوں میں احساس ختم ہو چکا تھا۔
اس نے کہا: 'میرے تین بچے ہیں۔ تینوں بچ گئے۔ یہی سب سے اہم بات تھی۔'
خاندان کے تمام چار افراد کا طبی معائنہ کیا گیا لیکن کسی کو ہسپتال داخل کرنے کی ضرورت نہیں پڑی۔









